وزیراعظم نااہلی کیس ، الزامات کا دارومدار گواہ اور ثبوت پر ہے ، آرٹیکل 62,63شامل کرنیوالا خود غاصب تھا: سپریم کورٹ

وزیراعظم نااہلی کیس ، الزامات کا دارومدار گواہ اور ثبوت پر ہے ، آرٹیکل ...
وزیراعظم نااہلی کیس ، الزامات کا دارومدار گواہ اور ثبوت پر ہے ، آرٹیکل 62,63شامل کرنیوالا خود غاصب تھا: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ درخواست گزار کے بقول وزیراعظم صادق اور امین نہیں تو کیا ایسے وزیراعظم کا بیان حلفی سچاہوگا؟ تحریک انصاف کے الزامات کا دارومدار گواہ اور ثبوت پر ہے اور اس سلسلے میں صرف فوج کے ترجمان کا ایک ٹوئیٹ موجود ہے ، دیکھناہوگاکہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں کیا الفاظ استعمال ہوئے ، آئین میں آرٹیکل 62اور63ڈالنے والا خود غاصب تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیراعظم کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کی ۔

دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان نے گوہرنواز سندھو سے استفسارکیاکہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں ، کیا کوئی ٹوئیٹ قابل یقین ہوسکتی ہے ؟ ترجمان کا اعلامیہ بھی فوج کے لیے نہیں ، آرمی چیف سے متعلق تھا،فوج کے سربراہ موقف پیش کرنے میڈیا پر نہیں آئے، ترجمان تمام معاملے کا براہ راست گواہ نہیں تھا۔

درخواست گزار کے وکیل گوہرنواز سندھ کاکہناتھاکہ یہ سیاسی نہیں ، قانونی معاملہ ہے ، عدالت فیصلہ دے سکتی ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ صادق اور امین کا مطالبہ پارلیمنٹ کے باہربھی ہے لیکن آرٹیکل 62,63آئین میں شامل کرنیوالا خود غاصب تھا۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہاکہ فوج کی بدنامی کا نقطہ بھی سامنے آسکتاہے جس پر جسٹس جواد نے کہاکہ بدنامی پر صرف فوج کو ہی رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -