فواد چوہدری سمیت شوبزشخصیات کی بھارتی فلم ”پانی پت“ پرتنقید

فواد چوہدری سمیت شوبزشخصیات کی بھارتی فلم ”پانی پت“ پرتنقید

  



لاہور(فلم رپورٹر)وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری سمیت شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے نئی بھارتی فلم ”پانی پت“کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔شوبز شخصیات فلم ’پانی پت‘ میں تاریخ مسخ کرنے اور مسلمان حکمرانوں کو ظالم و جابر دکھانے پر بالی ووڈ پر برس پڑیں۔بالی ووڈ ہدایت کار آشوتوش گواریکر کی تاریخ پر مبنی فلم ”پانی پت“ ابتدا ہی سے تنازعات کا شکار ہے۔ فلم کی کہانی افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اورمرہٹوں کے درمیان لڑی جانے والی مشہور پانی پت کی جنگ پر مبنی ہے۔

فلم میں سنجے دت نے افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی کا کردار نبھایا ہے جب کہ اداکار ارجن کپور نے مرہٹا جنگجو سدا شیو راؤ باہو کا کردار نبھایا ہے۔ فلم”پانی پت“ میں دکھائے جانے والے تاریخی حقائق پر افغان شہریوں نے اظہار تشویش کیا ہے۔شوبز شخصیات نے تاریخ کو مسخ کرنے پر بالی ووڈ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب بیوقوف لوگ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اسی کی امید کرسکتے ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔یاد رہے کہ سنجے دت نے رواں ماہ کی 4 تاریخ کو فلم کا پوسٹر شیئر کیا تھا جس پر بھارت میں سابق افغانی سفیر ڈاکٹر شائدہ ابدالی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے سنجے دت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا تاریخی طور پر بھارتی سینما ہند افغان تعلقات کو مستحکم کرنے میں کارآمد رہاہے۔

مجھے امید ہے فلم ”پانی پت“ ہماری مشترکہ تاریخ کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی ہے۔بھارت میں تعینات افغان سفیر طاہر قادری نے کہا ہے کہ ہم اس معاملے پر بھارتی حکمرانوں سے رابطے میں ہیں اور فلم کے معاملے پر افغانی عوام کے جذبات بھارتی حکمرانوں تک پہنچادئیے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سنجے لیلا بھنسالی کی فلم”پدماوت“ میں بھی مسلم حکمران علاؤ الدین خلجی کو ظالم اور سفاک حکمران بنا کر پیش کیا گیا تھا۔پانی پت کی مشہور تیسری جنگ افغانی حکمران احمد شاہ ابدالی اور مراٹھاؤں (مرہٹوں)کے درمیان1761 میں لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں احمد شاہ ابدالی نے مرہٹے جنگجوؤں کو ہرادیا تھا۔ فلم میں سنجے دت اور ارجن کپور کے علاوہ اداکارہ کیرتی سونن مرکزی کردار میں نظر آئیں گی فلم 6 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،شاہدہ منی،میگھا،ماہ نور،مسعود بٹ،اچھی خان،جرار رضوی،نادیہ علی،ہانی بلوچ،مایا سونو خان،عامر راجہ،آغا قیصر عباس،سہراب افگن،حاجی عبد الرزاق،یار محمد شمسی صابری،بینا سحر،ثناء بٹ،سدرہ نور،بی جی، عباس باجوہ،ندا چوہدری،ہنی شہزادی،اسد نذیر،نادیہ جمیل،عقیل حیدر،گلفام،طاہر انجم،طاہر نوشاد،ڈاکٹر اجمل ملک،ملک طارق،ارشد چوہدری،ڈیشی راج،آفرین خان،آشا چوہدری،احسن خان،نیلم منیر،رزکمالی،وہاج خان،اسد مکھڑا،گڈوکمال،جہانزیب علی،صوبیہ خان،ثمینہ بٹ،ناصر چنیوٹی،تابندہ علی،بابرہ علی،قیصر لطیف،ذیشان جانو،سلیم بزمی، لاڈا،ظفر عباس کھچی،مومنہ بتول،عائشہ جاوید،عارف بٹ،عاصم جمیلِ،آغا حیدر اور رضی خان کا اظہار تشویش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فلم میں تاریخ کے کچھ حصوں کو تبدیل کیا گیا ہے اور تاریخ کو مسخ کرکے من گھڑت کہانی شامل کی گئی ہے۔

مزید : کلچر