انتہا پسند

انتہا پسند
انتہا پسند

  

دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ناروے میں خطرناک ترین حملہ تھا۔ 3 بج کر 25 منٹ کے لگ بھگ زوردار دھماکہ ھوا۔ زمین ہل گئی۔ عمارتیں لزراٹھیں۔ ایک متاثرہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس دو منزلہ عمارت میں وزارت تیل (منسٹری آف آئل ) کا دفتر تھا۔ دھوئیں کے بادل سینکڑوں فٹ بلند تھے۔ شیشے کے ٹکڑوں اور ملبے سے سڑک اٹی پڑی تھی۔ دھماکہ اس قدرشدید تھا کہ سامنے 17 منزلہ عمارت کے تقریباً سارے شیشے چکنا چور ہو گئے۔ وزیراعظم کا دفتر سولہویں منزل پر تھا۔ وزارت عدل (جسٹس منسٹری ) کا دفتر بھی اسی عمارت میں تھا۔ یہ واقعہ اوسلو میں پیش آیا۔

سرویلنس کیمرہ سے معلوم ھوا کہ ایک وین 3 بج کر 13 منٹ پر ایچ بلاک سے 200 میٹر کے فاصلے پر آکر رُکی۔ چاروں انڈیکیٹرایک منٹ اور چون سیکنڈ کے لئے جلتے رھے۔ پھر ڈرائیور نے بقیہ دو سو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ وین سرکاری عمارت کے مرکزی راستہ کے سامنے پارک کی۔ دروازہ کھلا، ڈرائیوربرآمد ہوا اورکچھ فاصلے پرموجود دوسری کارکی طرف بڑھ گیا۔ وہ پولیس افسر کی وردی میں ملبوس تھا۔ ہاتھ میں گن تھام رکھی تھی۔ پولیس ہیلمٹ کے سبب اس کا چہرہ غیر واضح تھا۔ دھماکہ میں ہلاک ہونے والے استقبالیہ کلرک نے بلاسٹ سے قبل سیکیورٹی گارڈز کو مشتبہ وین کے بارے میں خبر دینے کی کوشش کی۔ دھماکہ خیز مواد واکس ویگن میں رکھا گیا تھا۔ 8 افراد ہلاک اور 209 زخمی تھے۔

دو گھنٹے بعد یوٹویا کے جزیرے میں حملہ ہوا۔ اے یو ایف (حکمران پارٹی کے یوتھ ونگ) کا سمر کیمپ نشانہ تھا۔ پولیس کی وردی میں بندوق بردار وہاں پہنچا۔ جعلی شناخت کروانے کے بعد جزیرے میں داخل ہوا اور شرکاء پر گولیاں برسا دیں۔ ”مَیں نے لوگوں کو پانی میں چھلانگ لگاتے دیکھا۔ تقریباً 50 کے قریب لوگ تیر رہے تھے۔ وہ رو رہے تھے، کانپ رہے تھے اور خوف زدہ تھے۔ اس نے پانی میں موجود لوگوں پر بھی گولیاں برسائیں“۔ عینی شاہدین نے بتایا۔ پولیس نے قاتل کو یوٹویا جزیرہ سے گرفتار کر لیا۔

”جنت نما جزیرے کو جہنم میں بدل دیا گیا“۔ وزیراعظم سٹولٹن برگ نے نیوز کانفرنس میں کہا۔ 70افراد کو قتل کر دیا گیا۔ 110 زخمی ہوئے، جن میں سے 55 شدید زخمی تھے۔ مارے جانے والوں میں وزیراعظم کا ذاتی دوست اور ناروے کی شہزادی کا سوتیلا بھائی بھی شامل تھا۔ یہ دونوں حملے 22 جولائی 2011ءکو ہوئے۔ ہزاروں افراد 25 جولائی 2011ءکو اوسلو سٹی ہال کے باہر جمع ہوئے اور جڑواں حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ شرکاء نے پھول اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔

حملہ آورنیلی آنکھوں، سرخ وسپید رنگت، کلین شیو چہرے، سنہرے بالوں اورمضبوط جسامت کا آندر سے رنگ بریوک ہے۔ ناروے کی شہریت رکھتا ہے۔ 13فروری 1979 کو اوسلو میں پیدا ہوا۔ تعلیم اوسلو اور گرد ونواح میں حاصل کی۔ غیرموزوں ہونے کے سبب لڑکپن ہی میں لازمی فوجی سروس سے استثنا مل گیا۔ بریوک کے مطابق اس نے 2002 میں 23 سال کی عمرمیں حملوں کی فنانسنگ کے لئے 9 سالہ منصوبہ بنایا۔ کاروبار کا آغاز کیا۔ 2009ءمیں فارمنگ کمپنی بنائی۔ اِسی سال غیر قانونی اسلحہ خرید نے کی غرض سے پراگ (چیک رپبلک کے دارالحکومت) کا سفر کیا۔ چیک رپبلک میں اسلحہ کے حوالے سے قوانین نسبتاً نرم ہیں۔ بریوک کو پراگ میں کامیابی نہ مل سکی۔

 اس نے ناروے میں قانونی طور پر اسلحہ حاصل کرنے کی ٹھانی۔ لائسنس والے دو ہتھیار پہلے موجود تھے۔ پسٹل کلب کی ممبر شپ دکھا کہ مزید ایک نیم خود کار (سیمی آٹو میٹک ) 9 ایم ایم گلوک 17 پسٹل حاصل کیا۔ شکار کی غرض سے ایک نیم خود کار روگر منی 14گن بھی حاصل کر لی۔ زیادہ مقدارمیں کھاد اوردیگر کیمیکلز قانونی طور پر خریدنے کے لئے اس نے فارمنگ کمپنی کو بطور ڈھال استعمال کیا۔ وہ کھاد اورکیمیکلز کودھماکہ خیز مواد بنانے میں استعمال کرنا چاہتا تھا۔ 2011ءکی ابتدا میں وہ اوسلو سے 140 کلو میٹردورایک قصبہ میں جا بسا۔ اس نے پولینڈ کی ایک آن لائن شاپ سے کچھ دھماکہ خیز مواد بھی خریدا۔

بریوک ”ورلڈ آف وارکرافٹ“ نامی ویڈیو گیمز کھیل کرسکون حاصل کرتا تھا۔ اس نے حملوں سے چند گھنٹے پہلے 1500 صفحات پر مشتمل منشور لگ بھگ آٹھ ہزار لوگوں کو ای میل کیا تھا۔ اس کا عنوان "2083 یورپین ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس" تھا۔ منشورمیں اس نے تعدد ثقافت ( ملٹی کلچرل ازم) کو رگیدا۔ مسلمانوں کی ناروے میں امیگریشن کے خطرے کو اجاگر کیا۔ مارکسزم اور نارویجن لیبر پارٹی کو بھی نشانہ بنایا۔ خود کو عیسائیت کا نجات دھندہ اور نائٹ ٹیپلر کا حصہ قرار دیا۔ 24 اگست 2012ءکو بریوک کو 21 سال قید کی سزا دی گئی۔ یہ ناروے میں سب سے زیادہ سزا ہے۔ سوسائٹی کے لئے خطرہ تصور کرتے ھوئے اس کو مزید عرصہ بھی جیل میں رکھا جا سکتا ھے۔ اوسلو عدالت میں کارروائی کے دوران بریوک نے دائیں بازو کو سامنے کی جانب بلند کر کے بند مٹھی سے علامتی نشان بنایا۔ عدالت کی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس کا یہ حملہ ضرورت کے پیش نظرتھا اور وہ اپنے حملوں کا جواز رکھتا ھے۔ اس نے حملے میں ہلاک شدگان کے قتل کا اعتراف کیا۔

منشور کے مطابق بریوک کا اہم ہدف مسلمانوں کو یورپ سے نکالنا ہے۔ وہ اسرائیل کے یہودی، چین کے بدھ اور بھارت کے ہندو گروہوں سے تعاون کے امکان کو اجاگر کرتا ہے تاکہ اسلام کوحد میں رکھا جا سکے۔ بریوک نے اپنے فیس بک پیج پر پروٹیسٹنٹ چرچ کے بارے میں سخت الفاظ کہے اوراس سوچ کا اظہار کیا کہ پروٹیسٹنٹ کو دوبارہ کیتھولک چرچ میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔ بریوک کے فری میسنز،پراگریس پارٹی ،انگلش ڈیفنس لیگ اور نائٹ ٹیمپلر کے ساتھ روابط سامنے آئے۔ مغربی میڈیا نے بریوک کو دائیں بازو کا ”انتہا پسند“ قرار دیا۔

 20 اگست 2012ءکو چیک رپبلک پولیس نے ملک کے تیسرے بڑے شہرسے 29 سالہ وجٹک کو گرفتار کر لیا جو کہ بریوک کی نقل میں (کاپی کیٹ کرائم) حملوں کے لئے اسلحہ جمع کر رہا تھا۔ اس کے پاس سے چیک رپبلک کی پولیس کی وردی بھی برآمد ہوئی۔

مزید :

کالم -