پولیس افسران کو تبدیل نہیں سزا دینے کی ضرورت ہے 

پولیس افسران کو تبدیل نہیں سزا دینے کی ضرورت ہے 
پولیس افسران کو تبدیل نہیں سزا دینے کی ضرورت ہے 

  

کسی بھی ملک اورمعاشرے سے 100فیصد تک جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں، مگران کی روک تھام کے لئے قائم کردہ ادارے اور ان میں تعینات افسران و عملہ اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کرے تو جرائم کی شرح میں واضح کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔ امن و امان کی صورت حال کو بحال رکھنے میں پولیس کا کردار کسی سے بھی مخفی نہیں۔ جس معاشرے میں پولیس اپنے فرائض بہتر طورسے انجام دیتی ہے وہاں پر جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابرہوتی ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں پولیس کی جانب سے بھی ڈاکوؤں، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کرکے امن و امان کی فضابہتر بنانے کے لئے کمپیوٹر و موبائل ایپس کا استعمال کیا جارہا ہے جس سے پولیس کو کافی کامیابیاں بھی ملی ہیں۔اچھے وقتوں میں پولیس سروس آف پاکستان ناصرف اندرون ملک‘ بلکہ عالمی سطح پر بھی اچھی شہرت کا حامل ایک ایسا اہم پاکستانی ادارہ تسلیم کیا جاتا تھا جس کے دامن سے و۱بستہ افسران بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ممالک میں فساد کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں،تاہم کمزور جمہوری حکومتوں اور آمروں کی مداخلت کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پولیس کا ادارہ بھی روبہ زوال ہو۱ہے، امن و امان کی خراب صورتِ حال نے قوم کے اعصاب شل کر دیئے ہیں، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مارچ کو روکنے میں ناکامی پر پنجاب پولیس کا مورال سوچ سے بھی زیادہ ڈاؤن ہوا ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں کی تعداد ہر مرحلے میں پولیس سے زیادہ تھی۔پنجاب پولیس اپنی تمام تر طاقت کے باوجود اس مارچ کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہی۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پولیس کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت اور بروقت معلومات کا تبادلہ نہ ہونا پولیس کی ناکامی کی اہم وجوہات ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ مارچ کو نہ روکنے کی ذمہ دار لاہور پولیس کی کمانڈہے،کمانڈر کی نہ تو اپنی   انٹیلی جنس اور نہ ہی کو ئی پالیسی تھی اور نہ ہی بتایا گیا کہ کیا ہونے والا ہے جس کے باعث پولیس فورس کو اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ کیا ہو گا؟کمانڈ کیے ساتھ مارچ کو نہ روکنے کے ایس پی صاحبان بھی برابر کے ذمہ دار ہیں اگر لاہور میں کام کرنے والے ایس پی صاحبان کا تعین کیا جائے تو ان کی تعداد 18 ہے اگر یہ کہا جائے کہ لاہور میں کام کرنے والے ایک دو ایس پی صاحبان کو نکال کر ان کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کا شمار تاریخ کے”نکمے ترین“ ا فسران میں ہو تا ہے، ان افسران کا پروفائل اور ریکارڈ اچھے ہونے کی گواہی نہیں دیتا، تقریباً دو ماہ قبل سابق سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی جانب سے کرائم رپورٹرز کو دی گئی ایک دعوت میں ایس پی صاحبان کی موجودگی میں سب نے  پکار پکار کر کہا کہ آپ کے ایس پی صاحبان مبینہ طور پر کرپٹ اور”فون نہیں سنتے“ غلام محمود ڈوگر کی منت سماجت کے باوجودکسی نے ان کی ہدایت پر عمل نہ کیا، نئے  سی سی پی او فیاض احمد دیونے بھی تعارفی میٹنگ کے لیے کرائم رپورٹرز کو دعوت دی تو اب بھی سب نے ایک ہی سوال دھرایا ہے کہ لاہور میں تعینات ایس پی صاحبان کا میڈیا کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں لاہور پولیس کی ناکامی میں ان کا بڑا ہاتھ ہے ،یہاں بات کی جاتی ہے تھانہ کلچر تبدیلی کی جب تک پولیس افسران خود اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے اس ادارے میں بہتری کے آثارنظر نہیں آتے، افسروں کی خراب کارکردگی کو جہاں زیر بحث لایا گیا ہے وہاں اس ادارے میں اچھی شہرت کے حامل، نیک سیرت ملنساز آفیسرز اور انتہا کے منجھے ہو ئے کمانڈر بھی موجود ہیں،سابق سی سی پی او ”بی اے ناصر“ ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمد خان اور وقاص نزیر کا دور لاہور میں بڑا مثالی اورتاریخی رہا ہے۔

ٹی ایل پی کے کارکنوں نے اس دور میں بھی اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کیا مگر سابق سی سی پی او ”بی اے ناصر“ کی ٹیم نے انھیں یتیم خانہ چوک کراس کرنے کی اجازت نہ دی،نہ تو کوئی گملا ٹوٹا اور نہ ہی کسی اہلکار کو پتھر مارا گیا،اس دور میں ایس پی صاحبان بھی سسٹم  میں رہ کر کام کرتے تھے ان کے تبدیل ہونے کے بعد لاہور پولیس کا شیرازہ بکھرتا ہی گیا جو تاحال سنبھل نہیں پایا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹی ایل پی کے مارچ کو روکنے میں ناکامی کے ذمہ داران کو سخت سزائیں دی جاتیں تاکہ فورس کا مورال بلند ہوتا،کسی کو جبری ریٹائر توکسی کی فائل میں سرخ پنسل سے تحریر کیا جاتا کہ اب یہ پنجاب میں ملازمت نہیں کر پائیں گے مگر ایسا نہیں کیا گیا، صوبے بھر میں گریڈ 19 سے گریڈ 21 تک کے 20 پولیس افسروں کے تبادلے کرکے ادارے کا مورال بلند کرنے کی جو ناکام کوشش کی گئی ہے،اس سے مورال اور ادارے ٹھیک نہیں تباہ ہوتے ہیں، اس میں کو ئی شک نہیں لاہور میں تعینات نئی ٹیم بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس پروفائل اور کردار میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں جس جذبے اور لگن کے سا تھ وہ کام کرتے ہیں امید ہے وہ اپنے اور پنجاب پولیس کے کمانڈر کا کھویا ہوا مقام انھیں واپس دلوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -