50 فیصد پراپر ٹی ٹیکس اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیے بغیر ہی ختم کرنیکا نوٹیفکیشن

50 فیصد پراپر ٹی ٹیکس اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیے بغیر ہی ختم کرنیکا ...

  

     لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب بھر میں پراپرٹی ٹیکس کی ریکوری کے حوالے سے ابہام ختم نہ ہوسکا ہے۔پراپرٹی ٹیکس میں 50فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کئے بغیر ہی 50فیصد سے زائد ٹیکس ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔جبکہ ٹیکس میں اضافے سے قبل شہریوں کو پی ٹی 13کے نوٹسز بھی جاری نہیں کئے گئے۔معلوم ہوا ہے کہ ملک کے دیگر تین صوبوں کے برعکس پنجاب نے مالی سال 2014-15کے دوران صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا ہے۔فنانس ایکٹ2014کے تحت پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کی شرح دوگنا سے بھی زیادہ مقرر کی گئی۔لیکن بعد ازاں صوبائی حکومت یہ شرح 50فیصد تک اضافے میں تبدیل کردی ۔ اس سلسلے میں صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب کی طر ف سے 3ستمبر2014کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ جس کے تحت عوام الناس کو مطلع کیا گیا ہے کہ 50فیصد سے زائد پراپرٹی ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے۔ کہ صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں 50فیصد اضافے کے حوالے سے نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے۔جس کے باعث ٹیکس ریکوری میں ابہام پایا جاتا ہے۔ کیونکہ 50فیصد سے زائد پراپرٹی ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفکیشن تو موجود ہے۔ لیکن 50فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی جائیداد میں تبدیلی اورترمیم کے بعد یا ٹیکس میں اضافے سے قبل جائیداد کے مالک کوپی ٹی 13کا نوٹس ارسال کیا جاتا ہے۔ جس کے تحت اسے 14دن کا وقت دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کے متعلق اعتراض یا اپیل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ لیکن صوبے بھر میں ٹیکس میں اضافے کے باوجود عوام کو پی ٹی 13کے نوٹس ارسال نہیں کئے گئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ یکم جولائی 2014ی بجائے یکم اگست 2014سے کیا گیا ہے۔ حالانکہ پراپرٹی ٹیکس سالانہ اور12ماہ کا ٹیکس ہوتا ہے۔ ایسے میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ عوام سے ماہ جولائی کا پراپرٹی ٹیکس گزشتہ ریٹس کے تحت وصول کررہا ہے۔اور بقیہ 11ماہ کا ٹیکس50فیصد اضافے کے ساتھ وصول کیا جارہا ہے۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ محکمے کا عملہ بہت سے ٹیکس گزاروں سے ماہ جولائی کا ٹیکس پچھلے ریٹس کے تحت وصول کرنے کی بجائے12مہینوں کا یکساں ڈیمانڈ نوٹس ارسال کررہا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یکم اگست سے ٹیکس لاگو ہونے کے باوجود احکامات موصول نہ ہونے کی وجہ سے عوام الناس کو19اگست تک پراپرٹی ٹیکس کے چالان ارسال نہیں کیئے گئے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب خالد مسعود چودھری کا کہنا ہے کہ صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں 50فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے۔اور گورنر پنجاب نے 50فیصد سے زائد پراپرٹی ٹیکس کو کالعدم قرار بھی دیدیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ دیگر تین صوبوں میں پراپرٹی ٹیکس کی شرح میں اضافے کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتے۔اور ماہ جولائی کا ٹیکس پرانے ریٹس کے تحت وصول کیا جارہاہے۔ جبکہ بقیہ 11مہینوں کا ٹیکس 50فیصد اضافے کے ساتھ وصول کیا جارہا ہے۔

نوٹیفیکیشن

مزید :

صفحہ آخر -