ملک کو صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں لوٹا بلکہ ۔۔۔۔حکومت کے تہلکہ خیز بیان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو بھی حیران کر دیا

ملک کو صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں لوٹا بلکہ ۔۔۔۔حکومت کے تہلکہ خیز بیان نے ...
ملک کو صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں لوٹا بلکہ ۔۔۔۔حکومت کے تہلکہ خیز بیان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو بھی حیران کر دیا

  



اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کو حکومت نےآگاہ کیا ہےکہ ملک کو صرف سیاستدانوں نے ہی نہیں لوٹا بلکہ اور بھی لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے، بیرون ملک جن جن لوگوں نے ملک کو لوٹ کر رقم منتقل کی ہے وہ رقم واپس لانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے، مختلف اداروں میں اصلاحات کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی کے اب تک1350سےزائد اجلاس ہوچکے،2018-19ء کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں 104 ارب روپے کی رقم ادا کی گئی،بی آئی ایس پی کا نیا سروے2020ء میں مکمل ہوگا،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے، دوہری شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے،عدالت نے دوہری شہریت رکھنے والوں کو ملازمت ترک کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پالیسی سازی کے فیصلے کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے،یہ معاملہ سیکرٹریز کمیٹی کے پاس زیر التواء ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ قواعد و ضوابط یا پالیسیوں یا ایس او پیز کی ترمیم کے امکانات تلاش کریں اور نئے قانون‘ قواعد و ضوابط اور پالیسیاں متعارف کرائیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے 200 ارب ڈالر منتقل ہونے والے غیر ملکی اثاثوں کی واپسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے بتایا کہ مبینہ طور پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے 27 اگست کو ٹاسک فورس قائم کی گئی، 200 ارب ڈالر یا 300 ارب ڈالر ریکارڈ پر موجود نہیں ہے، پاکستان کو صرف سیاستدانوں نے نہیں لوٹا، باقی بھی جن جن لوگوں نے ملک کو لوٹا ہے ان کی رقم واپس لانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔

رکن محمد افضل کھوکھر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جو مختلف اداروں میں اصلاحات کے لئے سفارشات تیار کر رہی ہے۔ اب تک تھنک ٹینکس، سٹیک ہولڈرز، تربیتی اداروں اور پیشہ وارانہ گروپوں پر مشتمل اس کمیٹی کے اب تک 1350 اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔رکن شنیلا رتھ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے بتایا کہ وفاقی ملازمتوں میں اقلیتوں کا پانچ فیصد کوٹہ ہے،ایک ہزار 821 سرکاری ملازمین اور خودمختار اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 315 ہے،وفاقی حکومت کے زیر انتظام خودمختار اداروں میں کام کرنے والے اقلیتی ملازمین کی تعداد 25ہزار 828 ہے،تمام وزارتوں کو چیئر کی جانب سے یہ احکامات جاری کئے جائیں کہ وہ اقلیتوں کے کوٹہ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کریں۔

رکن شمیم آراء کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ 2018-19ء کے دوران بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کےتحت مستحقین میں104ارب روپے کی رقم ادا کی گئی،وسیلہ تعلیم پروگرام 50 اضلاع میں آپریشنل ہے،بی آئی ایس پی کا نیا سروے کیا جارہا ہے جس میں کوشش کی جارہی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر نام شامل نہ ہوں اور مستحق لوگ شامل ہوں،اس سروے کے لئے ملک کو آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے،یہ سروے 2020ء میں مکمل ہوگا۔ رکن عبدالکریم بجاڑ کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو دی جانے والی مراعات قانون کے مطابق ہیں،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے جسے وہ وفاقی وزراء اور وزراء مملکت ایکٹ 1975ء کے تحت عموماً وزیر مملکت کو دستیاب تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات کا استحقاق رکھتی ہیں،یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان خصوصی معاون وزیراعظم برائے اطلاعات و نشریات کو وزیر انچارج وزارت اطلاعات و نشریات کے اختیارات تفویض نہیں کئے گئے ہیں۔

رکن محمد اسلم خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں دوہری شہریت کا حامل فرد اہم عہدہ نہیں رکھ سکتا، اگر کوئی سیکرٹری یا پارلیمنٹرین دوہری شہریت کا حامل ہے تو یہ اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔انہوں نےبتایا کہ وزیراعظم نے کارروائی کے طریق کار 1973ء کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معاملہ غور و خوض کے لئے سیکرٹریز کمیٹی کو بھجوایا جائے اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق پالیسی سفارشات وضع کی جائیں،عملہ ڈویژن نے نو مارچ 2019ء کو سیکرٹریز کو ورکنگ پیپر بھیج دیا تھا،سیکرٹریز کمیٹی نے 20 جون 2019ء کو اپنے اجلاس میں مشاہدہ کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم استقراریہ نوعیت کا نہ تھا، مزید یہ کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ہر ممکن زاویوں اور نتائج پر غور و فکر کے بعد کوئی اور قدم اٹھانا چاہیے۔ سیکرٹری کمیٹی نے معاملات پر غور کرنے کے لئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس کی سفارشات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں،عدالت نے دہری شہریت رکھنے والوں کو ملازمت ترک کرنے کی ہدایت نہیں کی بلکہ پالیسی سازی کے فیصلے کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے، یہ معاملہ سیکرٹریز کمیٹی کے پاس زیر التواء ہے۔جیمز اقبال کے سوال کے جواب میں وزارت تعلیم نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت ملک بھر میں 124 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں،پنجاب میں 34،وفاق میں 27،سندھ میں 23،خیبر پختونخوا میں 27،بلوچستان میں 8اور آزاد جموں و کشمیر میں 5سرکاری یونیورسٹیاں ہیں۔

مزید : قومی