پنجاب میں رواں سال 1.29ملین ٹن آم کی پیداوارحاصل ہوئی

پنجاب میں رواں سال 1.29ملین ٹن آم کی پیداوارحاصل ہوئی

  

لاہور (خبرنگار ) سال 2013-14ءمیں آم کے اغات کے زیر کاشت رقبہ 0.264ملین ایکڑ تھا جس سے 1.291ملین ٹن پیداوار حاصل کی گئی جبکہ اوسط پیداوار 126.51من فی ایکڑ حاصل ہوئی ۔ اس سال آم کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کیا جائے ۔ محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے ملتان، خانیوال، مظفرگڑھ، رحیم یار خان اور بہاولپور ریجن میں آم کے باغبانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حالیہ سیلاب کے اثرات اور بیماریوں سے باغوں کو محفوظ رکھنے کے لئے باغات سے ہر ممکنہ طریقے سے پانی کا اخراج کریں کیونکہ پانی کھڑا رہنے سے پودوں کی افزائش اور پیدوار متاثر ہوسکتی ہے۔محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق باغات سے پانی نکالنے کے لئے ٹریکٹر لفٹ پمپ استعمال کیا جائے۔

 یا کھیت کے ایک طرف گڑھا کھود کر پانی اس میں ڈال دیں۔ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد تنوں کو صاف کرنے کے لئے 1 کلوگرام لائم (چونا) اور1کلوگرام کاپر سلفیٹ (نیلا تھوتھا) کو 10سے 12لیٹر پانی میں حل کرکے استعمال کریں۔ بورڈیکس پیسٹ 4فٹ تک لگائیں تاکہ پودا بیماریوں سے محفوظ رہے۔آم کے تنے کے اردگرد 1x2فٹ کا رِنگ بنائیں اور اگر پودے چھوٹے ہوں تو 1x1فٹ کا رنگ بنانا چاہئے۔ آم کے باغ سے تمام خشک اور بیماری سے متاثرہ شاخیں اکٹھی کرکے جلا دیں یا زمین میں دفن کر دیں۔ پودوں کے نیچے والی جگہ کی گوڈی اس طرح کریں کہ جڑوں کا نقصان نہ ہو۔ نیچے گرے ہوئے پھلوں کو اکٹھا کرکے زمین میں دبا دیں یا انہیں جلا دیا جائے۔ آم کے پودوں پر کاپر آکسی کلورائیڈ 250گرام یا تھائیوفینیٹ میتھائل 250گرام یا میٹالکسل + مینکوزیب 250گرام 100لیٹر پانی میں ملا کر 15دن کے وقفہ سے دو بار سپرے کریں۔ باغات سے پانی نکالنے کے بعد زمین وتر آنے پر ہلکا ہل چلائیں یا کّسی سے آم کے پودوں کے نیچے ہلکی گوڈی کریں تاکہ چکنی مٹی کی وجہ سے بنی ہوئی سخت تہہ ٹوٹ جائے اور آکسیجن کا گزر آسان ہو سکے۔ جن باغات میں سڈن ڈیتھ (اچانک مرجھاﺅ) کا حملہ ہو وہاں ہل چلانے سے اجتناب کیا جائے۔ترجمان کے مطابق پودے کو پھپھوندی، بیماریوں اور زیادہ نمی کے اثرات سے بچانے کے لئے 10کلوگرام لائم فی پودا استعمال کریں اور درختوں کی جڑوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے فی پودا 1کلوگرام کاپر سلفیٹ جڑوں میں ڈالیں۔ 2کلوگرام امونیم نائٹریٹ اور 80تا 100کلوگر ام گوبر کی کھاد فی پودا استعمال کریں تاکہ پودوں کو نمی جذب کرنے میں آسانی ہو۔

 

مزید :

کامرس -