بچوں سے بدسلوکی کی عالمی مسئلہ، حکومت تمام ممکنہ ذرائع سے حل کرنیکی خواہا ں ہے: شیریں مزاری

بچوں سے بدسلوکی کی عالمی مسئلہ، حکومت تمام ممکنہ ذرائع سے حل کرنیکی خواہا ں ...

  



اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے بچوں کی کسی قسم کی پریشانی سے متعلق بات کرنے کی صور ت میں اساتذہ اور والدین کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،والدین کو بچوں کے جذبات واحساسات سمجھنے کیلئے انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ بتانا ہوگا۔وہ جمعرات کو بچوں سے بدسلوکی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی مہم کے سلسلہ میں سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کے دو رہ اور لیکچر کے دوران خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے طلباء وطالبات کو لیکچر دیا، طلبہء، والدین اور بچوں کو جنسی بدسلوکی سے بچاؤ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے طلباء وطالبات کو اچھی اور بْری نیت سے چھونے کے بارے میں جاننے کی اہمیت کے بارے میں بھی بتایا۔ انسانی حقوق کی وزیر نے زوردے کر کہا بدسلوکی کی کوشش کے بارے میں بتانے کیلئے بھی والدین اور اساتذہ کو طلباء وطالبات کی حو صلہ افزائی کرنی چاہیے۔دریں اثناء بچوں، اساتذہ اور والدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے بچوں سے بدسلوکی کے بارے میں آگاہی اور حساسیت پیدا کرنے کے سلسلہ میں وزارت انسانی حقوق کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے تقر یب کے انعقاد پر سکول کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا بچوں سے بدسلوکی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ایسے زیادہ تر کیسز رپورٹ بھی نہیں ہو تے۔وفاقی حکومت دستیاب تمام ممکنہ ذرائع سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی خواہاں ہے۔ حکومت نے بچوں کو استحصال اور زیادتی سے بچا نے کیلئے کریمنل لاء (دوسرا) ترمیمی ایکٹ 2016، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ایکٹ2017 ء کے علاوہ آئی سی ٹی چائلڈ پر وٹیکشن ایکٹ 2018ء بھی نافذ العمل کردیا گیا ہے۔ مزید برآں وزارت انسانی حقوق نے انسانی اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے متا ثر ین کو قانونی مشورے دینے کیلئے ٹال فری ہیلپ لائن 1099بھی قائم کردی ہے۔

شیریں مزاری

مزید : صفحہ آخر