سندھ حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے خلاف عدالت عظمی ٰ سے رجوع کر لیا

سندھ حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے خلاف عدالت عظمی ٰ سے رجوع کر لیا

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے قیدیوں اور جیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے وفاق کے اختیارات کو چیلنج کر دیا ہے کہ نیب کیس میں گرفتار ملزمان کو بی کلاس سے کیوں محروم کیا گیا۔اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے، سندھ حکومت کا موقف ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم صوبائی اختیارات سے متصادم ہے، قیدیوں اور جیل سے متعلق قانون سازی صوبائی حکومتوں کا اختیار ہے۔سندھ حکومت نے کہا ہے کہ قیدیوں کو بی کلاس سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، اسلام آباد میں بیٹھ کر صوبوں کے اختیارات کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدارتی آرڈیننسز کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے، گزشتہ روز اس درخواست پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا۔وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس جاری کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، عدالت حکومت کو پارلیمنٹ کی تعظیم برقرار رکھنے کا حکم دے۔عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے آرٹیکل 89 کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ہے، درخواست گزار کے مطابق آرڈیننسز صرف ایمرجنسی میں جاری ہو سکتے ہیں، مستقل قانون سازی آرڈیننس سے نہیں ہو سکتی۔

مزید : صفحہ اول