بیانیوں کی جنگ

بیانیوں کی جنگ
بیانیوں کی جنگ

  



کسی بھی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ کا بیانیہ، منشور،ایجنڈا اس کی آئندہ کی پالیسی کا عکاس ہوتا ہے، قیام پاکستان سے لے کر اب تک مختلف بیانیہ نے ہی جماعتوں اور گروہوں کو عروج دلایا ہے، بھٹو مرحوم کے عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان کے بیانیہ نے خوب مقبولیت پائی اور بھٹو نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا تھا،لاچار غریب، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دے کر خوب شہرت پائی، اقتدار کے مزے تو لوٹے عوام کو دیا گیا روٹی کپڑا اور مکان کا بیانیہ، نعروں سے آگے نہ بڑھ سکا، بھٹو مرحوم کی مقبولیت ان کی پھانسی بھی بیانیہ قرار پائی اور بے نظیر بھٹو مرحومہ نے باپ کی پھانسی کو بھی کیش کرایا اور اقتدار کے مزے لوٹے، پھر بے نظیر بھٹو مرحومہ کی شہادت کو ان کے خاوند نے اقتدار کا زینہ بنایا اور کامیاب رہے۔ یہی وجہ ہے دم توڑتی پیپلزپارٹی کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر مذاق کیا جاتا ہے۔ ایک صوبہ تک محدود پارٹی کو جلا بخشنے کے لئے پھر کسی شہید کی ضرورت ہے،بات پیپلزپارٹی کی طرف چلی گئی، حالانکہ پیپلزپارٹی2013ء سے دوڑ میں شامل بیانیوں سے باہر ہے۔

ایک بیانیہ موجودہ وزیراعظم عمران خان لے کر میدان میں آئے اور 22سال تک اس کا ڈھونڈرا پیٹتے پیٹتے اقتدار کی منزل پا گئے،ان کا بیانیہ منشور،ایجنڈا، کرپشن کا خاتمہ، کرپٹ مافیا کو جیلوں میں بند کرنا اور لوٹی ہوئی دولت ان سے واپس لینا رہا ہے اور ساتھ ہی کرپٹ مافیا کی ملک سے باہر بھیجی گئی دولت وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ہو یا کسی دوسرے ذریعے سے بھیجی گئی ہے اس کو واپس لا کر سرکاری خزانہ میں جمع کرانا رہا ہے، اس بیانیے نے بھی مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے خوب مقبولیت پائی، اس بیانیے کے پیچھے بھی عوام کی دم توڑتی خواہشات تھیں، جو سیاست دانوں کی مسلسل بھرتی تجوریوں کا ردعمل تھیں، عوام کی گرتی ہوئی ساکھ اور امید خاندانوں کی بڑھتی ہوئی جائیدادوں نے عمران خان کے بیانیے کو تقویت دی، جس کی وجہ سے عمران خان کے خلاف سرگرم لابی اور عمران خان سے جڑے ہوئے الزامات بھی ان کو وزیراعظم بننے سے نہ روک سکے،22سال جس بیانیہ کو مقبول عام بناتے بناتے عمران خان وزیراعظم بنے اور بیانیہ کو مزید دوام بخشنے کے لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو پابند سلال کیا وہ آصف علی زرداری ہوں یا میاں نواز شریف یا ان کی جماعتوں کے دیگر رہنما، جن میں سے بیشتر اب بھی جیلوں میں ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک بیانیہ کسی جماعت کا ہوتا ہے یا گروہ کا، مسلم لیگ(ن) وہ جماعت ہے جس کے اندر بھی دو بیانیے پائے جاتے ہیں ایک بیانیہ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کا ہے اور دوسرا بیانیہ مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کا ہے۔2018ء کے انتخابات میں شکست کے بعد مسلم لیگ(ن) جو زیر عتاب چلی آ رہی ہے اس کی بنیادی وجہ مسلم لیگ(ن) کے اندر دو بیانیوں کی جنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا بیانیہ ہے، بغیر کسی ڈیل یا حکم کے ہے ان کا بیانیہ ہے ووٹ کو عزت دو، ووٹ عوام دیتے ہیں اس کا احترام نہیں کیا جاتا۔ میاں نواز شریف کا بیانیہ مقتدر قوتوں سے مل کر چلنے کی بجائے ان سے متصادم بھی ہے،جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اور چودھری نثار کا بیانیہ مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے بیانیہ کے برعکس ہے ان کا بیانیہ ہے اداروں سے متصادم ہوئے بغیر عوام کے ووٹوں کے ذریعے آگے بڑھا جائے اور مقتدر قوتوں کو ناراض کرنے کی بجائے ان سے رہنمائی لے کر عوامی خدمت کے پروگرام تشکیل دیئے جائیں۔

2018ء میں مسلم لیگ(ن) کی شکست کے بعد میاں نواز شریف کے بیانیے نے ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا، کیونکہ پاکستان مخالف قوتیں بھی پاکستانی اداروں سے متصادم جماعتوں کو پسندیدگی سے دیکھتی تھیں اِس لئے انہوں نے بھی پاک فوج اور مسلم لیگ(ن) کے قائد کے درمیان غلط فہمیوں کی بڑی دیوار حائل کر دی اس حد تک پراپیگنڈا کیا گیا۔ میاں شہباز شریف اور چودھری نثار احمد کے بیانیے کو عوام دشمن بیانیہ قرار دیا جانے گا،چوھری نثار تو خاموشی سے دیوار کے ساتھ لگے رہے۔2018ء کے الیکشن میں پاک فوج اور اس کے اداروں کی ساکھ کی بحالی کے لئے ان کی اور ان کے گروپ کی قربانیاں تاریخ رقم کر چکی تھیں، جو عملی طور پر تو ریکارڈ کا حصہ بن گئیں تھیں مگر سیاسی دھارے میں ان کا نام نہیں آ رہا تھا،میاں شہباز شریف کی جہد ِ مسلسل اور اپنے بیانیے پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے ان کو مزید آزمائشوں کا سامنا تھا، جو ان مختلف کیسوں میں ان کی پیشیاں ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر بنائے گئے مقدمات کی صورت میں موجود تھے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سوا سال کے عمران خان کے دورِ اقتدار میں میاں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ کی بنیادی وجہ ان کا بیانیہ ہی چلا آ رہا تھا، پھر ان کی مسلسل گرتی صحت کو سوشل میڈیا نے

موضوع بنا لیا، تو اندازہ ہوا نہ چودھری نثار خاموش ہیں اور نہ میاں شہباز شریف مایوس،بلکہ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کو ادراک ہو چکا ہے، اداروں کی لڑائی سے بیرونی قوتیں تو خوش ہو سکتی ہیں، مگر پاکستان میں رہنا تو اداروں سے تصادم ممکن نہیں، بالکل اسی محاورے کے مطابق سمندر میں رہنا ہے، تو مگر مچھ سے ویر کیسا، مسلم لیگ(ن) میں جاری دو بیانیوں کی جنگ کا ڈراپ سین ہونے جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کا بیانیہ پھن پھلائے سامنے آ گیا، اب جبکہ رہبر کمیٹی کا بیانیہ بھی دم توڑ رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن اپنے دائیں کھڑے محمود خان اچکزئی بائیں کھڑے میاں افتخار اور پیچھے موجود میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو مایوس کر کے اسلام آباد سے ملک بھر کی سڑکوں کو بلاک کرنے کے لئے پلان بی شروع کر چکے ہیں اس سے بھی مختلف بیانیوں کے باہمی جنگ کا پنڈورا بکس کھلتا جا رہا ہے۔7 ارب کا بانڈ یا جائیدادوں کی گارنٹی دراصل عدالتی ضرورت کم بیانیوں کی جنگ اور ریٹنگ زیادہ ہے، ہم جلد باز بھی بہت ہیں میاں نواز شریف کی ضمانت ابھی منظور ہوئی تو میاں شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز نے میاں شہباز شریف کی تصویر کے ساتھ گیم چینجر لکھ کر ٹویٹ کر دیا۔

چودھری نثار نے بھی نعرہ مستانہ مار دیا، نتیجہ عمران خان اور ان کے وزراء جو سوشل میڈیا پر جاری بیانیوں کی جنگ سے بظاہر لا علم تھے، فوری بیدار ہو گئے،انہوں نے سر جوڑ لئے، ہماری22سالہ جدوجہ پر پانی پھیر دیا ہے کہا جا رہا ہے، عمران خان حکومت کو میاں نواز شریف کی صحت عزیز نہیں اس لئے ان کی زندگی سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے،حالانکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں،دونوں جماعتوں کے بیانیے باہم متصادم ہیں،مریم نواز شریف کی ضمانت کے7کروڑ خاموشی سے لاہور کے ایم این اے نے عدالت میں جمع کرا دیئے ہیں،7ارب کا بانڈ بھی اشارے کا منتظر ہے، مگر ایسا کیوں کریں بانڈز جمع کرانے سے تو بیانیہ پٹ جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا رونا دھونا بھی یہی ہے کہ مَیں مافیاز کے درمیان پھنس گیا ہوں، مافیا اتنے طاقتور ہیں کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے،عوام ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح جلد باز ہیں ان کا موقف ہے، ملکی معیشت کی مضبوطی کرو یا نہ کرو،اربوں کے قرضوں کی قسطیں دو یا نہ دو ہمیں فوری ریلیف دو۔ اب میاں نواز شریف کا جانا تو ٹھہر گیا آج گیا یا کل گیا، مگر سوشل میڈیا پر جاری افواہیں کیا رنگ دکھائیں گی۔ اب چودھری نثار اور میاں شہباز شریف آ رہے ہیں یا آئندہ انتخاب کی بجائے جتھوں کی مرضی ہو گی اس کو لایا جائے اور اس کو ہٹایا جائے، کیا کرپٹ مافیا کے سپرد کر دیا جائے ملک کو،یہ کون سوچے گا عوام کے پاس تو ڈوبنے کے لئے مہنگائی کا سمندر آ گیا ہے اور وہ ڈوب رہے ہیں۔ میاں باہر جائے یا اندر، عمران رہے یا نہ رہے، سب کچھ ملک کے ساتھ مشروط کر دیا اور اس کی سلامتی کے لئے دُعا کی جائے۔

مزید : رائے /کالم