مارشل لاءکے بادل چھٹ گئے ہیں مگر ابھی تک جمہوریت حالت نزع سے نہیں نکلی،سراج الحق

مارشل لاءکے بادل چھٹ گئے ہیں مگر ابھی تک جمہوریت حالت نزع سے نہیں نکلی،سراج ...

  

                                      لاہور)خصوصی رپورٹ(امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر چہ ملک پر منڈلاتے مارشل لاءکے بادل چھٹ گئے ہیں مگر ابھی تک جمہوریت حالت نزع سے نہیں نکلی۔سیاسی جرگہ نے اخلاص نیت سے ملک کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی ۔ہم نے حکومت ،عوامی تحریک اور تحریک انصاف کو بچاﺅ کا ایک راستہ دکھایا تھا ، تحریک انصاف کے ساتھ جن امور پر اتفاق ہوا تھاحکومت اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ ان پر اخلاص نیت سے کاربند ہے ۔اگرچہ ایک ڈیڈ لاک ابھی بھی موجود ہے مگر تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا ۔مڈٹرم الیکشن کیلئے حکومتی رویہ گنجائش پیدا کررہاہے ،اگرچہ اس کا امکان کم تھا مگر حکومت عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر شفقت محمود چوہان کی قیادت میں منصورہ میں ان سے ملاقات کرنے والے بار کے عہدیداران کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وفد میں سیکریٹری بار محمد احمد چھچھرایڈووکیٹ ،نائب صدر عامر جلیل صدیقی ایڈووکیٹ،میاں محمد اقبال ایڈووکیٹ،اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ ،محمد احمد کلیار ایڈووکیٹ اور اسعد جمال اکبر ایڈدوکیٹ شامل تھے ،جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان کے ہمراہ نائب امیر اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے وفد کااستقبال کیا ۔وفد نے سراج الحق کو سیاسی جرگہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ ہائیکورٹ بار کے دورہ کی دعوت دی ۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ۔سراج الحق نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری پر بھارتی گولہ باری سے تباہ ہونے والی بستیوں کا دورہ کیا ،شہداءکے گھروں میں گیا اور زخمیوں کی خیریت دریافت کی ، مجھے بتایا گیا کہ ابھی تک کوئی حکومتی اور سرکاری عہدیدار ان کی خبر گیری کیلئے نہیں آیا ،انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جارحیت کا جرا¿ت مندی سے جواب دے ،انہوں نے کہا کہ اندرونی اختلافات کے باوجود دشمن کے مقابلے میں ہم سب ایک ہےں ،اگر بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا،ہندوستان بڑا ملک ہے جسے جنگ کی صورت میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر مودی یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس کی گیدڑ بھبھکیوں سے ڈر کر کشمیر سے دستبردار ہوجائیں گے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -