مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (1)

مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (1)
مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (1)

  



مصطفی زیدی نے ایک مثنوی کہی تھی،مثنوی ”سیاستِ درباں“.... اس مثنوی کا شمار مختصر اور سیاسی وسماجی موضوعات سے متعلق مثنویوں میں کیا جاسکتا ہے۔اِس میں زمانے کے چلن سے شکوہ،منافقت اور مایوسی وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ سو اِس مثنوی کا قدیم مثنویوں سے اِس لئے تقابل نہیں کیا جاسکتا کہ اِس میں کہانی یا قصے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔مصطفی زیدی کی ہجو”در آشوب تقرر“ ذاتی نوعیت کی ہے۔اِس میں اخلاقی کمزوریوں کا خاکہ اُڑایا گیا ہے۔ اِس میںہجو یہ عناصر کم اور تاسف کا عنصر زیادہ ہے۔تلخی اور دُکھ کا احساس غالب ہے اور تضحیک کا پہلو ذرا دبا ہوا ہے، لیکن صرف ایک اور وہ بھی مختصر ہجو کی وجہ سے اِس کی حیثیت ہجویہ شاعری کی روایت میں صرف اتنی ہے کہ ذاتی نوعیت کی ہجو میں ہر انداز میں معاشرتی بُرائیوں کی طرف نگاہ ڈالی گئی ہے۔مصطفی زیدی نے صرف پانچ(5) دوہے کہے ہیں۔اِن دوہوں میں ہندی لب ولہجے کی چاسنی ہے۔مصطفی زیدی نے اپنے بھائی مجتبیٰ زیدی کا نوحہ کہا ہے۔یہ نوحہ دُکھ درد اور تکلیف کے پہلوﺅں کے باوجود اُردو نوحے کی اِس روایت سے تعلق نہیں رکھتا جس میں ہم اہل بیت کے نوحے کہتے ہیں۔

مصطفی زیدی کے نثری سرمائے میں اُن کے تنقیدی مضامین،مزاحیہ مضامین، تاثراتی مضامین، تقاریر اور خطو ط کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لے کر یہ نتائج نکالے جاسکتے ہیں کہ اُن کے تنقیدی مضامین ایک خاص تنقیدی پس منظر رکھتے ہیں۔دور جدید کے بڑے نقادوں اور ادیبوں کی تحریروں سے استفادے سے اپنی تنقیدی بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔زیادہ تر دیباچے یا پیش لفظ ہیں، جن میں اُنہوں نے نظری اور عملی تنقید نگاری کی ہے۔کہیں کہیں جانبداری کا تاثر بھی ملتا ہے۔ تاثراتی مضامین میں سادگی اور مزاح کی خوبصورتی کے ساتھ سلیس پیرایہ بیان استعمال کیا گیا ہے ،البتہ مزاحیہ مضامین میں طنز کی لہر بھی موجود ہے۔ مکاتیب چونکہ تعداد میں نسبتاً زیادہ ہیں،سو اُن کے محاسن میں اپنائیت، خلوص،دل سوزی، بے تکلفی، رومانویت اور سادگی کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔

مصطفی زیدی کی بنیادی حیثیت شاعر کی ہے اور شاعری میں گو اُنہوں نے غزلیں کہی ہیں، مگر اُن کا غالب رجحان نظم کی طرف رہا۔یہ تو طے رہا کہ وہ زیادہ ترنظم کے شاعر ہیں۔مگر غز ل میں بھی کم ازکم نظر انداز کئے جانے والے شاعر نہیں ہیں۔اُردو غزل کے”انتخاب زریں“ میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے مصطفی زیدی کی دو غزلیں شامل کی ہیں، جن کا ایک ایک شعر یہاں شائع کیا جا رہا ہے:

اِنہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آﺅ

 مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

٭٭٭

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

ہم اُن کے پاس جاتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ

 غزل میں مصطفی زیدی ایک صاحب ِ طرز شاعر ہیں۔محض نئی طرز ایجاد کرنے کے معنوں میں نہیں کیونکہ نئی طرز خوبصورت بھی ہوسکتی ہے اور بدنما بھی۔مگر ایسی طرز جو قدیم وجدید روایت کے محاسن سے مزین ہو اور دوسرے اہل قلم سے ممیز بھی ہو،قابل تحسین ہے۔اِس میں ایک لذت اور انفرادیت ہوتی ہے۔مصطفی زیدی اِسی طرز ِخاص کے حامل ہیں۔ مصطفی زیدی کی تخلیقی زندگی کا سفر ارتقاءکے مختلف مراحل سے گزرا۔جب وہ تیغ الٰہ آبادی تھے تو شاید تخلص کی مناسبت سے یا جوش ومجاز کے اثر سے اُن کے یہاں رومانوی اور سیاسی دونوں ردعمل شدید تھے۔جب تک وہ تیغ الٰہ آبادی رہے، اُن کے اظہار میں ضبط اور ٹھہراﺅ کا وہ عالم نہ تھا جو مصطفی زندی بننے کے بعد پیدا ہوا ،لیکن مصطفی زید ی کی شخصیت میں وہ تیغ چھپا رہا جو جھوٹی اخلاقیات کا باغی تھا اور جس نے کبھی کسی ناپسندیدہ صورت حال سے سمجھوتا نہیں کیا تھا۔ فیض احمد فیض کہتے ہیں:۔”ایک زمانے میں تیغ الٰہ آبادی ہواکرتے تھے۔تیغ زنی سے جی اُکتایا تو مصطفی زیدی بن گئے، لیکن مصطفی زیدی جب بھی تھے اور تیغ آزما اب بھی ہیں ،یعنی اُن کے سخن میں سوز جب بھی تھا اور خروش اب بھی ہے“۔مصطفی زیدی کی غزل میں اپنے عہد کا شعور اور سماجی طرز ِاحساس واضح طور پر آتا ہے۔ اُن کی غزل میں معاشرے کی بے حسی اور ناقدری کا شکوہ محض شکوہ نہیں رہتا ،بلکہ ایک احتجاج اور بغاو ت کی شکل اختیارکرلیتا ہے۔ ایسے میں تیغ بے نیام ہوجاتا ہے۔یہاں اُن کا لہجہ جوش ملیح آبادی سے متاثر نظر آتا ہے۔ فیض اور فراق کے اثرات اُس وقت دکھائی دیتے ہیں ،جب تیغ الٰہ آبادی پر مصطفی زیدی غالب آجاتے ہیں ۔اُن کی شاعری کا عہد راشد،فیض، مجید امجد، ناصر کاظی ،حفیظ ہوشیار پوری،مجاز اور ساحر لدھیانوی جیسے شعراءکا تھا۔ اِس بھرپور فضا میں اُن کی غزل میں زندہ رہ جانے والی وہ خصوصیت موجود تھی جس نے اپنے عہد کے شعری اُفق سے ہم آہنگی اختیار کی اور تخیل و بیان کی ندرت جیسے اوصاف کی وجہ سے اُن کے اشعار سینہ بہ سینہ،لب بہ لب سفر کرنے لگے، جیسے:

 مری رُوح کی حقیقت مرے آنسوﺅں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم، مرا ترجماں نہیں ہے

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی

مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

(جاری ہے) 

مزید : کالم