با غبانپورہ، اغوا شدہ 9 سالہ بچے کی نعش رنگ روڈ سے بر آمد، سپرد خاک کر دیا گیا

با غبانپورہ، اغوا شدہ 9 سالہ بچے کی نعش رنگ روڈ سے بر آمد، سپرد خاک کر دیا گیا

  

لاہور(بلال چودھری)باغبانپورہ کے علاقہ میں شادی والے گھر سے 8اکتوبر کو اغواء کیے گئے 9سالہ بچے کی نعش گزشتہ روز رنگ روڈ سے برآمد،پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کی نعش کو ورثا کے حوالے کر دیا جسے بعد ازاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ وزیر اعلٰی پنجاب نے دوسری جماعت کے طالب علم عبداللہ کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لیتے وئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق باغبانپورہ کے علاقہ محمود بوٹی مسجد حیات بی بی آرے والا سٹاپ کے رہائشی سعید احمد رحمانی کے گھر میں 8اکتوبر کو شادی تھی جس کی دوپہر کو 3بجے کے قریب نا معلوم ملزمان ان کے 9سالہ بچے محمدعبداللہکو اٹھا کر لے گئے ۔نمائندہ’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول عبداللہ کے والد محمد سعید نے بتایا کہ میرے 5بچے ہیں اورعبداللہسب سے بڑا تھا۔اس کے پر اسرار طور پر غائب ہونے پر ہم نے ہسپتالوں اور دیگر جگہوں پر اس کی تلاش کی لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔ تھانہ باغبانپورہ میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے کے لیے ہم گئے لیکن پولیس اہلکاروں نے لیت و لعل سے کام لینا شروع کر دیا اور دو دن چکر لگانے کے بعد اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا۔اس کے بعد13اکتوبر کی رات کو 11بجے کے قریب رنگ روڈ پر راہگیروں کو عبداللہکی نعش ملی جس کو تشدد کر کے قتل کیا گیا تھا جبکہ اس سے بد اخلاقی کا بھی امکان ہے ۔پولیس کی جانب سے قتل کا مقدمہ باغبانپورہ تھانہ میں درج کیا گیا جس میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مقتول کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا جسے بعد ازاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں محمود بوٹی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے 9سالہعبداللہکے ساتھ بد اخلاقی کے بعد قتل کیئے جانے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔مقتول عبداللہ کو سپردخاک کرنے کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی۔عبداللہکی نعش جب پوسٹ مارٹم کے بعد محمود بوٹی میں واقع اس کی رہائش گاہ پر پہنچی تو پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی جبکہ ڈی ایس پی کینٹ سمیت پولیس کے دیگر افسران بھی موقع پر موجود تھے ا۔ہل علاقہ کی کثیر تعداد نے مقتول کی نماز جنازہ میں شرکت کی اس موقع پر اہل علاقہ نے پولیس حکام سے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

علاقائی -