ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے، شاہراہیں بند، خیبر پختونخوا حکومت کی مذاکرات کی پیشکش

    ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے، شاہراہیں بند، ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پلان بی کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دیدئیے۔تفصیلات کے مطابق مانسہرہ کے قریب چھترپلین کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو بند کردیاگیا، بنوں میں انڈس ہائی وے پر جے یو آئی کے کارکنو ں نے درخت کاٹ کر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں،نوشہرہ میں جی ٹی روڈ پر حکیم آباد کے قریب جاری دھرنے میں مردان، چارسدہ، صوابی سے بھی کارکناں شریک ہیں، چکدرہ چوک پردھرنے سے سوات، چترال، اپر و لوئردیر اور شانگلہ جانے والے راستے بند ہیں۔مالاکنڈ میں بھی پْل چوکی پر جاری دھرنے سے مرکزی شاہراہ پر مسافروں کو آمد و رفت میں پریشانی کا سامنا ہے۔تونسہ میں کھڈ بْزدار کا مرکزی پْل بند ہے تاہم مریضوں اور مقامی افراد کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔جیکب آباد میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر قومی شاہراہ بلاک ہے۔ کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے کے بائی پاس کے مقام پر اور سکھر میں قومی شاہراہ کے دونوں اطراف دھرنے کے باعث ٹریفک بلاک ہے۔گھوٹکی ٹول پلازہ پر جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کے دھرنے سے قومی شاہراہ پر آنے اور جانے والا ٹریفک معطل ہے۔کراچی میں جے یو آئی (ف) کا دھرنا حب ریور روڈ پر جاری ہے،دھرنے میں بعض کارکن بستر اور کمبل بھی لے کر آئے ہیں۔ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ ہائی وے (آر سی ڈی شاہراہ) حب کے قریب بند ہونے سے کراچی اور بلوچستان کے درمیان آمد ورفت متاثر ہے۔سکھر میں جے یو آئی کے کارکنوں نے نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ سندھ اور پنجاب کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔گھوٹکی میں بھی نیشنل ہائی وے پر کارکنوں نے دھرنا دے دیا۔ تونسہ شریف میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر انڈس ہائی وے پر پل کھڈ بزدار کو بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے کراچی سے پشاور اور راولپنڈی کی جانب جانے والی ٹریفک معطل ہے۔نوشہرہ جی ٹی روڈ کو حکیم آباد کے مقام پر بند کر دیا گیا۔کوئٹہ میں صوبائی امیر جے یو آئی مولانا عبدالواسع نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’پلان پی کے تحت دو دو اضلاع کی سڑکیں بند کریں گے، کل خضدار اور لورالائی میں قومی شاہراہیں بند کی جائیں گی جبکہ ہفتہ کو کوئٹہ۔ جیکب آباد اور نصیرآباد اور ڑوب میں سڑکیں بند کریں گے۔مولانا عبدالواسع نے بتایا کہ 17 نومبر کو کوئٹہ۔ تفتان اور کوئٹہ۔ چمن شاہراہ بند کی جائیں گی،18 نومبر کو کوئٹہ کراچی شاہراہ بند کی جائے گی جبکہ ہفتے میں ایک دن تمام شاہراہیں ایک ساتھ بند کی جائیں گی البتہ اس دن کا تعین بعد میں ہوگا، عوام شاہراہیں بند ہونے والے دنوں میں سفر نہ کریں۔موٹر وے چوک ا سلام آباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ حکومت اداروں کو استعمال نہ کرے، میدان میں آ کر ہم سے دو،دو ہاتھ کرے۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ہم نے اس قوم کیلئے 15ملین مارچ کیے،آزادی مارچ کا قافلہ 14دن اسلام آباد میں موجود رہا،کارکنوں نے بارش اور سختی برداشت کی لیکن قائد کے حکم پر بیٹھے رہے،ایسے کارکن کسی اور جماعت میں نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خانپر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ناموس رسالتؐ کے قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کی گئی،موجودہ حکومت قادیانیوں کیلئے سہولت کار بنی ہوئی ہے۔مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ آزادی مارچ میں بھی کچھ قوتوں نے ہمیں روکنے کی کوشش کی،ہماری جنگ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ ہے،ایک طرف ختم نبوت کی دیوار میں نصب ڈالنے کی کوشش کی تو دوسری طرف پوری قوم کو کنگال کر دیا،ملک میں بدترین مہنگائی ہے،حکومت اس وقت گھبراہٹ اور خوف کا شکار ہے،حکومت کی رٹ ملک بھر میں آج ختم ہوگئی ہے۔  انہوں نے بعض وزرا ء کا نام لئے بغیرکہا کہ عمران نیازی کے اردگرد جو چمچے ہیں یہ دعا فاتحہ کر کے کسی اور پارٹی میں چلے جائیں گے،عمران نیازی اتنا تو کریں کہ کل جب ان کی سیاسی موت ہو تو دو شخص فاتحہ پڑھنے والے بھی ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ احتجاج کے دوران کوشش ہے کہ عام عوام کی زندگی متاثر نہ ہو،ملک بھر کا لاک ڈاؤن کرنا ہماری مجبوری ہے، اسی مقام پر نماز جمعہ بھی ادا کی جائے گی پورا شہر اس میں شرکت کرے۔انہوں نے کہا کہپلان بی عمران خان کو بھگا کر دم لے گا،ہمیں چھوٹی جماعت کہنے والوں نے دیکھا کہ ہم نے 18لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع کیے،جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہماری تحریک جاری رہے گی۔حکومت آزادی مارچ سے قبل  اٹک پل بند نہیں کر سکی ہم کل اٹک پل بند کر کے دکھائیں گے۔حکومت اداروں کو استعمال نہ کرے میدان میں آ کر ہم سے دو دو ہاتھ کرے،ہم جمعہ کو مراد سعید ٹنل بھی بند کریں گے۔دوسری جانبخیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے جے یو آئی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اپوزیشن کے ساتھ سختی برتی جائے۔امن وعامہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی طرح پشاور میں بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ میں حکومت نے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی، تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر بھی مارچ کو کامیاب نہ بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سڑکیں اور شاہراہیں بند کرنے سے عوام کو مشکلات ہوں گی۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ حکومتی رٹ کسی صورت چیلنج نہیں ہونے دیں گے۔

دھرنے/پیشکش

مزید : صفحہ اول