مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن برقرار، معمولات زندگی بدستور مفلوج 

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن برقرار، معمولات زندگی بدستور مفلوج 

  



سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 103 ویں روزبھی غیر انسانی بھارتی فوجی لاک ڈاؤن جاری رہنے کے باعث وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں معمولات زندگی بدستور مفلوج رہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لینڈ لائن ٹیلی فون کام کر رہے ہیں اور پوسٹ پیڈ موبائل فون کے ذریعے فون کالز کی اجازت ہے تاہم انٹرنیٹ سمیت پری پیڈ موبائل سروس اور ایس ایم ایس پر مسلسل پابندی کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی میں لوگ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو معمول کے مطابق دکھانے کی بھارت کی کوشش کے خلاف مزاحمت کے طورپرسول نافرمانی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جلد ہی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران روبوٹ استعمال کرے گی۔ بھارتی فوج عام لوگوں کی عمارتوں پر دستی بم پھینکنے کیلئے بھی ان ربورٹس کا استعمال کریگی۔ بھارتی وزارت دفاع نے کم از کم پچیس برس تک کار آمد رہنے والے تقریباً 550ربورٹس کی خریداری کا عمل شروع کر دیا ہے جونگرانی کا کام بھی کریں گے۔ دریں اثناء برسلز میں قائم ایک ڈس انفارمیشن واچ ڈاگ نے بھارت کے سفارتی مفادات کیلئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس، این جی اوز اور جعلی میڈیا گروپوں سمیت غیرفعال کمپنیوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب کیا ہے۔یورپی یونین کے ممالک اور اداروں میں جھوٹی خبروں اور اطلاعات کے ذریعے کی جانیوالی منظم کوششوں کو بے نقاب کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ای یو ڈس انفولیب نے 65 ممالک کے 265 ایسے جعلی میڈیا گروپوں کاپتہ لگایا ہے جویورپی یونین اور اقوام متحدہ میں بھارت کے جغرافیائی سیاسی مفادات کیلئے کام کررہے ہیں اور مسلسل پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد بھارت کے 5 اگست کے اقدام کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے وادی کشمیرکے حالیہ متنازعہ دورے کو بھی غیر فعال تھینک ٹینکس، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا گروپوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا ہے۔ ڈس انفو لیب کی تحقیق میں سامنے آنیوالی غیر مشکوک نیوز ویب سائیٹ میں ٹائمز آف لاس اینجلس، ٹائمز آف پرتگال، نیو دہلی ٹائمز، نیویارک جرنل امریکن اور ٹائمز آف نارتھ کوریہ شامل ہیں۔ کشمیر ی ماہرین تعلیم اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک چار رکنی پینل نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی میں ایک مباحثے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات کو کشمیریوں کا محاصرہ اور 1947سے جاری بھارتی نوآبادیاتی قبضے کا تسلسل قرار دیا۔ مباحثے کا اہتمام سٹین فورڈ ساؤتھ ایشین سوسائٹی نے کیاتھا جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے پانچ اگست کے بھارتی فیصلے، مواصلاتی ذرائع کی معطلی اور مقبوضہ علاقے میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کو زیر بحث لایا گیا۔ 

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول