اگلے سال تک نئے انتخابات اورنیا وزیر اعظم ہوگا :بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ

اگلے سال تک نئے انتخابات اورنیا وزیر اعظم ہوگا :بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ
اگلے سال تک نئے انتخابات اورنیا وزیر اعظم ہوگا :بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری نے کہاہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کوجانا ہوگا ، اگلے سال تک نئے انتخابات اور نیا وزیر اعظم ہوگا ، صرف عمران خان اور ان کے دوستوں کے لئے نیا پاکستان ہے جہاں ہیلی کاپٹر کا ایک کلو میٹر کا سفر پانچ روپے میں ہوتا ہے ۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک تاریخی حملہ ہواہے ، مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں کوکھلی جیل میں رکھا گیا ہے اور اس تاریخی حملے پر حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں ، وہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر ہے اور ہم آخری وقت تک اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس وقت تک ان کے ساتھ کھڑ ے رہیں گے جب تک ہمارے بہن بھائیوں کو انصاف نہیں مل جاتا ۔ انہوںنے کہا کہ جب سے کٹھ پتلی حکومت آئی ہے ، ملک کی معاشی حالت خراب سے خراب ہوتی جارہی ہے ، حکومت کے پاس کوئی حکومتی اور معاشی منصوبہ نہیں ہے جس کا نقصان اس ملک کا عام آدمی اور سفید پوش طبقہ مہنگائی کی صورت میں اٹھا رہا ہے ۔حکومت مکمل طور پرآئی ایم ایف کے سامنے سرینڈر کرچکی ہے، حکومت کی ایک سال کی کارکردگی بدترین رہی ہے،آئی ایم ایف کی پالیسی کا نقصان عوام اٹھارہے ہیں ۔ حکومت اوردائیں بازو کے سیاستدان خاموش ہیں اورایسے میں پیپلز پارٹی پر ذمہ داری آتی ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنے کی جنگ لڑے ، یہ کام صرف پیپلز پارٹی کرسکتی ہے اور ہمیشہ سے کرتی آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری عوامی پالیسی ہے اور اس کے لئے عوام ہمارا ساتھ دیں گے ۔ ہم پیپلز پارٹی کی از سرنو تنظیم کریں گے اور یوم تاسیس پر اس حوالے سے چارٹرڈ کا اعلان کیا جائے گا ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سول نافرمانی کا قدم نہیں اٹھائے گئی ، مولانا فضل الرحمان کے پلان بی اور سی کے بارے میں رہبر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے نمائندے کونہیں بتایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے کافی فائدہ ہوا ، وزیر اعظم عمران خان کے ہٹنے کے امکانات میں اضافہ ہواہے لیکن حکمرانوں کو اندازہ نہیں ہورہا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جمہوریت کے خلاف ہونیوالی سازشیں چھپانے کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں، پیپلز پارٹی نے مارچ سے متعلق اپنے وعدے پورے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتاہے ہوں کہ عمران خان وزیر اعظم نہیں ہیں گے اور اگلے سال تک نئے انتخابات ہونگے اور ہمارا نیا وزیراعظم ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جمہوریت کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ، خاص طور پر سابق صدر آصف زرداری کے ساتھ جوسلوک کیاجارہاہے اس سے پتہ چل رہاہے کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو پاکستان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ سے آصف زرداری تک ان کے ذاتی ڈاکٹر کورسائی نہیں دی جارہی ، اس وقت میرے خاندان کو بنیادی حق بھی نہیں دیا جارہا ، دنیا کی تاریخ میں یہ پہلے بار ہورہاہے کہ ایک شخص جس پر الزامات ہیں اور جس صوبے کی حدود میں الزامات لگے ہیں ،وہاں ٹرائل کرنے کی بجائے کسی اور جگہ ٹرائل کیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا ٹرائل راولپنڈی میں ہورہاہے اور حکومت اس کاجواب نہیں دے رہی ۔ انہوں نے کہا کہ کل جب کے پی کے ٹرائلز لاہور میں ہونگے ۔ پلوچستان کے ٹرائلز لاہور میں ہونگے تو کون اس عمل کوروکے گا ؟ انہوں نے کہا کہ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ اس عمل کوروکا جائے ۔ ان کا کہناتھا کہ جب ایک صوبہ سے تعلق رکھنے والے کے لئے الگ قانون ہوتاہے تو اس سے نظام کوبھی نقصان پہنچتاہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یوم تاسیس پر آزاد کشمیر میں جلسہ کریں گے اور اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ سلیکٹڈ حکومت آئین کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے ، اس غیر جمہوری روایت کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ایک سلیکٹڈ سے دوسرے سلیکٹڈ تک سفر نہیں چاہتی ، پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے نیا الیکشن صاف وشفا ف اس کے نتیجے میں جمہوری نظام قائم ہو۔ آرمی چیف کے حوالے سے سوال پر بلاول بھٹوزرداری کا کہناتھا کہ ہمارے اداروں کو معیشت میں نہیں ملوث کیاجاناچاہئے جو بھی کہہ رہاہے کہ معیشت صحیح سمت میں چل رہی ہے ، وہ یہ سوال بیروزگاروں، چھوٹے کسانوں اور دکانداروں سے پوچھے کہ وہ اس وقت کس معاشی طوفان سے گزررہے ہیں؟اس وقت پاکستان میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی بیروزگار ہوگئے ہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں