اے ای ڈی بی نے بخش سولر کولیٹرآف سپورٹ دینے کی منظوری دیدی

اے ای ڈی بی نے بخش سولر کولیٹرآف سپورٹ دینے کی منظوری دیدی

  

 کراچی(اکنامک رپورٹر) متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ(اے ای ڈی بی) نے بخش سولر پرائیویٹ لمیٹڈ کو بہاولپور اور چولستان میں 10میگاواٹ کے سولرپاور جنریشن کی تنصیب کیلئے ملک کے سب سے پہلے لیٹرآف سپورٹ (ایل اوایس) دینے کی منظوری دیدی ۔بخش سولر ،بخش انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کی خصوصی گاڑی ہے جس کو 10میگاواٹ سولرآئی پی پی کی سہولت کےلئے تیار کیا گیا ہے اوریہ ملتان الیکٹرک پاورکمپنی (میپکو) کو بجلی فروخت کرے گا۔ مجوزہ منصوبے کی تنصیبی صلاحیت 10 میگا واٹ ہے اوراس سے تیارہونیوالی بجلی میپکوکو فراہم کی جائے گی۔پاور پلانٹ بجلی پیدا کرنے کےلئے ایندھن کے طور پر شمسی توانائی کو استعمال کرے گا اور 16,731 میگاواٹ سالانہ بجلی پیداکرنے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کارلائے گا۔اس کے علاوہ BSPL کوحال ہی میں اپ فرنٹ ٹیرف اور جنریشن لائسنس کے غیرمشروط اطلاق سے نوازا گیا ہے۔

 اوراس کے لئے نیپرا سے منظوری بھی مل چکی ہے۔ 10 میگاواٹ کا سولر آئی پی پی پاکستان میں سب سے پہلا منصوبہ اور ڈسکوزکے ساتھ بڑے پیمانے پر بجلی کی خریداری کے معاہدے کا مظہرہوگا۔10 میگاواٹ کے سولرآئی پی پی کے علاوہ بخش انرجی 2009 میں اپنے قیام کے بعد پاکستان کی سرکردہ انرجی منیجمنٹ کمپنی کے طورپرابھرکے سامنے آئی ہے جووسیع پیمانے پرمتنوع مارکیٹ طبقات میں شمسی توانائی کے انضمام پرکام کر رہی ہے۔بخش انرجی کے چیئرمین عاصم بخش نے کہا ہے کہ موسم گرما میںملک کی اوسط قابل انحصار بجلی کی صلاحیت 15,000میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ بجلی کی اکثرکمی کے باعث پاکستان اپنے جی ڈی پی کا تقریبا 3 فیصدکھو رہا ہے حتی کہ لوڈشیڈنگ کے بحران پرقابوپانے کیلئے آئی پی پیزکو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے ۔بجلی کی طلب میں اضافہ اوررسد میں کمی کی وجہ سے پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بدترین بجلی کے بحران سے دوچارہے ۔ انھوں نے کہا کہ 10 میگاواٹ سولرآئی پی پی پاکستان میںایک نمائشی پیش روسولرآئی پی پی کی حیثیت سے کا م کرے گا جوبعدازاں منافع بخش، پائیدار اورماحول دوست سلوشنزکے ساتھ ملک کے توانائی کے بحران کوحل کرنے کیلئے ایک کامیاب مقدمے کا نمائندہ ثابت ہوگا۔ بخش انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کی ڈائریکٹرفضا فرحان نے کہا ہے کہ بخش انرجی 10 میگاواٹ کے سولرجنریشن منصوبوں کی تنصیب میں اضافہ کیلئے غیر ملکی EPC کمپنیوں کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت بھی لائے گی۔

مزید :

کامرس -