بنوں نانبائی اور ہوٹل ایسوسی ایشن کاآٹابحران کے خلاف احتجاج کا اعلان

بنوں نانبائی اور ہوٹل ایسوسی ایشن کاآٹابحران کے خلاف احتجاج کا اعلان

  



بنوں (تحصیل رپورٹر) بنوں ہوٹل اور نانبائی ایسوسی ایشن نے آٹے کے موجودہ بحران اور دیگرمسائل کے حوالے سے اہم اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس مقررین کا کہنا تھا کہ آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرکے ہوٹل مالکان اور نانبائیوں کو بے روزگار کیا جارہاہیں۔ روزانہ حکومت کی طرف سے بنوں فلور ملوں کو گیارہ سو بوریاں ملتی ہیں۔جس سے بیس کلو کے بائیس ہزار تیلے بنتے ہیں،جسمیں بنوں کو دوہزارتیلے ملتے ہیں باقی کہا جاتے ہیں کیا ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے فوڈ ڈی ایف سی کے ساتھ ملاقات کرکے آٹے بحران سے اگاہ کیا۔اور ایک درخواست بھی دی کہ تمام ہوٹلوں کو سرکاری آٹے کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔لیکن ڈی ایف سی فوڈ نے ڈپٹی کمیشنر بنوں کی جانب سے منظوری ناملنے پر کوٹہ نہیں دیا۔بازار سے ہمیں آٹا گیارہ سو روپے تیلہ ملتا ہے۔ حکومت ہم سے روٹی کا وزن توچیک کرتا رہتا ہے۔لیکن ہمیں سہولیا ت نہیں دے رہے۔خیبر پختونخواہ کے دیگر اضلاع میں نانبائیوں اور ہوٹلوں کو سرکاری آٹا اور گیس میں رعایت دی جاتی ہیں۔لیکن ہمارے ہاں ہم سے ا پنا روزگار بھی چھننے لگا۔کیا ہم اس صوبے کے باشندے نہیں۔اب اگر ضلعی انتظامیہ نے تین دن میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ناکیا اور ہمارے مطالبات تسلیم نا کئے گئے تو ہم سنگل نان 15 روپے جبکہ ڈبل نان 30روپے میں فروحت کرنے پر مجبور ہونگے۔اور پیہ جام ہڑتال بھی کرینگے۔ فو ڈ سیفٹی والے کبھی ایک بہانہ بنا کر جرمانے لگارہے ہیں تو کبھی لائسینس کا ڈرمہ رچاکر ہمیں لوٹا جارہا ہیں۔ اب ہمیں ٹریننگ دینے کے نام پر لوٹنے کے کاپلان بنابیٹھے  ہیں۔ہم 25,25 سالوں سے ہوٹلیں چلا رہے ہیں کیا ہم غیر تربیت یافتہ ہیں۔ہمارے کاروباروں کا جنازہ نکال دیاحلال فوڈ والوں نے،کیا ہم کاروبار کی بجائے ڈاکوں بن جائے گھروں کو لوٹنا شروع کریں۔ان خیالات کا اظہار ہوٹل اینڈ نانبائی ایسوسی ایشن بنوں کے صدر اشراف خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم صوبائی حکومت سے درخواست کرتے ہے کہ وہ جلد از جلد ہمارے مسائل حل کرنے اور آٹے بحران پر فوری قابو پانے کے لئے اقدامات کریں۔اجلاس میں ضلعی کابینہ کے اراکین،جنرل سیکرٹری ظفرعلی خان،سینئر نائب صدر حاجی احسان اللہ خان،نائب صدر شیردارز،ڈپٹی جنرل سیکرٹری عثمان خان،نائب صدردوئم صادق خان،فنانس سیکرٹری شیردارزخان،پریس سیکرٹری گل زمان خان،سمیت ضلع بھر کے ہوٹل مالکان اور نانبائیوں نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نا کئے گئے تو پیہ جام ہڑتال کیا جائے گا

مزید : پشاورصفحہ آخر