3 سال میں 3900 شہریوں کو زہر دیکر مار ڈالا گیا

3 سال میں 3900 شہریوں کو زہر دیکر مار ڈالا گیا

  

                  لاہور(زاہد علی خان) نوسر بازوں نے صوبائی دارالحکومت میں اندھیر نگری مچا دی، گزشتہ تین سال کے دوران 3900شہریوں کو زہریلی اشیاءکھلا کر موت کے گھاٹ اتار کر غائب ہو گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ لاہور پولیس نے کسی بھی واردات کا مقدمہ درج نہیں کیا بلکہ اسے صرف عام وارداتیں فرار کر کے مقتولین کو یا تو لاوارث قرار دیکر پولیس نے از خود قبرستانوں میں دفنایا یا انہیں ورثاءکے حوالے بری الذمہ ہو گئی جبکہ آج تک نہ کوئی گروہ پکڑا گیا اور نہ ہی ایسی وارداتوں کے خلاف درج کئے گئے۔قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی وارداتیں دراصل قتل کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ نوسر باز سادہ لوح شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا دے کر لوٹ رہے ہیں ایسے گروہ ....بسکٹ، روٹی، سالن، یا مشروب میں زہر ملا کر کھانے کے بعد سونا نقدی اور دوسرا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں ایک بڑے پولیس افسر نے بتایا کہ ان وارداتوں پر پولیس قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے کیونکہ کسی شخص کو قتل کر کے لوٹنا بڑا جرم ہوتا ہے یہ ضروری نہیں کہ واردات میں مزاحمت پر اسلحہ استعمال کیا جائے ۔زہر دے کر مارنا از خود سنگین جرم ہے۔ ایک ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ چونکہ ملزم نامعلوم ہوتے ہیں لہٰذا پولیس اس پر توجہ نہیں دیتی بلکہ اگر ایسے مقدمات میں ملزموں کی تلاش اور گرفتاری لازمی ہوتی ہے لہٰذا پولیس اس پر وردی میں نہیں پڑھی بلکہ جان چھڑانے کیلئے یا تو نامعلوم ملزموں کے خلاف نوسر بازی کا مقدمہ درج کر لیتی ہے یا روزنامچے میں اس کی تفصیلاً ریٹ درج کرلیتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ایسی وارداتیں پارکوں ، بسوں، ٹرینوں اور رش والی جگہوں پر کی جا رہی ہے ایک رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر دیہاتی ، سادہ لوح شہری اور دوسرے شہروں سے آنے والے وہ لوگ ہیں جن کی لاہور میں زیادہ واقفیت نہیں ہوتی، بتایا گیا ہے کہ بعض ہوٹلوں میں بھی ایسے گروہ سرگرم ہیں جن سے بعض پولیس اہلکار اپنا حصہ بھی وصول کرتے ہیں یہ پولیس اہلکار نوسر بازوں کے ساتھی ہوتے ہیں، سابق ایس ایس پی چوہدری احمد خان چدھڑ نے بتایا یہ جرم عملاً قتل کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی سزا موت ہونی چاہئے مگر پولیس ایسے مقدمات سے گریز کرتی ہے ایک ....میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے دوسرا پولیس افسران میں اتنی قابلیت ہی ہوتی اور وہ بعض اوقات افسران کی باز پرس سے بچنے کے لئے مقدمات کی روزنامچے میں رپٹ لکھ کر جان چھڑا لیتے ہیں، احمد خان چدھڑ نے مزید بتایا کہ ان کی مزاحمت کے دور میں بھی نوسر بازی ہوتی تھی مگر ایسی باتیں بہت کم ہیں نوسر بازوں کا لوٹنے کا طریقہ مختلف تھا۔ وہ رقم دوگنی کرنے راستے میں سونے کی کوئی چیز پھینک کرلوگوں کو لوٹتے تھے، انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو زہریلی چیز کھلا کر موت کے گھاٹ اتارنا اور لوٹ کر لے جانا اصل میں قتل اور ڈکیتی کا مقدمہ درج ہونا چاہئے مگر شہر کے مختلف علاقوں میں یہ گروہ دندناتا پھرتا ہے اور پولیس اسے اہمیت نہیں دیتی۔ ریٹائرڈ ایس ایس پی سی آئی اے چوہدری سعود عزیز نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں تین نوسر بازوں کا گروہ گرفتار کیا تھا ان ملزموں نے تفتیش کے دوران دو خواتین اور ایک ادھیڑ عمر شخص کو زہریلی مٹھائی کھلا کر ہلاک کرنے کا انکشاف کیا جس پر ان کے خلاف قتل کے مقدمات درج کر لئے گئے، ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یہ وارداتیں سٹی ڈویژن ریلوے پولیس کی حدود میں زیادہ ہیں۔

زہر اور موت کا کھیل

مزید :

صفحہ آخر -