برطانوی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی قرار دادمنظور

برطانوی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی قرار دادمنظور ...

  

                                                       لندن(بیورورپورٹ)برطانوی پارلیمنٹ نے فلسطین کوریاست تسلیم کرنے سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔ قراردادکے حق میں274جبکہ مخالفت میں12ووٹ ڈالے گئے۔برطانوی حکومت قرار داد پر عمل درآمد کی پابند نہیںغیرملکی خبرایجنسی کے مطابق قراردادسے فلسطین پرحکومتی موقف تبدیل نہیں ہوگا، قراردادکوفلسطینی ریاست کوتسلیم کرنے سے متعلق علامتی حیثیت حاصل ہوگی۔ برطانوی دارالعوام میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 274 جبکہ مخالفت میں صرف 12 ووٹ ڈالے گئے،، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کو اسرائیل کی طرح ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائے،، تاہم اس قرارداد سے مسئلہ فلسطین پر برطانوی حکومت کے موقف میں تبدیلی نہیں ہوگی،، اور برطانوی حکومت اس قرارداد پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہوگی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ حکومت کسی بھی وقت فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرسکتی ہے، اگر وہ یہ سمجھے کہ ایسا کرنے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیام امن کی کوششوں میں مدد مل سکتی ہے۔برطانوی حزب اختلاف کے رہنما گراہم مورس کا جو اس تحریک کے محرک بھی تھے کہنا تھا کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے تعطل کا شکار امن مذاکرات شروع کرنے میں مدد ملے گی۔انھوں نے کہا کہ بصورت دیگر دو ریاستی حل جو اس مسئلہ کا واحد حل بھی ہے ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔حزب اقتدار قدامت پسند پارٹی کے رہنما نکولس سومز جو سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے پوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’فلسطین کو تسلیم کرنا اخلاقی طور پر درست بھی ہے اور ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔‘برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ اس تحریک سے حکومتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔مشرق وسطی کے بارے میں وزیر توبیس ایلوڈ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اسوقت فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کرتے گا جب اس سے امن بحال ہو سکے گا۔اس تحریک پر بحث اور رائے شماری پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔اس تحریک پر بحث سے اسرائیل اور مسئلہ فلسطین کے بارے بین الاقوامی رائے عامہ میں تبدیلی کے بھی واضح اشارے میں۔برطانوی پارلیمان کے رکن سر ایڈورڈ لیتھ نے کہا کہ وہ حماس کے شدید مخالف ہیں اور انھیں نازی جرمنی میں یہودیوں کے گزشتہ صدی میں قتل عام پر یہودیوں سے دلی ہمدردی ہے لیکن فلسطین میں فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے ایک دوست اور ہمدرد کی حیثیت سے اسرائیل کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ اپنے دل کے دروازے کھولے، غزہ میں فلسطینیوں پر آنے جانے کی سختیاں کم کرے۔

 یہودیوں بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کرے اور فلسطینیوں کو انسانیت کا حصہ سمجھے۔دنیا بھر میں سو کے قریب ملک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں سویڈن نے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور تسلیم کیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -