غزل کی نیم نگاہی کا قائل.... مصطفی زیدی (2)

غزل کی نیم نگاہی کا قائل.... مصطفی زیدی (2)

  



                                                                                                                    اس سلسلے میں انھوں نے جن اشعار کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

راتوں کو کلی بن کے چٹکتا تھا ترا جسم

دھوکے میں چلی آئی نسیم سحری بھی

....................

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے

اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے

ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے

....................

تھوڑی سی دیر صبر کہ اس عرصہ گاہ میں

اے سوزِ عشق ہم کو ابھی کام بہت ہیں

شہر آزر میں رنگ ِ میر اور اثرات ِ میر کے آئینہ داربھی چند اشعار ملتے ہیں:

کچھ میر کے حالات پڑھو، خوف کرو تیغ

لے دے کے بس اک عزتِ سادات رہی ہے

اور رنگ ِ میر میں یہ پوری غزل مثال بن سکتی ہے:

ہم نے تو کتنا سمجھایا، پی لو، سمجھو بھول ہوئی

شیخوں کی اس دور میں حالت جو بھی ہوئی معقول ہوئی

اس غزل میںیہ شعر میر کی لفظیات لئے ہوئے ہے:

لو بھائی ہم نے بھی آخر قشقہ کھینچا بیٹھ رہے

دیر نہیں تو خیر سے اس کے دروازے کی چول ہوئی

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کلامِ میر کی ایک خوبی یہ بتائے ہیں:

”.... میر کی زبان میں اسمائے صفات کی طومار نہیں“۔

اسمائے صفات کی طومار بعض اوقات ابلاغ کو مشکل بنا دیتی ہے۔

مذکورہ غزل کے مطلعے میں صرف دو اسما ہیں، باقی نحوی اکائیاں ہیں۔ گو کہ اس غزل کی فنی حیثیت بلند پایہ نہیں کہی جا سکتی، مگر بعض مصرعوں کے نحوی واحدے رنگ ِ میر کی شعوری کاوش کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جیسے:

پیارے بات کو کیا کہتے، صورت دیکھو، چپ ہو جاﺅ

اُس نے تو جو بات بھی کہ دی عام بنی، مقبول ہوئی

”شہر آزر“ کی غزلوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں مصطفی زیدی کا مخصوص فلسفہ معصیت اور عورت کا استعارہ اس طوفانی اور ہیجانی انداز میں نہیں ہے، جس طرح بعد کی غزلوں میں آتا ہے۔ اس مجموعے کی تمام غزلوں میں سے بھی اگر اس رنگ کے اشعار تلاش کئے جائیں تو زیادہ نہیں نکلیں گے:

ضبط اے دلِ بے تاب دوسروں کی محفل میں

لوگ اس کی پلکوں میں ڈھونڈ لیں گے افسانے

....................

اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ

بس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے

....................

اس کی کلی سے نرم جوانی غیر کے پیار سے ناواقف

دھیرے دھیرے چٹکی ساری رات کٹی تو پھول ہوئی

....................

مرے ہونٹ جل رہے تھے مرا دل سلگ رہا تھا

وہ سلام کر رہی تھی مَیں کھڑا ہوا تھا گم صُم

طویل غزلوں میں سے اس قسم کے چند اشعار کا ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اصل میں یہ رجحان آگے چل کر ان کی نظموں اور غزلوں کا غالب رجحان بنا۔

”شہر آزر کی غزلوں میں جمالیاتی احساس کی بھی نفیس صورتیں ملتی ہیں:

کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کا پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

....................

تیرے غموں سے ایک بڑا فائدہ ہوا

ہم نے سمیٹ لی دلِ مضطر میں کائنات

اس راہِ شوق میں مرے نا تجربہ شناس

غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط

....................

اے دل ذرا سا جراتِ اِندی سے کام لے

کتنے چراغ ٹوٹ گئے احتیاط میں

”شہر آزر “ کی غزلوں میں حقیقت نگاری کے حوالے سے ترقی پسندی کے آثار بھی ملتے ہیں۔ مگر یہ ترقی پسندی کسی ایک جماعت کی ترقی پسندی نہیں تھی اور نہ اس ترقی پسندی کا انداز خالص ترقی پسندانہ ہی تھا۔ وہ انفرادی نظر سے مشاہدہ کرتے ہیں اور جدید بحران کا منظر ان کو پریشان کرتا ہے، مگر مایوس نہیں کرتا:

آج اہل زنداں نے رت جگا منایا ہے

آج شہر والوں پر ہنس رہے ہیں دیوانے

....................

ابھی امنگوں میں تھوڑا سا خون باقی ہے

نچوڑ لے غمِ دنیا، نچوڑ لے غم دل

ان اشعار میں فیض کے لہجے کا ہلکا سا پر تو دکھائی دیتا ہے۔ لفظیات کی حد تک تو یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے۔ اس کے آگے یہ حقیقت بھی ہے کہ ان لفظوں کی شعری بُنت پر بھی فیض کے اثرات ہیں، ان غزلوں میں روایت کے ساتھ ساتھ ایک نئے پن کا سراغ بھی ملتا ہے۔ فیض کے ساتھ اگر ہم مصطفی زیدی کا یہ پہلو جوڑنے کی کوشش کریں تو روایت کی چاشنی کے ساتھ ساتھ شاعر کے اپنے عہد کے وبال بھی اس کے شعری شعور میں سر اٹھاتے دکھائی دیتے ہی، جیسے:

صبح کے نکلے دیوانے اب کیا لوٹ کے آئیں گے

ڈوب چلا ہے شہر میں دن، پھیل چلا ہے سایہ ¿ دار

شاعر کے پاس الفاظ کے استعمال کی ایک ایسی طاقت ہوتی ہے، جس سے وہ پڑھنے والے کے ذہن پر ویسا ہی اثر ڈالتا ہے جیسا کہ اس کے تجربات اور واردات نے اس پر ڈالا تھا اور اس نے اپنے اظہار کے ذریعے قاری کو بھی اس کیفیت سے روشناس کرا دیا۔ اس حوالے سے ”شہر آزر“ کی یہ غزل کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے:

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی مہرباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا سو وہ بھی اب مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوﺅں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم میرا ترجماں نہیں ہے

سو اسی لئے ایسے اشعار نے خاص و عام کے دل میں گھر کر لیا۔ مصطفی زیدی کے ان اشعار میں زبان کی عام ساخت یعنی جملے کی ساخت برقرار رہی ہے۔ یہ کسی شاعر کی قدرتِ کلام کا ثبوت ہوتا ہے، یہاں جملوں اور لفظوں کی ترتیب گفتگو کی ترتیب سے دور نہیں ہے اور شعریت کا حق بھی ادا ہوا ہے۔

”شہر آزر“ کے ایسے اشعار میں نحوی سادگی کے ساتھ ساتھ معنی کی گہرائی بھی موجود ہے۔ جہاں زبان کی محض اوپری ساخت ہی کار فرما نہیں ہے، بلکہ زبان کی داخلی ساختیں بھی کام کرتی ہیں:

یہاں ہم اپنی تمنا کے زخم کیا بیچیں

یہاں تو کوئی ستاروں کا جوہری بھی نہیں

کسی کا قرب جو ملتا تو شعر کیوں کہتے

فسردہ حالی ¿ اربابِ فن بُری بھی نہیں

.................... 

شہنائیوں کی اوٹ سے اُن کو بھی دیکھ لو

کچھ پھول جل گئے ہیں مسرت کی رات میں

”شہر آزر“ کی غزلیں تعداد میں کم ہیں۔ غزلوں کی تعداد کے باوصف اچھے اشعار کی تعداد بہت بہتر ہے۔ نظیر صدیقی اپنے مضمون”مصطفی زیدی کی شاعری“ میں لکھتے ہیں: ”مصطفی زیدی کا نام لینے سے ایک غزل گو شاعر کا نام ذہن میں نہیں آتا۔ لیکن ان کی غزلوں کو پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ وہ غزل کے کتنے اچھے شاعر ہیں“۔

بہ حیثیت مجموعی” شہر آزر“ کی غزلیں کلاسیکی رنگ کے ساتھ ساتھ ایک تازگی کا احساس بھی دلاتی ہیں۔ معاشرتی ابتری اور قدروں کی پامالی کے احساس کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔ خود شاعر کے مزاج کے کئی رنگ دکھانے کے ساتھ ساتھ انکشاف ذات سے انفرادیت کا عنصر بھی پیدا ہوا ہے، غزل اور جمالیات کا گہرا تعلق ہے۔ ”شہر آزر“ کے اشعار میں جمالیاتی احساس بار ہا نفاست کا احساس دلاتا ہے۔ ” شہر آزر“ کی غزلوں میں رومانویت کا عنصر غالب رہا۔ اس حوالے سے مجاز اور اختر شیرانی کی رومانویت کو آگے بڑھانے والوں میں مصطفی زیدی کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

مصطفی زیدی کی غزل میں اپنے عہد کا شعور اور سماجی طرز احساس واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ان کی غزل میں معاشرے کی بے حسی اور ناقدری کا شکوہ محض شکوہ نہیں رہتا، بلکہ ایک احتجاج اور بغاوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے میں تیغ بے نیام ہو جاتا ہے۔ یہاں ان کا لہجہ جوش ملیح آبادی سے متاثر نظر آتا ہے۔ فیض اور فراق کے اثرات اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب تیغ الٰہ آبادی پر مصطفی زیدی غالب آ جاتے ہیں ان کی شاعری کا عہد ن۔ م۔ راشد، فیض احمد فیض، مجید امجد، ناصر کاظمی، حفیظ ہوشیار پوری، اسرار الحق مجاز لکھنوی اور ساحر لدھیانوی جیسے شعرا کا تھا۔ اس بھرپور فضا میں ان کی غزل میں زندہ رہ جانے والی وہ خصوصیت موجود تھی، جس نے اپنے عہد کے شعری افق سے ہم آہنگی اختیار کی اور تخیل اور بیان کی ندرت جیسے اوصاف کی وجہ سے اُن کے اشعار سینہ بہ سینہ، لب بہ لب سفر کرنے لگے جیسے:

مری روح کی حقیقت مرے آنسوﺅں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم، مرا ترجماں نہیں ہے

کچے گھڑے نے جیت لی ندّی چڑھی ہوئی

مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

مزید : کالم