نواز شریف کو جانے دیں

نواز شریف کو جانے دیں
نواز شریف کو جانے دیں

  



نوازشریف کا مقدمہ انسانی ہمدردی کے حوالے سے طبی اور قانونی تھا جسے شریف خاندان، ن لیگ اور حکومت نے مل جل کر سیاسی بنا دیا جبکہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا سیاسی تھا جسے انہوں نے مذہبی بنانے کی بھرپور کوشش کی اور اس سعی رائیگاں میں وہ اپنی اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ہمدردی سے محروم ہو کر دھرنے کے میدان میں تنہا رہ گئے اگرچہ کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنا پر سرمایہ کاری نوازشریف نے کی انہوں نے پارٹی کو آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کی ہدائت بھی کی مگر شہباز شریف نے دھرنے اور مارچ کو اہمیت نہ دی ایک مرتبہ انٹری دے کر غائب ہو گئے۔

.

فضل الرحمن کا اپنا دامن خالی ہے پہلے وہ اپنے قدموں پر چل کے بند گلی میں گئے اور پھر خود کو دیوار سے لگا لیا اب وہ کمبل کو چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل ان کو نہیں چھوڑ رہا، تاہم انہوں نے سرمایہ کاروں کا کا قرض اتار دیا سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت مولانا کے دھرنے کی مرہون منت ہے، فضل الرحمن کو دھرنے اور مارچ سے کچھ حاصل ہونے کی امید ہے نہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں انکے پاس کھونے کو بھی کچھ نہیں اس کے باوجود پراسرار طور پر میدان میں ہیں متحرک اور فعال ہیں اور جن کو دھرنے اور مارچ سے کچھ مل سکتا ہے وہ لاتعلق ہو کر چین کی بانسری بجا رہے ہیں، اب تک کسی کو نہیں معلوم کہ ان کے مقاصد اور عزائم کیا ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا پراکسی وار لڑ رہے ہیں، کچھ واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے سے ان کی بارگیننگ پاور میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کا معاملہ سادہ ہے بھی نہیں بھی۔ گو کہ شریف خاندان اس حوالے سے کافی تناؤ میں ہے لیکن سکھ کی نیند حکمران طبقہ کو بھی میسر نہیں، اب جبکہ عدالت عظمیٰ سے 8 ہفتہ کی ضمانت پر رہائی کے بعد معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ رہا ہے اور کوئی سرا ہاتھ میں نہیں آ رہا، عدالت نے ضمانت پر رہائی دے دی مگر بیرون ملک علاج کے لئے جانے اور ضمانت میں توسیع کے حوالے سے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی، حکومت نے نیب کے کندھوں پر بندوق رکھ دی۔

نیب نے قانونی داؤ پیچ آزما کر اپنا کندھا کھسکا لیا، کوئی نوازشریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھجوانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کو تیار نہیں، اس صورتحال کے بعد وفاقی کابینہ کو سر جوڑنے پڑے، وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو معاملہ کے آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیتی رہی اور آخر کار طویل اجلاسوں کے بعد نوازشریف کو عدالت کی طرف سے کئے گئے جرمانہ 7 ارب روپے کا شیورٹی بانڈ دینے کے بعد 4 ہفتہ کے لئے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے اور بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی۔ شٹامپ پیپر پر شیورٹی کی تحریر نوازشریف یا شہباز شریف کو دینے کا کہا گیا، اس شرط کے تحت کہ تحریر دینے والے کو نقد رقم ادا کرانا ہے نہ رقم کے برابر جائیداد کے کاغذات حکومت کے پاس جمع کرانا ہیں صرف ایک تحریر دینا ہے کہ نوازشریف واپس آ جائیں گے البتہ اگر واپس نہ آئے تو حکومت تحریر دینے والے کے خلاف اتنی رقم کی ادائیگی کا دعویٰ عدالت میں دائر کر سکتی ہے مگر ن لیگ نے یہ شیورٹی بانڈ جمع کرانے سے انکار کر دیا ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جو ضمانتی مچلکے جمع کرائے گئے ہیں وہ کافی ہیں مزید کسی بانڈ کی ضرورت نہیں۔اس لئے معاملہ ایک بار پھر عدالت میں آ گیا ہے۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی نوازشریف کو بغرض علاج بیرون ملک بھیجنے کی شدید مخالفت کی گئی، تین وزراء نے اس حوالے سے رائے ہی نہ دی، زلفی بخاری، فیصل واوڈا، شیریں مزاری، علی امین گنڈا پور، علی زیدی، بابر اعوان مخالفت میں پیش پیش تھے ان کا اصرار تھا کہ اسحق ڈار، حسین نواز، حسن نواز بھی ایسے ہی بیرون ملک گئے اور واپس نہیں آئے، اسحق ڈار کا بیٹا اور نوازشریف کا داماد بھی اشتہاری ہے اور ملک واپس نہیں آ رہا، نوازشریف بھی واپس نہیں آئیں گے جس کے بعد عوام میں ڈیل کا تاثر جائے گا، جس سے حکومت کا احتساب اور کرپشن کے خلاف جہاد کا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا، بغیر سکیورٹی، شیورٹی نوازشریف کو علاج کے لئے باہر بھجوانے سے آصف زرداری بھی سندھ کارڈ استعمال کر سکتے ہیں کہ پنجاب کے سابق وزیراعظم کو علاج کی بیرون ملک سہولت دے دی گئی مگر سندھ کے سابق صدر کو ذاتی معالجین تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔

نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے کیس کو مشرف کی روانگی سے مشابہت دی جا رہی ہے، مگر ایسا کہتے ن لیگی رہنما بھول جاتے ہیں کہ مشرف انہی کے دور میں بیرون ملک گئے جبکہ اس وقت کے وفاقی وزراء پرویز رشید، سعد رفیق اور احسن اقبال نے واضح طور پر کہا کہ آئین میں کسی ملزم کو بیرون ملک بھیجنے کی کوئی گنجائش نہیں مگر انہی کی حکومت نے پرویز مشرف کو یہ سہولت دی، اب لیگی رہنما ایک سزا یافتہ مجرم کو بیرون ملک بغیر کسی ضمانت بھجوانے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں، لیگی رہنما یہ بھی بھول گئے کہ ماضی قریب میں نوازشریف کو جب علاج کے لئے لندن بھجوایا گیا تو وہ اپنی جائیداد رہن رکھوا کر گئے تھے، حمزہ شہباز ضمانت کی رقم کی قسط ہر ماہ ادا کرتے، یہ رقم اور جائیداد کے کاغذات نوازشریف نے وطن واپس آ کر باقاعدہ درخواست دے کر حاصل کئے تھے، مگر اب کی بار ن لیگ اور شریف خاندان بانڈ دینے سے انکاری ہے وجہ اس کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ نوازشریف کا فوری وطن واپسی کا ارادہ ہی نہ ہو۔

نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت کو ڈیل یا ڈھیل قرار دینا کسی طور مناسب نہیں اور یہ اجازت ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی طرف سے دی گئی رعایت کے تحت دی گئی، سپریم کورٹ نے ضمانت پر رہائی کے وقت بیرون ملک روانگی یا ضمانت میں توسیع کے لئے حکومت سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کو ہر ممکن سہولت دینے اور ان کی بیماری پر سیاست نہ کرنے کا حکم دیا تھا، ان حالات میں اس بارے شکوک و شبہات کا اظہار انتہائی نامناسب ہو گا اور اسے این آر او قرار دینا تو انتہا درجہ کا گھٹیا مذاق۔

اب شریف خاندان کے پاس نوازشریف کو علاج کے لئے ایک مرتبہ پھر کورٹ سے رجوع کیا جائے، ن لیگ کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ کسی صورت شٹامپ پیپر پر تحریر نہیں دے گی، ہائیکورٹ سے اس حوالے سے رجوع کر لیا گیا ہے دیکھیں کیا فیصلہ صادر ہوتا ہے، بہرحال یہ بات طے ہو چکی کہ نوازشریف کی بیماری پر حکومت نہیں بلکہ شریف خاندان اور ن لیگ بھی سیاست کر رہی ہے۔میاں صاحب واقعی شدید بیمار ہیں ان کو فوری طور پر جانے دینا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم