قانون پر عملدر آمد نہ ہوتو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے،رابعہ بصری

    قانون پر عملدر آمد نہ ہوتو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے،رابعہ بصری

  



پشاور(سٹی رپورٹر)ایوا الائنس اور بلیو وینز کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں خواتین پر تشدد کے روک تھام کے لئے قانون سازی اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے بل کے بارے میں مشاورتی ورکشاپ منعقد کیا گیا، اس موقع پر خیبر پختونخوا کی رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری،ہیومن رائٹس منسٹری کے نمائندے  سمیت انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے خواتیم وحضرات،اور صحافیوں کی بڑی تعداد  بھی موجود تھے، بلیو وینز کے قمر نسیم نے اس موقع پر اپنے ابتدائی کلمات  میں قانون سازی میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اراکین اسمبلی نے اپنی تمام تر وعدوں کے باوجود اسمبلی سے یہ قانون پاس کرانے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری نے کہا کہ قوانین بنتے رہتے ہیں، اصل مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کا ہے،انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ حکومت خواتین پر تشدد کی روک تھام اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف ضروری قانون سازی  کریگی،ورکشاپ سے وزارت انسانی حقوق کے ریجنل ڈائریکٹر غلام علی نے اپنے خطاب میں وزارت انسانی حقوق کی کارگزاری پر روشنی ڈالی،مفتی جمیل نے کہا کہ اسلام خواتین پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مرد وعورت کو برابری کے حقوق دینے پر یقین رکھتا ہے،انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے آپ کو خرابیوں سے بچائیں۔تقریب میں مختلف مذاہب  اور ٹرانس جنڈر کمیونٹی کے نمائندے بھی شامل تھے، 

مزید : پشاورصفحہ آخر