معیشت کی مضبوطی کیلئے افغانستان کیساتھ تجارتی راستے کھولے جائیں: ایمل ولی 

معیشت کی مضبوطی کیلئے افغانستان کیساتھ تجارتی راستے کھولے جائیں: ایمل ولی 

  



پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،مستحکم جمہوریت کے بغیر ملکی معیشت آگے بڑھ نہیں سکتی‘ موجودہ حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ مقتدر قوتیں اسے لے آئی ہیں اس کا ہرفیصلہ انہی کے حکم پر ہوگا‘ ایسے نااہل لوگ مسنداقتدار پر براجمان ہیں کہ نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانے کا فیصلہ ان سے نہیں ہو پا رہا، یہ ملک  کیسے چلا ئیں گے‘ کرتارپور راہداری کھولنا اچھی بات ہے لیکن اگر ملکی معیشت ٹھیک کرنا ہے تو وسطی ایشیاء کی طرف جانے والے تمام راستے کھولنے ہونگے۔ کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسو سی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں، قوم کی ترقی کے راستے بند کئے جاتے  ہیں جس کا پاکستان مزید متحمل نہیں ہوسکتا  آخر کب تک پختون‘ بلوچ اوردوسری چھوٹی قومتیں جنگی معیشت کے لئے قربانیاں دیتے رہیں گی‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صحیح ڈگر پر لانے کیلئے  دو کام ضروری ہیں، ایک یہ کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں کا م کرے اور دوسرا پارلیمان کواختیارملے جب تک عوام کی نمائندہ پارلیمان کواختیار نہیں ملے گا  اور اختیار کی چابی عوام کے  بجائے  بندوق اوربوٹوں والوں کے پاس ہوگی تو ملک ترقی نہیں کرے گا‘ کرتارپورراہداری  کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان والوں نے تو قائد اعظم اورعلامہ اقبال کاتصورہی ختم کردیا راہداری کھولنا اچھی بات ہے لیکن  یہ بھی درست نہیں کہ آپ یہاں پختونوں کے لئے تجارتی راستے بند کریں۔کرتارپور راہداری کھولنے کو میں غلط نہیں کہوں گا وہ الگ بات ہے کہ میرے دادا ولی خان آج سے 40سا ل پہلے خالصتان کا نظریہ دے چکے ہیں، ایک سوچ ہے جو خالصتان بنانا چاہتی ہے جسکا دارالحکومت لاہورہوگا اور ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اسی طرف چل رہے ہیں‘ معیشت کیلئے راہداری کھولنا اچھی بات ہے لیکن اگر ملکی معیشت ٹھیک کرنا ہے تو وسطی ایشیاء کی طرف جانے والے تمام راستے کھولنے ہونگے، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی یہ راستے کھلے ہیں پشاور اورکوئٹہ تجاری مراکز بنے ہیں میرا خیال ہے کہ یہاں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ایک پنجاب کیلئے اور ایک ہمارے لئے۔ موجودہ حکومت کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ مقتدر قوتیں اسے لے آئی ہیں اس کا ہرفیصلہ انہی کے حکم پر ہوگا‘ ایسے نااہل لوگ مسنداقتدار پر براجمان ہیں کہ نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانے کا فیصلہ ان سے نہیں ہورہا، یہ ملک  کیسے چلائیں گے‘ این آر نہیں دوں گا کو وزیراعظم عمران خان کی بڑھک قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم کے پاس این آر او دینے کا  اختیار ہے ہی نہیں‘ حکومت کو ملک وقوم کی پرواہ نہیں، پرواہ ہے تو اس بات کی کہ اپنے مخالفین کو کس طرح چپ کرائیں‘ انہوں نے کہا کہ  نوازشریف کے خلاف اب تک ایک دھیلا بھی ثابت نہیں کیاجاسکا  تو  ان سے کیونکر7 ارب کی زرضمانت  مانگی جارہی ہے‘ سیاسی انتقام کی حد دیکھیے کہ زرداری کیخلاف کیس ابھی کھلا بھی نہیں اور وہ پابندسلاسل ہے اس قسم کے ہتھکنڈے فائدہ مند ہونہیں سکتے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے‘ مستحکم جمہوریت کے بغیر ملکی معیشت آگے بڑھ نہیں سکتی‘ انہوں نے کہا کہ آج فائز عیسیٰ کیس کی شکل میں عدلیہ پر حملہ ہورہا ہے اور بدقسمتی سے عدلیہ میں بھی ان کو پختون ہی مل رہے ہیں ہمیں عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی‘ ہم  قاضی فائز عیسیٰ کا ساتھ آخری دم تک دینگے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا یہ میرادوسرا دورہ ہے  پہلی دفعہ اس وقت آیا تھا جب وکلا ء پر وحشیانہ حملہ ہواتھا جس میں 100کے قریب وکلاء شہید ہوئے تھے‘ اس وقت میں نے کہا تھاکہ معلوم نہیں بلوچستان بار کو واپس اپنے مقام پر پہنچنے میں کتنے سال لگیں گے وہ کمی مجھے آج بھی محسوس ہورہی ہے‘ انہوں نے کہا کہ ایک دن ویسے بھی مرنا ہے ہماری خواہش ہوگی کہ ہم بھی امن کی خاطر جانوں کا نذرانہ دیں‘پختون اوربلوچ ایک جیسی قومیتیں ہیں اگر دشمن سمجھتاہے کہ ان حرکتوں سے قوم کی آواز دب جائے گی اور اس کی آزادیاں ہڑپ  کی جائے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہوگی کیونکہ جب تک یہ تحریک‘باچا خان کی فکر اور ان کے  لوگ ہونگے تو پختونوں کا نام اور اس زمین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی

مزید : پشاورصفحہ آخر