موت کے بعد بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے، جدید تحقیق

موت کے بعد بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے، جدید تحقیق
موت کے بعد بھی دماغ کام کرتا رہتا ہے، جدید تحقیق

  

لندن(نیوزڈیسک)جدید ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ کسی بھی انسان کی موت کے بعد بھی اس کا دماغ کام کرتا رہتا ہے اگر چہ اس کی جسمانی موت یقینی ہوچکی ہوتی ہے لیکن دماغ زندہ رہتا ہے۔ اس ضمن میں ساﺅتھ ٹھمپئن یونیورسٹی نے دو ہزار مریضوں پر چار سال تک تحقیق کی اور اس تحقیق میں 15 ہسپتالوں کو ڈیٹا بھی استعمال ہوا۔ اس تحقیق کا ایک لائن میں نتیجہ یہ تھا کہ موت کے چند منٹوں بعد تک شعور بیدار ہی رہتا ہے۔ گویا مردے کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ ایک مریض نے تو یہ بتایا کہ اسے لگا جیسے وہ پھر سے ہوش میں آرہا ہے۔ 57 سالہ سوشل ورکر تین منٹ کے لئے مردہ ہوا۔ گویا اس کی موت کا اعلان کردیا گیا لیکن فوراً اسی نرسوں کے چیخنے اور مشینوں کی آوازیں سنائی دینے لگی اس پر ڈاکٹر پرینا کہتے ہیں کہ جب دل کام کرنا بند کردیتا ہے تو ہمین موت کا اعلان کرنا پڑتا ہے لیکن اس وقت انسانی دماغ کام کررہا ہوتا ہے لیکن پھر 20 سے 30 سیکنڈ کے بعد دماغ کی بتیاں بھی گل ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ڈاکٹر پرینا موت کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ موت کسی مخصوص لمحے کا نام نہیں بلکہ کسی بیماری یاحادثے کی وجہ سے دل، پھپھڑے اور دماغ کا کام کرنا بند کردیں تو اسے موت ڈکلیئر کردیا جاتاہے۔ ان اعضا کو دوبارہ کارآمد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ کوشش ناکام ہوجائے تو موت یقینی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -