بے وفائی کرنے والے مرد و خواتین کے راز 500 سال بعد منظر عام پر آنے لگے

بے وفائی کرنے والے مرد و خواتین کے راز 500 سال بعد منظر عام پر آنے لگے
بے وفائی کرنے والے مرد و خواتین کے راز 500 سال بعد منظر عام پر آنے لگے

  



برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں گاہے لوگوں کی بے وفائیوں کے قصے پلک جھپکتے دنیا کے سامنے وا ہو جاتے ہیں لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ سائنسدانوں نے 500سال قدیم لوگوں کی بے وفائیوں کے راز بھی کھوج نکالے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق بیلجیم کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں لاکھوں لوگوں کے ڈی این اے پر تجربات کیے ہیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ 500سال قبل بھی لوگوں میں بے وفائی کا رجحان بہت پایا جاتا تھا اور صنعتی انقلاب نے لوگوں کی بے وفائی کی خصلت کو ہوا دی اور اس کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ 500سال قبل بیلجیم اور نیدرلینڈز میں بسنے والے لاکھوں مردوخواتین کے ڈی این اے پر تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ اس دوران بھی ہر 100میں سے 6بچے شادی شدہ خواتین کے ناجائز تعلق سے پیدا ہوتے تھے اور ان بچوں کو وہ باپ پالتے تھے جو حقیقت میں ان کے باپ نہیں ہوتے تھے۔

بیلجیم کی کے یو لیووین یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ”19ویں صدی میں صنعتی انقلاب آنے پر مردوخواتین میں بے وفائی کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی۔ خاص طور پر غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مردوخواتین میں یہ شرح زیادہ بڑھی۔ “ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ مارٹن لارموسی کا کہنا تھا کہ ”شریک حیات سے بے وفائی اور ناجائز تعلق سے بچے پیدا ہونے کے موضوع پر لطیفوں، ٹی وی سیریز اور لٹریچر میں بہت بات ہوتی ہے لیکن اس حوالے سے سائنسی معلومات بہت محدود ہیں۔ خاص طور پر ماضی کی بات کریں تو اس حوالے سے سائنسی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہماری تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کسی کی فیملی ہسٹری میں بے وفائی کے عنصر کا انحصار اس کے آباﺅ اجداد کے سماجی حالات پر ہوتا ہے۔ ارتقائی حوالے سے دیکھیں تو اپنے شریک حیات سے بے وفائی کرنا ہمیشہ مہم جوئی پر مبنی حکمت عملی نہیں رہا۔ مرد ماضی میں بھی ناجائز تعلق کے ذریعے اپنی اولاد پیدا کرتے رہے ہیں اور خواتین ماضی میں بھی ’برتر‘ (Superior)مردوں کے ساتھ تعلق قائم کرکے اپنے شوہروں سے بے وفائی کرتی رہی ہیں۔ہم نے نیدرلینڈز اور بیلجیم کے آج کے مردوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے اور ان میں سینکڑوں ایسے تھے جو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کے ڈی این اے میں ’وائی کروموسوم‘ ایک جیسا تھا۔ جس کا مطلب ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے خاندان میں ماضی میں کسی عورت نے بے وفائی کی اور اس بے وفائی کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوا جس کی یہ شخص اولاد تھا۔ دوسرا شخص جس کا وائی کروموسوم اس جیسا تھا وہ اس عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے والے مرد کے جائز بچے کی اولاد میں سے تھا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس