روڈ ٹریفک حادثا ت کے متاثرین کی یاد کا عالمی دن

روڈ ٹریفک حادثا ت کے متاثرین کی یاد کا عالمی دن
 روڈ ٹریفک حادثا ت کے متاثرین کی یاد کا عالمی دن

  

روڈ ٹریفک حادثات کے متاثرین کا عالمی دن ہر سال ماہ نومبر کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا مقصد ٹریفک حادثات میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کو یاد کرنا اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جوٹریفک کے حادثات خون میں لت پت متاثرین کو بروقت جائے حادثہ پر پہنچ کر پیشہ وارانہ مدد فراہم کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کرتے ہیں۔ سال 2020ء میں بھی ٹریفک حادثات کے متاثرین کا عالمی دن اسی حوالے سے منایا جا رہاہے  لیکن اس سال اس دن کے منانے کے خصوصی مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار کی ریسرچ کی بنیاد پر ایسے اقدامات لیے جائیں جس سے روڈ ٹریفک حادثات کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ 25سال سے یہ دن منایا جا رہا ہے بلکہ یہ اقوام عالم کی پائیدار ترقی کیلئے مقرر کئے گئے 17اہداف میں سے ایک اہم ہدف ہے جو صحت سے متعلق SDG-6 پر کام کئے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس اہم ہدف کے تحت روڈ ٹریفک حادثات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لانا انتہائی اہم ہے۔ 

مجموعی طور رپر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجہ سے زخمیوں اور اموات کی شرح میں اضافہ پریشان کن ہے۔ ہر سال تقریباً 13لاکھ کے قریب لوگ دنیا بھر میں ٹریفک حادثات کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں 54فیصد حادثات موٹر سائیکل، سائیکل اور پیدل چلنے والوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں دنیا بھر کی صرف ایک فیصد گاڑیاں موجود ہیں جبکہ 13فیصد اموات واقع ہو رہی ہیں اس کے برعکس زیادہ انکم والے ترقی یافتہ ممالک میں دنیا بھر کی 40فیصد گاڑیاں ہیں لیکن 7فیصد اموات ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر 24سیکنڈ میں روڈ ٹریفک حادثہ کی وجہ سے ایک موت واقع ہوتی ہے۔ 

سال 2019ء میں عالمی ادارہ صحت نے گورنر ہاؤس میں روڈ سیفٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں تمام متعلقہ ادارے بھی موجود تھے۔ اس ورکشاپ کا مقصد ان عناصر کا جائزہ لینا تھا جن کی وجہ سے ٹریفک حادثات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں اس ورکشاپ کے ذریعے اقوام متحدہ کی روڈ سیفٹی مینجمنٹ، محفوظ سٹرکوں اور سفر، محفوظ گاڑیوں، محفوظ طریقے سے روڈ کا استعمال اور روڈ حادثات میں ریسپانس کے مطابق ایسے اقدامات کی طرف راغب کرنا ہے جس سے روڈ حادثات کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ اس ورکشاپ میں نشاندہی کی گئی کہ ہر ایک منٹ اور6سیکنڈ میں ایک روڈ ٹریفک حادثہ رونما ہو رہا ہے اور ریسکیو1122روزانہ کی بنیاد پر اوسط 970روڈ ٹریفک حادثات کو ریسپانس کر رہاہے۔ 

اس عالمی دن کے 2020ء کے مقاصد کے مطابق ریسرچ کی بنیادپرروڈ سیفٹی کیلئے اقدامات پر عمل پیرا ہونا اہم ہے۔ ان میں پنجاب کی ریسرچ کے مطابق موٹر سائیکل کی رفتار کو 50کلو میٹر فی گھنٹہ سے چلانا، موٹر سائیکل کے لئے مختص لائن میں ڈرائیونگ، ہیلمٹ کا استعمال، محفوظ ٹرانسپورٹ اور لائسنس سسٹم کو بہتر بنانا شامل ہیں۔ پنجاب ایمرجنسی سروس کے ایمرجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 2004ء سے اب تک 26لاکھ سے زائد روڈ ٹریفک حادثات کو بروقت ریسپانڈ کیا گیا۔ ان اعدادوشمار سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ 83فیصد روڈ ٹریفک مو ٹر بائیک سے منسلک ہیں اور روزانہ اوسطاً 970خاندان اس کرب سے گزرتے ہیں کہ ان کو پیارا گھرا کا واحدکمانے والا کسی حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔  روڈ ٹریفک حادثے اچانک رونما ہوتے ہیں اور اس کے شکار افراد کے خاندان کی تکلیف کو اعدادوشمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ٹریفک حادثات میں اگر بروقت ایمرجنسی سروسز فراہم نہ ہوں تو بہت سی قیمتی جانیں شدید خون بہنے اور دل بند ہونے کی وجہ سے جائے حادثہ پر ہی موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ریسکیو1122حکومت پنجاب کا ایسا تحفہ ملا ہوا ہے جو ہر شہری کو ایک ایمرجنسی کال پر 7سے 10منٹ میں پہنچ کر بروقت ایمرجنسی سروسز فراہم کرکے محفوظ طریقے سے ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ریسکیو 1122کے جامع منظم نظام کی وجہ سے تمام متاثرین کو بروقت پیشہ وارانہ سروسز مل رہی ہیں اور کہیں قیمتی جانیں بچائی جا رہی ہیں۔ 

ریسکیو سروس کی مینجمنٹ اس بات پر پر عزم ہے۔ ایمرجنسی کے اعدادو شمار کی ریسرچ کی بنیاد پر حادثات کی کمی کیلئے جو سفارشات پیش کی جائیں ان پر عمل درآمد کرکے روڈ سیفٹی کو یقینی بنایا جائے۔ ہم سب کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ حادثات ہماری لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے پیش آ رہے ہیں۔ 83فیصد موٹر سائیکل سے منسلک حادثات کی وجوہات میں بھی ہیلمٹ کا نہ پہننا، لائن کا خیال نہ رکھنا، سائیڈ مررکا استعمال نہ کرنا، ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال یا پیغام رسانی کرنا شامل ہیں۔ 

ایسے تمام حادثات جو انسانی غفلت لاپرواہی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں تھوڑی سی احتیاط سے ان میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ رویوں میں تبدیلی کے بعد منظم کوششیں جو حکومتی سطح پر ضروری ہیں۔ ان میں پورے ملک کیلئے لائسنس حاصل کرنے کا موثر اور ایک جیسا نظام، روڈ سیفٹی کو نصاب کا حصہ بنانا، روڈ سیفٹی پالیسی کا نفاذ خصوصاً پیدل چلنے والوں اور non-motorized گاڑیوں کیلئے قانون بنانا اور عمل درآمد شامل ہیں۔  اس کے علاوہ ہر ایک کو چاہیے کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرے ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال نہ کرے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں، دیر سے پہنچنا کبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔ روڈ حادثات کے شکار افراد ہم سب سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ذمہ دار شہری بنتے ہوئے یہ عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لا کر روڈ سیفٹی کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان میں محفوظ معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -