مسیح الوطن ڈاکٹر ایس ایم رب: ایک افسانوی شخصیت

مسیح الوطن ڈاکٹر ایس ایم رب: ایک افسانوی شخصیت
مسیح الوطن ڈاکٹر ایس ایم رب: ایک افسانوی شخصیت

  

انہیں ان کے اعجاز مسیحائی اور وطن کے لئے بے پایاں اور پر خلوص خدمات کے عوض بھلے وفات کے بعد ہی سہی۔ اگر ”مسیح الوطن“ کا خطاب دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا....ملک و ملت کے لئے ان کی خدمات کی طویل فہرست کا ذکر تو آگے چل کر آئے گا لیکن جہاں تک مسیحائی کا تعلق ہے میرا خود اگر ان سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو مجھے ان کے بارے میں سنی ہوئی داستانوں پر یقین نہ آتا۔ اس حوالے سے یہ گزشتہ سال ہی کی تو بات ہے جب میں ان کے بھروسے پر امریکی ڈاکٹروں کو خیر باد کہہ کر واپس آ گیا تھا۔ ہوا یوں کہ بچوں سے ملنے جب میں کیلیفورنیا پہنچا تو کچھ دنوں بعد مجھے بخار ہو گیا جو معمول کی دواﺅں سے نہ اترا تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے اس دعوے کے ساتھ کہ وہ برطانیہ سے ملیریا کے علاج کی تربیت لے کر آیا ہے۔ بخار کی وجہ ملیریا بتائی لیکن لیبارٹری میں ملیریا ٹیسٹ کا رزلٹ منفی میں آیا۔ تب مجھے تیس سال کا تجربہ رکھنے والے ایک اور سینئر ڈاکٹر کے پاس بھیجا گیا جن کے پاس فوری اپوائنٹمنٹ بھی نصیب والے کو ملتی تھی۔ اس نے بخار کی وجہ نمونیا تشخیص کی اور مجھے فوری طور پر ہسپتال کی ایمرجنسی سے رجوع کرنے کے لئے کہا تاکہ مزید ٹیسٹوں کے ذریعے تشخیص کو یقینی بنایا جا سکے۔ نمونیا کا نام سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے اور دو سال قبل اپنی والدہ کی علالت کا معاملہ میرے ذہن میں گھوم گیا۔ انہیں بھی ہسپتال کی ایمرجنسی میں نمونیا کے مریض کے طور پر داخل کیا گیا تھا لیکن جب تین دن تک دواﺅں سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو مزید ٹیسٹ لینے پر انہیں ٹی بی کا مریض قرار دے کر ہر طرف ہشیار خبردار کے نشانات لگا دیئے گئے۔ پھر کئی دن بعد جا کر معلوم ہوا کہ انہیں سرطان کا مرض لاحق ہے جس سے وہ جانبر بر نہ ہو سکیں۔

اس کے بعد سے امریکی ڈاکٹروں کی تشخیص پر میرا اعتماد اُٹھ گیا تھا چنانچہ میں نے بچوں کی مرضی کے خلاف پاکستان کے لئے پہلی پرواز پکڑی اور کراچی پہنچ گیا روانگی سے قبل البتہ میں نے معلوم کروا لیا تھا کہ ڈاکٹر رب کراچی میں ہی ہیںلیکن ان سے ملاقات کا وقت لینے سے پہلے میں نے ان کے ایک شاگرد لاہور میں مقیم اپنے ایک عزیز ڈاکٹر آغا طارق کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کراچی میں ان کے ہم جماعت سول ہسپتال کے ڈاکٹر آفریدی اور اسٹیٹ بنک کے ڈاکٹر ہارون سے رجوع کیا جنہوں نے بخار کی وجہ یورین انفکشن بتائی جس کے ایک ہفتے علاج کے بعد بخار اتر گیا۔ لیکن اس کے بعد بھی کروائے جانے والے بلڈ ٹیسٹ میں انفیکشن کی نشاندہی کرنے والے کیمیائی مادے کے تناسب میں اضافے کی وجہ جوڑوں کا مرض بتائی جو میرے لئے بھی ایک انکشاف تھا اور جس کی عرصے سے نظر آنے والی بعض علامات کو میں عمر کے لحاظ سے معمول کی تبدیلیاں سمجھ کر نظر انداز کرتا چلا آ رہا تھا۔ اس تشخیص سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دواﺅں کے استعمال سے میں اس مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ بات اگر یہیں پر ختم ہو جاتی تو میں اس قدر متاثر نہ ہوتا۔ مجھے حیرت زدہ انہوں نے جلد کے مرض کی دوا بتا کر کیا جس کی فائل محض اتفاق سے میری میڈیکل فائل کے ساتھ نتھی تھی اور یوں ان کی نظر اس پر بھی پڑی تھی۔

 جلد کا یہ مرض دو سال قبل امریکہ میں قیام کے دوران جوگر پہننے پر مجھے لاحق ہوا تھا جس کے باعث میرے پیروں اور ہاتھوں کے ناخنوں کی ہیت بدل چکی تھی میں اس مرض کا علاج امریکہ سے اعلیٰ ترین سند رکھنے والے ایک ڈاکٹر سے کرا رہا تھا جس کے پاس روزانہ مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ اب تک میں اس علاج پر ہزاروں روپے صرف کر چکا تھا لیکن کوئی افاقہ نہ تھا۔ ڈاکٹر نے شفقت بھرے انداز میں مجھے بتایا کہ جو دوائیں آپ کھا رہے ہیں یہ تو ناخنوں تک پہنچتی ہی نہیں فائدہ کیا خاک کریں گی۔ انہوں نے مجھے جلد اور ناخنوں پر لگانے کے لئے کم داموں کی ایک دوا بتائی اور متاثرہ جلد کو پانی سے بچانے کا مشورہ دیا۔ یہ دوا بھی انتہائی کارگر ثابت ہوئی اور میرے ناخن اپنی اصل شکل میں لوٹ آئے۔ ڈاکٹر رب سے میں بہت عرصے بعد ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ کافی بوڑھے ہو چکے ہوں گے، لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت آمیز خوشی ہوئی کہ وہ پہلے کی طرح چاق و چوبند تھے اور انہوں نے ہمیشہ کی طرح طبی معاملات کے علاوہ ملک کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پہلی دفعہ یرقان کے علاج کے سلسلے میں کئی ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد جس پر کمپنی کے ہزاروں روپے خرچ ہو چکے تھے۔ اپنے خرچ پر ڈاکٹر رب کے پاس گیا تھا۔ جنہوںنے اپنے نسخے میں روایت سے ہٹ کر دوائیں لکھ کر دی تھیں جو کم قیمت بھی تھیں اور چند سو روپے ہی میں مکمل علاج ہو گیا تھا۔

 اس کے بعد میں گاہے بگاہے ان عزیز و اقربا کو لے کر ڈاکٹررب کے پاس جاتا رہا تھا جو اپنے علاج کے سلسلے میں مایوس ہو چکے تھے اور پریشان رہتے تھے۔ ان سب کو ڈاکٹر رب سے فیض پہنچا تھا۔ ان کے پاس پورے ملک سے بلکہ دوسرے ملکوں سے بھی لوگ علاج کرانے آتے تھے۔ یہ بات بھی سننے والوں کو ناقابل یقین لگے گی کہ بنگلہ دیش میں میری جاننے والی ایک بنگالی خاتون کے پھیپھڑوں میں کچھ غیر معمولی نشان ایکسرے میں نظر آئے جن کے بارے میں تسلی بخش تشخیص نہ ہو سکی، حالانکہ وہ خود بھی ڈاکٹر ہیں اور ان کے شوہر بھی نامی گرامی ڈاکٹر ہیں۔ صحیح تشخیص کے لئے انہوں نے ڈاکٹررب کو دکھانے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں میرے پاس جاننے کے لئے فون آیا کہ وہ ان دنوں پاکستان میں موجود تھے یا نہیں۔ مَیں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ امریکہ میں اپنے بیٹے سے ملنے گئے ہیں جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں اس پر ان خاتون نے امریکہ میں ان سے رابطہ کیا تھا۔ ڈاکٹر رب کی مشرقی پاکستان میں بھی بڑی دھوم تھی۔ اب سے47 سال قبل جب مَیں فزکس میں آنرز کرنے اِنٹرونگ سکالرشپ پر گورنمنٹ کالج لاہور سے ڈھاکہ یونیورسٹی گیا تو ڈاکٹر رب کا نام ایک نامی گرامی ڈاکٹر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کا ایک بھانجا آر ایم ایچ طارق جو میرا کلاس فیلو تھا۔ دھان منڈی میں ان کے گھر میں رہا کرتا تھا جس سے ملنے میں کبھی کبھی جاتا تھا، لیکن ڈاکٹر رب سے ملاقات کا کوئی سبب نہیں بنا اس لئے نہ بنا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ڈاکٹر رب کے والد کا تعلق بہار سے تھا اور وہ پٹنہ میں اپنے زمانے کے ایک دبنگ اور ایماندار آئی جی پولیس تھے۔ ان کے بیٹے سید عبدالرب بھی پولیس میں ہی جانا چاہتے تھے لیکن والد کی خواہش پر ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کیا۔

 پاکستان بنا تو ان کے والد ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آ گئے۔ یہاں ایس ایم رب نے میڈیکل کالج ڈھاکہ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی، ڈاکٹر رب کے پریکٹس شروع کرتے ہی ان کی تشخیص کی اس وقت دھوم مچ گئی جب انہوں نے ایک جاں بلب خاتون مریض کے مرض کی صحیح تشخیص کر کے اس کی جان بچالی ۔پھر ان کی اس خداد داد صلاحیت سے اَن گنت افراد کو نئی زندگی ملی جن میں کئی نامی گرامی افراد بھی شامل تھے۔ مشرقی پاکستان میں بھٹو صاحب کے حوالے سے ان کا قصہ سننے میں آتا ہے کہ ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمن سے تاریخی مذاکرات کے دوران ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل کی لفٹ میں جب بھٹو صاحب اپنے کسی ساتھی سے معدے کی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وجہ کھانے کی زیادتی بتا رہے تھے تو ڈاکٹر رب جو اس وقت لفٹ میں موجود تھے بول اٹھے کہ یہ علامت معدے میں تکلیف کی نہیں، بلکہ عارضہ قلب کی ہے۔ انہوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ وہ عام طور پر دوسروں کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتے، لیکن کیونکہ یہ معاملہ زندگی اور موت کا ہے اس لئے وہ رہ نہ سکے، جس کے بعد سے وہ بھٹو صاحب کے ذاتی معالج بن گئے۔ ڈاکٹر رب شیخ مجیب الرحمن کے بھی معالج رہے اور ضیاءالحق، غلام اسحاق کے بھی ان کی عمر 83 سال تھی اور انہوں نے بستر سے لگ جانے تک اپنی پریکٹس جاری رکھی۔ اس لحاظ سے وہ ملک میں سب سے زیادہ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ وفات سے چند ماہ قبل دماغ میں رسولی کے سبب ان کی یاد داشت متاثر ہوئی تھی۔ ان کا گھر ہی میں علاج ہوتا رہا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ڈھاکہ سے کراچی میں 1972ءمیں منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں نے جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر میں تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور 1990ءمیں میڈیسن کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے طور پر ریٹائر ہو گئے۔ ڈاکٹر رب اگرچہ ایک جنرل فزیشن تھے لیکن ہر مرض کے ماہرین بشمول ماہرین امراض قلب ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ (ایک ماہر امراض جلد کا تذکرہ تو شروع میں آ بھی گیا) وہ ایک اچھے معالج ہی نہیں بہترین استاد بھی تھے اور ان کی شاگردی اختیار کرنے والا ہر ڈاکٹر اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا تھا۔ ان سے استفادہ کرنے والے مریضوں کی تعداد اگر لاکھوں میں ہو گی تو ان کے شاگردوں کی تعداد بھی ہزاروں سے کم نہ ہو گی۔ ڈاکٹر رب کو استادوں کا استاد کہا جاتا ہے۔ تدریس کے پیشے سے ان کی لگن کا اندازہ پاکستان کالج آف فزیشنز اور سرجنز کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے جس کے وہ بانیوں میں سے تھے۔ ادارے کے لئے ان کے والہانہ پن کے بارے میں یہ بتانا ہی کافی ہوگاکہ ان کی وصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ اس کالج کے میدان میں ادا کی گئی۔ ڈاکٹر رب کے لواحقین میں ایک بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور بیٹا شامل ہیں اور وہ طب کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ خدا انہیں جنت نصیب کرے، اپنے لا تعداد شاگردوں کے حوالے سے وہ صدقہ جاری کا ایک دریا ہے جو ہمیشہ ان کے لئے بہتا رہے گا۔

مزید :

کالم -