آسٹریلیا سے وائٹ واش کے بعد ہماری کرکٹ؟

آسٹریلیا سے وائٹ واش کے بعد ہماری کرکٹ؟

  

توقع کے عین مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کی ٹیم کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی میچ بھی ہار دیا۔ یوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا، ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے، لیکن متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور آسٹریلیا کی اس ہوم سیریز نے کرکٹ ٹیم میں اختلافات کو طشت از بام کیا تو سازشوں کا بھی پردہ چاک کر دیا، جو لوگ کسی بھی وجہ سے مفادات کے تحت بعض کھلاڑیوں کی توہین کر کے ان کو کھیل کے میدان سے فارغ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بھی سامنے آ گئے۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ شاہد آفریدی کے دم قدم سے مصباح الحق کو ٹیم سے فارغ کرنے اور عالمی کپ میں کپتانی نہ کرنے دینے کی بھی کوشش ہو رہی ہے۔ معین خان اور وقار یونس ٹیم میں بددلی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کہیں نظر ہی نہیں آ رہے۔ ممکن ہے وہ خود ہی ٹیم سے الگ ہو جائیں یا پھر ان کو فارغ کر دیا جائے۔ وقار یونس ایک اچھے باؤلر رہے، وہ کوچنگ میں پہلے بھی ناکام رہے اور اب پھر ناکام ہیں وہ چیف کوچ ہیں، بیٹنگ کا قطعی تجربہ نہیں رکھتے، لیکن ہونہار اور اچھے بلے بازوں کی دل شکنی کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ شہریار خان ایک بار پہلے بھی بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اب منتخب صدر ہیں، ان کو اس ساری صورت حال کا بغور جائزہ لے کر تحقیقات کرانا چاہئے کہ کون سازش کر رہا ہے اور کون تعصب کا مارا ہوا ہے۔ عالمی کپ میں تھوڑا وقت رہ گیا، سری لنکا اور اب آسٹریلیا سے ہار جانے کے بعد اس ٹیم سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا درست نہیں ہو گا، ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور اس ٹیم میں بھی بُرے کھلاڑی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ کیا شہریارخان اس صورت حال پر قابو پا لیں گے تاکہ عالمی کپ2015ء کے لئے اچھی ٹیم بن جائے اور سازشوں، تعصب سے پاک ہو، آپس میں سب بھائی بن کر تعاون کریں، ورلڈکپ میں زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔

مزید :

اداریہ -