چاند کی گرم سطح پر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے : امریکی سائنسدان

چاند کی گرم سطح پر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے : امریکی سائنسدان
چاند کی گرم سطح پر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے : امریکی سائنسدان

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر لاوا نکلنے کا عمل ختم نہیں بلکہ آہستہ ہوگیا ہے جس کے باعث چاند کی سطح انتہائی گرم ہوچکی ہے جس پر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناساکی جانب سے جاری ہونیوالی اس نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چاند کی سطح پر لاوا سے بنی چٹانوں کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جو 10 کروڑ سال پرانی ہیں۔ سائنسدان جون کیلر کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے بعد ماہرین ارضیات کو چاند سے متعلق کتابوں میں لکھی گئی تاریخ کو دوبارہ سے لکھنا پڑےگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے یہ ذخیرے پورے چاند پر بکھرے پڑے ہیں جو چاند کی کالی سطح پر واجھ طور پر دیکھے جاسکتے ہیں تاہم زمین کی سطح سے انہیں نہیں دیکھا جاسکتا، ان چٹانوں کا اوسط سائز 500 میٹر ہے۔ ان چٹانوں کو ”اینا“ کہا جاتا ہے جسکا اپولو 15 کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر کی مدد سے مطالعہ کیا گیا ہے۔نئی تھقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے 70 مقامات چاند پر موجود ہیں جو لاوا کے ابلنے سے وجود میں آئے ہیں، یہ چاند کی زمین کی تاریخ میں انتہائی اہم بات ہے۔ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں پڑنےوالے گڑھے بھی مقابلتاً نئے ہیں جو 5 کروڑ پرانے ہوسکتے ہی ں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لاوا ابلنے کا یہ عمل 3 ارب سال سے جاری ہے، کئی نئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چاند کی اندرونی سطح ہماری سوچ سے بھی زیادہ گرم ہے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -