گلگت بلتستان کا انتخابی دنگل

گلگت بلتستان کا انتخابی دنگل
گلگت بلتستان کا انتخابی دنگل

  

گلگت بلتستان میں آج میدان لگے گا…… جس شدت کے ساتھ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے الیکشن مہم چلائی اور پورے ملک کو ان انتخابات کے بخار میں مبتلا کیا، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ آج پورے ملک کی نظریں گلگت بلتستان پر لگی ہوں گی۔ آج سارا دن وہاں کیا ہوتا ہے؟ اسے تو ٹی وی چینل دکھائیں گے، تاہم کشیدہ فضا کی پہلے سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے جہاں دھواں دھار انتخابی مہم چلائی، وہیں دھاندلی کے الزامات بھی لگائے اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ پولنگ کے دن انتخابی دھاندلی کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اُدھر گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر مسلسل یہ یقین دہانی کراتے رہے کہ دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس بار تو اپوزیشن کی بات مان کر پولنگ اسٹیشنوں پر فوج بھی تعینات نہیں کی گئی۔اس طرح دیکھا جائے تو وفاقی حکومت اور فوج نے ہر ممکن احتیاط کی ہے کہ آج کا انتخابی دنگل صاف و شفاف ہو اور کسی کو بھی انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

گلگت بلتستان کی دو درجن نشستوں کے لئے سینکڑوں امیدوار میدان میں موجود ہیں، تاہم اصل مقابلہ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں میں متوقع ہے۔ یہ انتخابات شاید اتنی اہمیت اختیار نہ کرتے، اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی صف اول کے رہنما ان میں دلچسپی نہ لیتے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان انتخابات کی مہم چلانے کے لئے گلگت بلتستان میں آکر بیٹھ گئے، پھر اس کے بعد جو سماں بندھا، وہ سب نے دیکھا، یوں لگتا تھا جیسے قومی انتخابات ہو رہے ہوں اور ان کی مہم چلانے کے لئے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین میدان میں نکل آئے ہوں۔ تحریک انصاف نے اپنے چند وزراء پر اکتفا کیا، تاہم یہ وزراء بھی کم آتش بیاں ثابت نہ ہوئے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس انتخابی دنگل نے تقریروں کے معیار کو زمین بوس کیا اور پگڑی اچھال قسم کے الزامات نے ماحول کو پراگندہ کئے رکھا۔ تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور اس سارے عمل میں ”چیمپئن“ بن کر ابھرے۔ انہوں نے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کسی نے انہیں روکا نہ سرزنش کی، حتیٰ کہ الیکشن کمیشن نے بھی نوٹس نہیں لیا۔ ان کا زیادہ تر ہدف مریم نواز رہیں، جس کی وجہ سے اس بات کو زیادہ محسوس کیا گیا کہ الیکشن مہم میں شائستگی کا دامن تار تار کیا جا رہا ہے۔ شاید پی ٹی آئی کے وزراء نے یہ سمجھ لیا تھا کہ مریم کو نشانہ بنا کر وہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیں گے، حالانکہ ایسی باتوں کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔

تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے گرد گھومتی رہی۔ تحریک انصاف کے رہنما یہ کہتے رہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا ہوتا تو اپنے ادوار حکومت میں بنا دیتیں، اب صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں، جبکہ ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے عوام کو خبردار کیا کہ تحریک انصاف کے دھوکے میں نہ آئیں، یہ لوگ کسی صورت صوبہ نہیں بنائیں گے، صرف صوبہ بنانے کا جھوٹا دعویٰ کریں گے، جیسے انہوں نے پہلے جھوٹے دعوے کئے ہیں، کیا واقعی گلگت بلتستان کے مسائل تب حل ہوں گے، جب اسے باقاعدہ ملک کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے گا؟ اس وقت بھی تو گلگت بلتستان کی علیحدہ صوبے جیسی حیثیت ہے۔ اس کا اپنا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہے، اسمبلی ہے، مالی خود مختاری ہے، پھر وہاں کے عوام کو وہ سہولتیں کیوں نہیں ملتیں جو ملک کے دوسرے حصوں میں  رہنے والے عوام کو مل رہی ہیں، گلگت بلتستان میں صرف سیاحت ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے، جسے ترقی دے کر اس خطے کو خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں روزگار بڑھانے کے لئے صنعتی شعبے کا قیام بھی ضروری ہے۔ا گر یہاں بھی ایک فری صنعتی زون بنا دیا جائے تو سرمایہ کاروں کا رخ اس طرف ہو سکتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں بجلی کی سہولت فراہم کرنا بھی ایک اہم ضرورت ہے، جس پر توجہ دینی چاہئے، مگر انتخابی مہم میں سارا زور ایک دوسرے کو القابات اور الزامات دینے پر صرف کر دیا گیا اور اصل مسائل دب کر رہ گئے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کو ماضی میں کبھی وفاقی حکومت اور اپوزیشن کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ نہیں سمجھا گیا۔ بس ایک عام سے انتخابات ہوتے تھے،جن کا بیشتر پاکستانیوں کو علم تک نہیں ہوتا تھا، مگر اس بار کچھ ایسی جادو کی ہوا چلی ہے کہ یہ انتخابات حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے انا کا مسئلہ بن گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات وہ ہر قیمت پر جیتیں گے۔ یہ ہر قیمت پر جیتنے والا دعویٰ معاملے کو کچھ مشکوک بنا دیتا ہے، کیونکہ جیت ہار کا فیصلہ تو عوام نے اپنے ووٹوں سے کرنا ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹوزرداری پہلے ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت ہر قیمت پر اپوزیشن کو انتخابات میں شکست دینا چاہتی ہے، اس لئے دھاندلی کی تیاری کر لی گئی ہے۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ آج کا دن امن و سکون کے ساتھ گزارلیا جائے۔ ووٹروں کو حق رائے دہی کا آزادانہ موقع ملے اور گنتی کے مرحلے کو بھی کسی تنازعے کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ ہارنے والے خواہ مخواہ دھاندلی کے الزامات لگانے کی بجائے کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کریں تاکہ جمہوریت آگے بڑھے، اسے بریک نہ لگے۔

مزید :

رائے -کالم -