راجہ امیر احمد خان کی41ویں برسی کے سلسلے میںخصوصی لیکچر

راجہ امیر احمد خان کی41ویں برسی کے سلسلے میںخصوصی لیکچر

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)راجہ امیر احمد خان آف محمود آباد کو قائداعظمؒ سے بڑی عقیدت تھی جبکہ قائداعظمؒ کو بھی آپ پر کامل اعتماد تھا۔آپ نے قائداعظمؒ کی ہدایت پر مسلم لیگ میں شامل ہو کر تحریک پاکستان میں پر جوش حصہ لیا۔ان خیالات کااظہار پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ندیم نے میں تحریک پاکستان کے رہنماراجہ امیر احمد خان آف محمو دآباد کی41ویں برسی کے سلسلے میںمنعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران کیا۔اس لیکچر کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک ،نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ندیم نے کہا کہ راجہ امیر احمد خان ریاست محمود آباد کے رئیس تھے۔آپ کے والد مہاراجہ علی محمد برصغیر پاک و ہند کے مشہور قومی رہنما تھے۔

راجہ امیر احمد خان مسلم لیگ کے صف اول کے رہنما تھے۔آپ مسلم لیگ کے خازن اور مجلس عاملہ کے سالہا سال رکن رہے۔ قائداعظمؒ کی ہداےت پر مسلم لےگ مےں شامل ہوکر تحرےکِ پاکستان مےں پرجوش حصہ لےا۔ 1937ءکے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنو¿ میں مجلس استقبالیہ کے صدر تھے۔ بعد میں قائداعظمؒ نے ان کو آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صدارت کے لیے نامزد کیا۔ آپ نو سال تک فےڈرےشن کے صدر رہے۔

 1945ءمےں مرکزی اسمبلی کے لئے قائداعظمؒ کی انتخابی مہم کے نگران تھے جو کامےابی سے ہمکنار ہوئی۔ راجہ امیر احمد خان قیامِ پاکستان کے بعد کراچی میں مقیم ہو گئے۔ ایوب خان نے انہیں کئی مرتبہ وزارت کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔کنونشن مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تو راجہ صاحب کو صدارت کی درخواست کی گئی ،آپ نے انکار کردیا اور چوہدری خلیق الزمان کا نام تجویز کیا۔آپ امت مسلمہ کے اتحاد کے علمبردار تھے۔آپ نے 12 اکتوبر 1973ءکو لندن میںوفات پائی اور مشہد کے مقدس شہر میں مدفون ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -