پیپلز پارٹی کو جس نے چھوڑا ٹھوکریں کھائیں ،سیاست میں سینہ چوڑا ،گردن جھکا کر رکھنی پڑتی ہے ،زرداری

پیپلز پارٹی کو جس نے چھوڑا ٹھوکریں کھائیں ،سیاست میں سینہ چوڑا ،گردن جھکا کر ...

  

                                            لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلاول ہاﺅس لاہور میں پیپلز پارٹی ویمن ونگ کی رہنماﺅں اور ورکر سے ملاقات کی ۔اس موقع پر ثمینہ خالد گھرکی ‘ بیلم حسنین ‘ شمیم خان نیازی‘ فرخندہ ملک‘ جہان آراءوٹو شائستہ خان لودھی‘ اور میمونہ مشتاق بھی موجود تھیں ۔آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں آ پ کو شہید بی بی کی بیٹیوں اور بیٹوں کی طرح سمجھتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ باقی جماعتیں عورتوں کی حقوق کی بات کرتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے کو حقوق دئیے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ ایک خاتون کو سپیکر قومی اسمبلی بنایا پیپلز پارٹی نے پہلی خاتون وزیر خارجہ بنائی ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی وزیر اطلاعات اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بھی ایک خاتون کو بنایا ےہ سب ہم نے بھٹو شہید سے سیکھا تھا ۔بھٹو شہید نے بیگم رعنالیاقت علی خان کو سندھ کا گورنر اور بیگم اشرف عباسی کو ڈپٹی سپیکر بنایا۔انہوںنے کہا کہ آپ سب میرے لئے آصفہ اور بختاور کی طرح ہیں اور آصفہ آئندہ سال ہی اپنی تعلیم مکمل کرکے آپ کے ساتھ شامل ہو کر اپنی سیاست کا آغاز کریں گی ۔انہوں نے کہا کہ میری بہنیں بھی الیکشن میں حصہ لئے بغیر اسمبلی پہنچ سکتیں تھیں لیکن دونوں عام انتخابات میں حصہ لیکر اسمبلی تک پہنچیں پیپلز پارٹی کوشش میں رہی ہے کہ جہاں بھی گنجائش بنے عورتوں کو آگے آنے کا موقع دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میری دونوں ایڈوائیزر جیالیاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جلسے کے بعد واپس لاہور آﺅں گا اور آپ کے بچوں اور خاندانوں سے ملوں گا تاکہ نئی پود سیاست میں آ سکے ۔انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ ہر طرح کی پو لیٹیکل گیم کھیلی گئی ہے اور دجال نے بھی میرے ساتھ پولیٹیکل گیم کی ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب چاہے گی تب الیکشن ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو جو بھی چھوڑ کر گیا اس نے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں سینہ چوڑا اور گردن جھکا کر رکھنی پڑتی ہے کچھ دوستوں کے سینے چوڑے ہوں گے مگر گردن سیدھی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جتنا مذاق پاکستانی میڈیا پر سیاست دانوں کا اڑایا جاتا ہے اتنا امریکہ اور برطانیہ میں بھی نہیں اڑایا جاتا ہے اس طرح اگر عوام کا سیاست دانوں پر اعتماد ختم ہوتا رہا تو ملک کون سنھبالے گا ۔ ڈکٹیٹر اور ٹیکنو کریٹ نہ تو ملک بنا سکتے ہیں اور نہ ہی چلا سکتے ہیں صرف سیاست دانوں کے دور میں پاکستان کی ترقی ہوئی دنیا بھر میں ملک بنانے اور چلانے والے سیاست دان ہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پارلیمنٹ وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ایشوز پر نواز شریف کی حکومت پر تنقید کریں گے ان کو اکناملک ایشوز پر چیلنج کریں گے مگر پارلیمنٹ کو گرنے نہیں دیں گے ۔انہوں نے خواتین کو کہا کہ وہ اپنی سیاست کا دائرہ وسیع کریں وہ چاہیں گے کہ بیگم پگا نوالہ ایک ہزار خواتین دیں اسی طرح دوسری خواتین راہنماﺅں کو بھی نئی خواتین کو پارٹی میں لانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -