مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے جمع کرادیئے 

  مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے جمع کرادیئے 

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنانے اور پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر مسلم لیگ ن کے 100 ارکان نے قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت اور چیئرمین شپ سے احتجاجا استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دئیے۔ لیگی رہنما ملک ندیم کامران، چودھری اقبال گجر، سمیع اللہ خان، ذیشان رفیق نے پارٹی ارکان کے استعفے ڈی جی پنجاب اسمبلی عنایت اللہ لک کو جمع کروا دیئے۔ اس موقع پر ملک ندیم کامران کا کہنا تھا کہ آج پنجاب کی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب اتنی بڑی تعداد میں ارکان نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دے دئیے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی ایم پی اے سمیع اللہ خان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جب تک پی ٹی آئی کے ارکان جیل میں رہے پروادکشن آرڈر جاری ہوتے رہے حکومت ار اپوزیشن کے درمیان فارمولا طے ہوا تھا کہ حمزہ شہبازکو پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایاجائیگا لیکن یقین دہانی کے باوجود عمل درآمدنہ ہو سکا اب ہم نے انتہائی قدم اٹھا دیا ہے اب سٹینڈنگ کمیٹیوں کی قانون سازی کی کوئی سیاسی و اخلاقی حیثیت نہیں ہو گی۔پرویز الہی ڈیڈلاک سے اسمبلی کو باہر نکالیں گے ہمارے مطالبے غیر جمہوری نہیں ہیں۔قائد حزب اختلاف کو چودہ ماہ کے باوجود پی اے سی ون کی چئیرمین شپ نہ دی گئی۔ہم نے مجبورا انتہائی اقدام اٹھایا ہے۔گرفتار ایم پی اے کیلئے پروڈکشن آرڈر نکالنے کی بات سپیکر اور حکومت نے کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔علیم خان نے پروڈکشن آرڈر سے خوب فائدہ اٹھایا۔حسن مرتضی سے ٹیلی فونک بات ہوئی لیڈر شپ سے پوچھنے کے بعد فیصلہ سنائیں گے۔ہم پنجاب اسمبلی کے ہر اجلاس میں شریک ہوں گے سٹینڈنگ کمیٹی کی قانون سازی کی اخلاقی ساکھ نہیں ہوگی حکومت اب ہر معاملے پر ون ویلنگ کررہی ہے جو خطرناک ثابت ہو گی، ملک ندیم کامران نے کہاآج پنجاب اسمبلی میں سیکرٹری اسمبلی کے پاس گئے اپنے استعفی اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور چیئرمین کے جمع کروا دئیے ہیں۔اسٹینڈنگ کمیٹیاں اپنا کام نہیں کر رہی تھیں نالائقیوں کی وجہ سے چالیس سے اکیس کمیٹیاں بنیں۔پانچ اپوزیشن کی کمیٹیوں بنائی گئیں جو حکومت کی نااہلی ہے۔پارلیمانی تاریخ میں سیاہ دن ہے اتنے بڑے پیمانے پر استعفے گئے۔حکومت کو عوام کا ساتھ دینا ہے اسمبلی سے ہی ہوگا اسمبلی کو غیر قانونی طریقے سے نہیں چل سکتی۔

استعفے جمع

مزید : صفحہ اول