جاپانی بادشاہ کی جانب سے 4ارب روپے کے کھانے نے ہنگامہ برپا کردیا

جاپانی بادشاہ کی جانب سے 4ارب روپے کے کھانے نے ہنگامہ برپا کردیا
جاپانی بادشاہ کی جانب سے 4ارب روپے کے کھانے نے ہنگامہ برپا کردیا

  



ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کے نئے بادشاہ کی طرف سے 4ارب روپے کی کھانے کی دعوت نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ سی این این کے مطابق جاپان میں صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جب نیا بادشاہ تخت پر جلوہ افروز ہوتا ہے تو وہ سورج کی دیوی ’اماتراسو اومیکامی‘ (Amaterasu Omikami) کو خوش کرنے کے لیے کھانے کی عظیم الشان دعوت کا اہتمام کرتا ہے۔ نئے جاپانی بادشاہ ناروہیتو (Naruhito)  یکم مئی 2019ءکو تخت نشین ہوئے ہیں چنانچہ وہ آئندہ جمعرات کے روز اس قدیم روایت پر عملدرآمد کرنے جا رہے ہیں۔

جاپان کی اس روایت کو ’دائجوسائی‘ (Daijosai)کہا جاتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بادشاہ ناروہیتو کی اس دعوت پر 2کروڑ 48لاکھ ڈالر (تقریباً 4ارب روپے) لاگت آئے گی۔اس تقریب شرکت کے لیے 700سے زائد مہمانوں کی دعوت نامے بھیجے گئے ہیں جن میں جاپان کے وزیراعظم شینزو ابے بھی شامل ہیں تاہم وزیراعظم سمیت کسی بھی مہمان کو بادشاہ کے ساتھ شاہی ہالز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ وہاں صرف بادشاہ اور سورج کی دیوی موجود ہوں گے۔ یہ ہالز کروڑوں ڈالرز کی لاگت سے شاہی محل کے باغیچے میں بنائے گئے ہیں جو اس دعوت کے بعد جلا دیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ تقریب مئی کے مہینے میں ہی منعقد ہونی تھی تاہم سمندری طوفان کے باعث 90شہریوں کی ہلاکت کے باعث اسے مو¿خر کر دیا گیا اور اب اس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی