ملالہ یوسف زئی کا ایک اور اعزاز

ملالہ یوسف زئی کا ایک اور اعزاز

  


سوموار کومعروف امریکی جریدے ’’ٹائم‘‘کی طرف سے جاری ہونے والی 25 کم عمر بااثر ترین افراد کی فہرست میں ملالہ کا نام بھی شامل ہے،اس فہرست میں ملالہ کے علاوہ ساشا اوبامہ اور ملیا اوبامہ کے نام موجود ہیں۔ چند روز قبل ملالہ کوبچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے پر نوبل امن انعام سے نوازا گیا ہے اور اس طرح وہ ڈاکٹرعبدالسلام کے بعد یہ ایوارڈحاصل کرنے والی دوسری پاکستانی بن گئی ہے۔اس کانام پوری دنیا میں گونج رہا ہے اور اس کے توسط سے پاکستان بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ملالہ کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں آئیں، مشکلات کا سامنا رہا، گیارہ سال کی عمر میں اس نے ایسے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے آواز اٹھائی جہاں طالبان کا راج تھا اور لڑکیوں کے سکول بند تھے۔ نعرہ خودی بلند کرنے کی پاداش میں اس پر گولیوں کی بارش کر دی گئی لیکن اس باہمت بچی کا حوصلہ ٹوٹنے کی بجائے مزید مضبوط ہو گیا۔

نوبل انعام کمیٹی نے اپنے بیان میں ملالہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ اپنی کم عمری کے باوجود پچھلے کئی سالوں سے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کوشاں ہے، اس نے یہ ثابت کیاکہ بچے اور لڑکیاں اگر چاہیں تو اپنی حالت آپ بہتر بنا سکتے ہیں اورملالہ نے یہ کام مشکل ترین حالات میں کیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی 1997ء میں خیبر پختونخواکے ضلع سوات کے علاقے مینگورہ میں پیدا ہوئی، اس نے طالبان کی شدت پسندی اور اجارہ داری سے ٹکر لینے کی ٹھانی اور علم بغاوت بلند کرتے ہوئے وادی سوات میں تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے جدو جہد کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں انتہا پسندوں کی طرف سے بچیوں سے ان کا اصلی زیوریعنی ’تعلیم ‘چھیننے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ ملالہ کی وجہ شہرت اس کی بی بی سی کے لئے تحریر کی جانے والی ڈائری بھی تھی جس کے ذریعے اس نے پوری دنیاتک اپنی آواز پہنچائی۔ ملالہ کی یہ ساری ’’کارروائیاں‘‘ طالبان کو شدید ناگوار گزریں اور9 اکتوبر 2012ء کو ملالہ کو سکول جاتے ہوئے جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ زندگی و موت کی جنگ لڑتی ملالہ کو علاج کی غرض سے انگلینڈ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ یہ بازی جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔اس کو گویا ایک نئی زندگی مل گئی، جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا، اس کا ارادہ مزیدپختہ ہو گیا اوروہ اپنی آواز دنیا بھر کے کونے کونے میں پہنچانے کے لئے مصروف ہو گئی ملالہ نے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ نائجیریا میں ’’بوکو حرام‘‘(مغربی تعلیم حرام) کے نام سے منظم گروہ کی طرف سے لڑکیوں کے اغوا کے خلاف مہم بھی چلائی۔ اپنی کم عمری کے باوجود وہ دنیا کو حیران کرگئی ۔عالمی برداری نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا اوراس کی خدمات کو سراہنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اس کے عزم و ہمت کے اعتراف میں اس کو اب تک 34 سے زیادہ عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔کئی ایوارڈ زتو ایسے ہیں جن کو حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی سب سے کم عمر شخصیت ہے جن میں سب سے نمایاں نوبل امن انعام ہے ۔

2011 ء میں سوات میں طالبان کے زمانہ عروج میں بلا خوف و خطرخواتین اور بچوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے پراس نے پاکستان کا پہلا ’’قومی اعزاز برائے امن‘‘ بھی جیتا،حکومت کی طرف سے اسے ’’ستارہ جرات‘‘ سے نوازا گیا۔ 2013ء میں ’گلیمر ویمن آف دی ایئر ‘قرار پائی تو اسی سال ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ملا۔ لندن میں ’گلوبل ٹریژرر ایوارڈ‘اور’پرائیڈ آف بریٹین‘ ایوارڈ حاصل کیا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ملالہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ’امبیسیڈر آف کانشیئس ‘(سفیر برائے آگاہی)قرار دیا، فرانسیسی ایوارڈ’ سیمان دا بوووا‘ اور ناروے کی جانب سے کاتالونیا کا 25واں ’پریمی انٹرنیشنل کاتالونیا ‘ایوارڈ 2013ء دیا گیا۔ملالہ یوسف زئی کو یورپ کے سب سے بڑے ایوارڈ’سخاروف‘ لینے کا اعزاز بھی حاصل ہوا،اور دنیا کے انتہائی اہم ایوارڈ ’گلوبل لیڈر شپ ‘ایوارڈ کا حق دار بھی ٹھہرایا گیا۔ملالہ کو’’مدر ٹریسا ایوارڈ برائے سماجی انصاف ‘‘ دیا گیا اور فلاڈلفیا میں نیشنل کانسٹیٹیوشن سینٹر کی طرف سے’ لبرٹی میڈل ‘سے بھی نوازا گیا۔ملالہ کا نام فارن پالیسی میگزین کی ’’سوعالمی مفکرین‘‘ کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔ ملالہ کی تصویر لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری کی زینت بن گئی ہے۔اس کی انگریزی زبان میں ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے جس کا نام ’میں ملالہ ہوں‘ہے۔

ملالہ یوسف زئی پاکستان کی وہ بیٹی ہے جس پر انتہا پسندوں نے اپنے ہی وطن کی زمین تنگ کر دی اور اب وہ بیرون ملک قیام پذیر ہے، اس کے باوجود اس کے دل سے پاکستان کی محبت اور اہل پاکستان کا درد کم نہ ہو سکا۔یہ محبت یقیناًیک طرفہ نہیں ہے، اہل پاکستان کے دل بھی اس کی محبت سے لبریزہیں۔اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے وہ کم ہے کیونکہ اس نے پاکستان کا نام نوبل امن انعام سے ایسے وقت میں جوڑا ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے۔ بعض حلقے ملالہ کو نوبل انعام کا حقدارٹھہرائے جانے پربے جا تنقید بھی کر رہے ہیں، کوئی چاہے کچھ بھی کہے حقیقت یہی ہے کہ ملالہ نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی پر امن لوگ ہیں اوران کا پیغام بھی امن و آشتی ہے۔ اپنے آپ کو مہ و سال کی قید سے آزاد کر کے جو جدوجہد اس نے شروع کی وہ بے نظیر ہے آج بہت سے پاکستانی لڑکیوں کے لئے ملالہ ایک مثال ہے،اس نے عام پاکستانی عورت کو لڑنے کا حوصلہ بخشا ہے، اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہونے کا درس دیا ہے، ایک نئی امید کی کرن دکھائی ہے، اپنی مدد آپ کا جذبہ جگایا ہے،ملالہ نے سب کو باور کرا دیا ہے کہ اگر دل میں چاہ ہو تو کٹھن سے کٹھن راستہ بھی آسان لگنے لگتا ہے۔ملالہ تجھے سلام!

مزید :

اداریہ -