جنوبی وزیرستان امن مارچ

جنوبی وزیرستان امن مارچ
جنوبی وزیرستان امن مارچ

  

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ڈرون حملوں اور امریکی جارحیت کے خلاف جنوبی وزیرستان امن مارچ، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، شاید دُنیا کے لئے ایک انوکھا امن مارچ ہو گا، جس میں امن مارچ کے شرکاءنے سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کیا اور پُرامن مارچ کیا اور ڈرون حملوں اور امریکی جارحیت کے خلاف خاموش احتجاج کیا اور کسی جگہ بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ جنوبی وزیرستان امن مارچ میں پاکستان کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں دُنیا بھر سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں نے حصہ لیا اور عمران خان کی لیڈر شپ اور وژن کو قریب سے دیکھا۔ جنوبی وزیرستان امن مارچ سے قبل پاکستان اور دُنیا کے میڈیا پر مختلف حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات اُٹھائے گئے، بلکہ یورپ اور امریکی حکومتوں نے اپنے اپنے ملک کے صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خبردار کیا کہ وہ اِس امن مارچ میں حصہ نہ لیں، کیونکہ جنوبی وزیرستان ایک خطرناک علاقہ ہے، جہاں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن دُنیا جہاں نے دیکھا کہ7اور8اکتوبر2012ءکے امن مارچ میں کسی قسم کی کوئی ہلڑ بازی نہیں ہوئی اور عمران کا امن ماچ اپنے طے شدہ روٹ اور پروگرام کے مطابق خوش اسلوبی سے اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔

 عمران خان پہلے دن سے ہی پاکستان پر مسلط امریکی جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں،جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنے40ہزار سے زائد فوجی اور سویلین افراد کی قربانی دی ہے اور یہ قربانیاں تاحال بغیر کسی مقصد کے جاری ہیں۔ اسی نام نہاد امریکی جنگ کی وجہ سے ہمارا ملک گزشتہ10سال میں70ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اُٹھا چکا ہے، پورا ملک دہشت گردی، ڈرون حملوں، بم دھماکوں اور انارکی کی زد میں ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں حکومتی رٹ کا نام و نشان نہیں، خیبر پختونخوا ، فاٹا ، بلوچستان اور کراچی میں امن و امان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ سندھ اور پنجاب میں حالات قدرے بہتر ہیں، لیکن عالمی اور ملکی دہشت گرد جب چاہتے ہیں،یہاں بھی حالات خراب کر دیتے ہیں۔ صوبائی اور مرکزی حکومتیں موجودہ حالات کی ذمہ داری پرویز مشرف حکومت پر ڈال کر اپنی جان چھڑانے کی کوششیں کرتی ہیں، لیکن موجودہ حکومتیں بھی مشرف دور ہی کی داخلی اور خارجی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور مستقبل قریب میں بھی ان حکومتوں سے کسی بہتری کی امید نہیں۔

ان حالات میں عمران خان نے پاکستان بچانے کا نعرہ لگایا۔ نوجوانوں نے اُن کے نعرے پر لبیک کہا۔ حالیہ امن مارچ بھی عمران خان کی کوشش تھی کہ وزیرستان کے نہتے عوام کی آواز دُنیا تک پہنچائی جائے کہ امریکی ڈرون بے گناہ شہریوں کو قتل کر رہے ہیں، جس سے دُنیا کا امن بھی تباہ ہو گا۔ دُنیا کو باور کروایا جا سکے کہ لڑائی اور دہشت گردی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امن، برداشت اور مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ یہ علاقے جہاں آج دہشت گردوں کا راج ہے، 30سال قبل بڑا پُرامن خطہ تھا۔ سرد جنگ سے1970ءاور 1980ءکی دہائی میں ہمارے فوجی حکمرانوں اور غیر ملکی آقاﺅں نے مشترکہ جہادی تیار کئے۔ اُن جہادیوں سے اُلٹے سیدھے کام کروائے، ڈالر کمائے اور اپنی نسلوں کو سول حکمرانی میں لائے۔

ہم بغیر مقصد کے 30سال سے حالت جنگ میں ہیں۔ چند سو حکمرانوں کی بے حمیتی اور دوغلی پالیسی کی بنا پر 18کروڑ عوام یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ یہی وہ حالات تھے، جن میں عمران خان نے ملک کے نوجوانوں کو ملک بچانے کے لئے اکٹھا کیا۔ نوجوان اب عمران خان کی کال پر ملک بچانے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے امن مارچ کی کا میابی کو دُنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر کوئی اپنے حساب سے اس امن مارچ پر تبصرہ کر رہا ہے، لیکن اس امن مارچ کے بعد خیبر پختونخوا، فاٹا، بلوچستان جو کہ غیر ملکی جنگ سے زیادہ متاثر ہیں، عمران خان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، پنجاب اور سندھ میں بھی عمران کی مقولیت تیزی سے بڑھی ہے۔

  جنوبی وزیرستان کامیاب امن مارچ کے بعد عمران خان نے ٹانک کے تاریخی جہاز گراﺅنڈ میں خطاب کیا اور کہا کہ اس امن مارچ کا مقصد دُنیا بھر کے عوام کو پاکستان، خاص طور پر فاٹا، وزیرستان کے حالات سے آگاہ کرنا تھا۔ ہم نے ملک اور عوام کو بچانا ہے۔ ہم نے ایک بار جنوبی وزیرستان کے مظلوموں کی آواز مہذب دُنیا تک پہنچا دی ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ قتل ہو رہے ہیں۔ ہم وزیرستان کے لوگوں کے ساتھ تھے، ہیںاور ہمیشہ رہیں گے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم حکومت میں آ کر قبائلی عوام سے نئے رشتے بنائیں گے اور انگریز کے نظام کو دفن کر کے تمام قومیتوں اور فرقوں کو اکٹھا کر کے نیا پاکستان بنائیں گے۔ عمران خان کا امن مارچ بلاشبہ موجودہ حالات میں امن قائم کرنے اور قبائلی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی ایک زبردست کاوش تھی، جسے ملک کے طول و عرض کے علاوہ ساری دُنیا میں سراہا گیا۔    

مزید :

کالم -