میڈیا کارکنوں پر حملے تشویشناک ہیں!

میڈیا کارکنوں پر حملے تشویشناک ہیں!

  

خبر میں ٹیلی ویژن کا نام تو نہیں لکھا گیا۔ یہ بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد میں پاکستان عوامی تحریک کے جلسے کی کوریج کرنے والی ٹیم پر حملہ کیا گیا اور ٹی وی کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا۔ خبر کا یہ حصہ قابل غور ہے کہ تشدد کرنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے مسلح نقاب پوش محافظ تھے۔ اس سلسلے میں جلسے کی ہما ہمی کی وجہ سے کسی نے نوٹس بھی نہیں لیا۔ میڈیا کے حضرات نے اس پر احتجاج کیا۔یہ اپنی جگہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہر دور اور ہر تحریک کے زمانے میں ذرائع ابلاغ والے نشانہ بنتے رہے ہیں، لیکن ماضی کا دور اچھا تھا جب صحافیوں کی یونین مضبوط اور متحد تھی اور اِسی حوالے سے اے پی این ایس اور سی پی این ای بھی حساس تنظیمیں تھیں، اس لئے ایسے واقعات کم ہوتے اور احتجاج پر کچھ ازالہ بھی ہو جاتا کہ تشدد کرنے والوں کے رہنما معذرت کرتے اور مستقبل میں بہتر رویے کا یقین دلاتے تھے۔

اب ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں، اس حوالے سے مالکان ایڈیٹر حضرات اور صحافیوں کی تنظیموں کو صورت حال کا مجموعی جائزہ لینا ہو گا کسی کے بارے میں بات کرنے سے پہلے اپنے حالات کا جائزہ لے لیا جائے، آج میڈیا بھی جماعتوں کے حوالے سے تقسیم ہے اور بعض اوقات بے جا حمایت یا تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ایسا زیادہ تر الیکٹرانک میڈیا میں ہے، پرنٹ میڈیا میں تاحال احتیاط تو ہے تاہم نظریاتی طور پر تقسیم موجود ہے۔یہ صورت حال سیاسی جماعتوں کے لئے بہت بہتر ہے کہ وہ بھی اپنی پسند نا پسند کے حوالے سے باقاعدہ دھمکیاں دیتے، بلکہ بعض جماعتوں کے سربراہ تو برملا نام لے کر بہت کچھ کہتے ہیں اس پر مرے کو مارے شاہ مدار کے مطابق صحافیوں کی اعلیٰ اقدار کی حامل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)کو دو کے بعد اب مزید حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ اس لئے اب خود صحافیوں اور کارکنوں کو غور کرنا ہو گا کہ یہ سب تو خود ان کی اپنی نااتفاقی کے باعث ہے،جرنلزم کا نظریاتی ہونا بُرا نہ ہو تو بھی کسی کا مخالف اور کسی کا حمائتی ہونا درست نہیں اور اِسی طرح صحافیوں اور صحافتی اداروں میں اختلاف بھی نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہوا تو یہ آگ بڑھتی جائے گی اور میڈیا کے لئے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اختلافات ختم کرنے کا کوئی سلسلہ ہو۔

مزید :

اداریہ -