عوامی توقعات پورا کرنے، سب کی شراکت والا نظام ہو نا چاہئے 

  عوامی توقعات پورا کرنے، سب کی شراکت والا نظام ہو نا چاہئے 

  



اسلام آباد،لاہو ر (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ق کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر، سینیٹر طلحہ محمود اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا مولانا فضل الرحمن جمہوریت پسند شخصیت ہیں ہم ان کو کامیاب پرامن دھرنا پر مبارکباد دینے آئے تھے۔ ملک میں جمہوریت بھی ضروری ہے لیکن نظام ایسا ہونا چاہئے جس میں تمام کی شراکت داری ہو، ایسی قیادت ہو جو عوامی توقعات پر پورا اترے اور لوگوں کے تمام مسائل حل کر سکے اور ان کو بنیادی اشیائے ضرورت کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ چودھری شجاعت نے کہا عمران خان کو ذاتی حیثیت، بطور وزیراعظم اور حکومتی سربراہ کے عدل و انصاف کرنا چاہئے، نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے باقی زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نہ کرے کچھ ہو گیا تو یہ کلنک کا ٹیکا ہو گا جو عمران خان اپنے سر پر نہ لیں اور انہیں جانے دیں، قومی اسمبلی میں بھی ہماری پارٹی کے رکن طارق بشیر چیمہ نے کہا تھا کہ اس مسئلہ پر شرائط اور ضد میں نہ پڑیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں یہ اب ثابت ہو گیا ہے مولانا واحد اپوزیشن لیڈر ہیں ان کے سوا اسمبلی کے باہر اور اسمبلی کے اندر کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے، تمام جماعتیں ان کے پیچھے کھڑی ہیں اگرچہ انہوں نے کہا ہم بہت کچھ کریں گے لیکن ان کے صرف نمائندے ہی آتے رہے، دوسری بات جو ثابت ہوئی یہ واحد دھرنا تھا جس میں مکمل نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا، یہ دھرنا مکمل طور پر پرامن تھا اور کچھ بھی نہیں ہوا، لاٹھیاں، گولیاں نہیں چلیں اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا، ٹریفک بھی چلتی رہی یہاں تک کہ دھرنا کے شرکاء صفائی بھی کرتے رہے۔ مولانا کی قیادت میں ان کی جماعت اور دھرنا میں شامل ان کی ساتھی جماعتوں نے ایسے ڈسپلن کا مظاہرہ کر کے انہوں نے ثابت کر دیا ہم مولانا فضل الرحمن کی قیادت کو دل سے تسلیم کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے اپنے قائد کی تعمیل، امن اور ڈسپلن کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے چودھری شجاعت اور پرویزالٰہی کی تعریف کی اور کہا 15 ملین مارچ سے ہم نے ثابت کر دیا ہم پرامن، جمہوری اور غیرمتشدد لوگ ہیں۔ انہوں نے نوازشریف کو غیر مشروط طور پر باہر بھیجنے کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہم پرامن طور پر آزادی مارچ جاری رکھے ہوئے ہیں، اسلام آباد کے اجتماع کے بعد اب ملک بھر میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پاکستان کی قریباً تمام بڑی شاہراؤں پر ہمارے کارکن اور عوام جمع ہونے جا رہے ہیں انہیں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ آپ نے مریضوں، مسافروں، ایمبولینسوں اور میتوں کا مکمل خیال رکھنا ہے، لوگوں کو ریلیف دینے اور ایمرجنسی میں فیصلے کرنے کیلئے مقامی کمیٹیاں تشکیل دینے کیلئے کہا گیا ہے، یہ ہمارا جمہوری انداز، جمہوری حق ہے اگر یہ استعفیٰ دے دیتے تو یہ سلسلہ ملک بھر میں نہ پھیلتا۔

شجاعت،فضل الرحمن

اسلام آباد(آن لائن) سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے نواز شریف کے معاملے پر ہمارا موقف واضح ہے، انسانی ہمدردی کیساتھ پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے، حکومت کو میاں صاحب کو علاج کیلئے باہر جانے دینا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ناکام نہیں ہوا بلکہ وہ ایک بڑے سیاسی رہنما اور اپوزیشن لیڈر کے طورپر پر ابھرے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا مولانا فضل الرحمان سے ملاقات اچھی رہی، مولانا سڑکیں بند کرنے نہیں جارہے اور وہ عوام کو تکلیف نہیں دیں گے۔ مولانا سے ملاقات ہماری خفیہ میٹنگ تھی پتہ نہیں میڈیا کو کیسے پتہ چل گیا یہ ہمیں معلوم نہیں۔ مولانا کے دھرنے کو ختم کرانے کیلئے ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ ایسے دھرنے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جب مشرف کے دور میں لال مسجد والا واقعہ ہوا اور چوہدری شجاعت سمیت کچھ اور لوگوں کو مذاکرات کیلئے بھیجا گیا مگر بعد میں کچھ اور کام ہوگیا جس وجہ سے میں نے چوہدری شجاعت کو روکا کہ آپ مولانا کے دھرنے کو ختم کرنے کیلئے بیچ میں نہ آئیں مگر حکومت نے یہ ذمہ داری ہمیں سونپی کیونکہ مولانا وزراء سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان کا پہلے دن سے موقف تھا وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ دیں اور دیگر مطالبات بھی ان کے تھے جس پر میں نے مولانا سے کہا اگر وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے تو پھر آپ کے باقی مطالبات کو ن پورے کرے گا اس لئے آپ استعفے کا مطالبہ نہ کریں او راپنے دیگر مقاصد اور مطالبات منوائیں۔ ہمارا مولانا سے پرانا تعلق ہے اور وہ ہماری بات بھی مانتے ہیں، مولانا نے اپناسکہ جما لیا ہے مولانا کے دھرنے میں کوئی جا نی نقصان نہیں ہوا ایسا کبھی نہیں ہوا میٹرو بھی چل رہی ہو اور دھرنا بھی جاری رہا ہو یہ پہلی بار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا استعفیٰ کا مطالبہ پورا نہیں ہوا اس لئے ان کی ٹک ٹک تو لگی رہے گی۔ ملک میں احتجاج تو کرینگے مگر عوام متاثرنہیں ہونگے۔ ان کے چھوٹے موٹے احتجاج اور دھرنوں سے کوئی انتشار یا مار پیٹ نہیں ہوگی۔

 پرویز الٰہی 

مزید : صفحہ اول