ترک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں 

ترک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں 

  



اسلام آباد (کا مرس ڈیسک)  پاکستان میں تعینات ترکی کے سفیر احسان مصطفی یوردکول نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات قائم ہیں جن سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے دونوں ممالک تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی کمپنیاں پاکستان میں سی پیک کے تحت بننے والے اسپیشل اکنامک زونز میں جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اس سلسلے میں ترکی کے ایک تجارتی وفد کو پاکستان مدعو کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ ان زونز میں کاروبار کے مواقع تلاش کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے چیمبر کے صدر محمد احمد وحید کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ وفد میں چیمبر کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور سابق صدر ظفر بختاوری شامل تھے۔  سفیر نے کہا کہ ترکی اور پاکستان معیشت کے متعدد شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک اپنے نجی شعبوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر توجہ دیں تاکہ مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا سفارتخانہ پاکستان اور ترکی کی تاجر برادری کے درمیان کاروباری روابط بہتر کرنے کی کوششوں میں چیمبر کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے گا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کافی عرصے سے آزاد تجارت کا معاہدہ کرنے کے بارے میں گفت و شنید کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے کئی دور منعقد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی کے صدرطیب اردوگان کے آئندہ دورہ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کریں جس سے دونوں کی باہمی تجارت میں کافی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر ترکی کے وفد کی پاکستان آنے کی تجویز کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ان کو پاکستان میں کاروبار کے مواقع تلاش کرنے کی کوششوں میں چیمبر ہر ممکن تعاون کرے گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور سابق صدر ظفر بختاوری نے کہا کہ پاکستان کے ای سی او ممالک اور سنٹرل ایشیاء کے ساتھ براہ راست ہوائی روابط نہیں ہیں جس سے ان ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ترکی ایئر لائن اگر ہفتے میں ایک بار پاکستان سے ان ممالک کی طرف اپنی پروازیں شروع کرے تو پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ تجارت و برآمدات کو بہتر کرنے میں کافی سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر اس سلسلے میں دونوں ممالک کی حکومتوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ اس موقع پر دونوں جانب سے پاکستان اور ترکی کے درمیان نجی شعبوں کو قریب لانے اور ان کے درمیان براہ راست روابط قائم کرنے کیلئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تا کہ دونوں ممالک کے تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ 

مزید : کامرس