مسلم لیگ ن کے اراکین قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی قبول کریں گے یا نہیں؟ اندر کی خبرآگئی

مسلم لیگ ن کے اراکین قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی قبول ...
مسلم لیگ ن کے اراکین قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی قبول کریں گے یا نہیں؟ اندر کی خبرآگئی

  



لاہور(ویب ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے دیئے گئےاستعفے منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی ن لیگ کے تحفظات پر وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کریں گے اورلیگی رہنماؤں کے مستعفی ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

ہم نیوز کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی عنقریب ن لیگ کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے جس میں ان کے تحفظات پر گفتگو کی جائے گی۔بتایا گیا ہے کہ پرویز الہٰی ن لیگ کے مطالبات کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ لیگی اراکین بھی اسپیکر پنجاب اسمبلی سے مسائل پر بات کرنے کے لئے مطمئن نظر آ رہے ہیں۔یاد رہے گزشتہ روز پی ایم ایل ن کے اراکین اسمبلی نے پنجاب حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفی دے دیا تھا۔اس ضمن میں ن لیگ کے ترجمان ملک کامران نے بتایا کہ قائدِ حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو پبلک اکاونٹ کمیٹی (پی اے سی) کا چئیرمین نہ بنانے پر مسلم لیگ ن کے100 ارکان کے استعفے جمع کرا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پنجاب اسمبلی میں اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بنانے میں تاخیر کی ہے۔ حمزہ شہباز کو پی اے سی کا چئیرمین نہ بنانے کے پیچھے وزیر اعظم کی مداخلت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو پنجاب اسمبلی کے معاملات میں مداخلت کرنا ناجائز عمل ہے، ابتدائی طور پر پارٹی نے فیصلہ کیا پنجاب اسمبلی کی تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں سے مستعفی ہوں۔

خیال رہے گزشتہ روز ترجمان پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب عظمی بخاری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز اور دیگر لیگی رہنماوں کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرکے اپوزیش کو نمائندگی کے حق سے محروم رکھا جارہاہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) ون میں حزب اختلاف کو چیئرمین شپ نہیں دی جا رہی۔ قانون سازی میں اپوزیشن کی آواز کو بلڈوز کیا جارہا ہے۔

لیگی رہنما نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اب تک پی اے سی ٹو تشکیل دی گئی ہے۔ پی اے سی ٹو کی چیئرمین شپت حکومت کے پاس ہے۔ پی اے سی ون اور تھری تشکیل نہیں دی جاسکی ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کو پنجاب اسمبلی کی کاروائی میں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ یہ اقدام کسی صورت قبول نہیں۔

مزید : سیاست /علاقائی /پنجاب /لاہور