’’رمی‘‘:شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا تاریخی جائزہ

’’رمی‘‘:شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا تاریخی جائزہ
’’رمی‘‘:شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا تاریخی جائزہ

  

اللہ نے انسان کو پیدا کرتے وقت ہی شیطان کے ہتھکنڈوں اور اس کے دجل و فریب سے ہوشیار رہ کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن تخلیق آدم علیہ السلام سے لے کر روزِ قیامت تک انسان اور ابلیس کے درمیان کشمکش کا سلسلہ منقطع ہوتا دکھائی نہیں دیتا، شیطان کے ہتھکنڈوں اور اس کی فریب کاریوں کے مظاہرے دُنیا کے مختلف ممالک میں صاف دکھائی دیتے ہیں، علامہ اقبالؒ نے ٹھیک ہی کہا تھا:

کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں

اسلامی فرائض کی ادائیگی میں سب سے مشکل مرحلہ حج کے دوران جمرات کو کنکریاں مارنے کا ہے، ’’جمرات‘‘ تین مقامات پر واقع ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پر مناسک حج کے دوران قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بجائے اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے محبوب لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر دینے کا فیصلہ کر لیا تھا، چنانچہ جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر مِنیٰ میں پہنچے تو تین مقامات پر شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے اور بیٹے کی قربانی سے روک کر اللہ کی نافرمانی پر اُکسانے کی کوشش کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان تینوں مقامات پر جمرۂ اُولی، جمرۂ وسطی(درمیانہ) اور جمرۂ عقبہ (آخری) پر شیطان کو چھوٹی چھوٹی سات سات کنکریاں مار کر دفع کرنے کا اقدام کیا تھا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے لختِ جگر اسماعیل علیہ السلام کو لٹا کر گردن پر چھری پھیر دینے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے کے ذریعے بیٹے کی جگہ جنت سے مینڈھا ذبح کرا دیا گیا تھا۔۔۔شیطان کو تین مقامات پر سات سات کنکریاں مارنے کا عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ یہ عمل مناسک حج کی ادائیگی کا حصہ بنا دیا گیا، جس کے مطابق ہر سال حاجی اللہ کے احکام اور سنتِ ابراہیمی ؑ و رسول اللہؐ کے مطابق شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ عمل ایک علامتی درجے میں ہے، جس کا مقصد ہر مسلمان کو تربیت دینا ہے کہ زندگی کے ہرمرحلے میں شیطان جہاں جہاں بھی ورغلانے اور کسی نیک کام سے روکنے کی کوشش کرے، اسے مار بھگایا جائے اور اپنے آپ کو شیطانی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔

مناسک حج کی ادائیگی کے دوران جب سے اُمت مسلمہ کی خوشحالی کے باعث عازمین حج کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اُس وقت سے عموماً جمرات پر کنکریاں مارتے وقت بدنظمی اور بھگدڑ مچنے کی وجہ سے حاجیوں کی شہادت کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،جبکہ حکومت سعودی عرب نے مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں حجاج کرام کے لئے سہولتیں اور ہر قسم کی آسائشیں فراہم کرنے کے لئے لائق صد تحسین و آفریں اقدامات کئے ہیں جمرات پر کنکریاں مارنے کا جہاں ہموار زمین پر اکہرا انتظام تھا ،اب وہاں چار منزلہ کشادہ نظام موجود ہے، جس کی وجہ سے جمرات پر حادثات میں خاصی کمی آئی ہے، لیکن کنکریاں مارنے کے اعلیٰ انتظامات کے باوجود اس سال شیطان نے ایسے حربے استعمال کئے کہ بھاری تعداد میں حجاج کرام شہید و زخمی ہو گئے ہیں۔اس حادثہ فاجعہ نے پوری دُنیائے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اُمت مسلمہ کے افراد کی بدنظمی، باہمی کشمکش اور نفرت کے مظاہرے نے اب مناسک حج و عمرہ کی ادائیگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، غیر مسلموں کی سازش کے تحت اب اسلامی شعائر پر بھی لب کشائی اور یاوہ گوئی ہونے لگی ہے کہ مسلمان مٹی سے بنے ستونوں (جمرات) کو کنکریاں مار کر شیطان کا سر کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا اس سے شیطان مر جائے گا؟

رمی مخالف کو سنگسار کرنے کا تاریخی جائزہ:

مِنٰی میں جس طرح احکام الٰہی اور سنتِ ابراہیمی ؑ کی مخالفت کرنے والے شیطان کو کنکریاں مار کر سنگسار کرنے کا عمل بروئے کار آتا ہے، یہ اپنے مخالف اور دشمن کے خلاف نفرت و حقارت کی علامت کے طور پر ہے، کوئی شخص بھی یہ ہر گز نہیں سمجھتا کہ اس اقدام سے شیطان یا مخالف کا عملی طور پر سر کچلا جاتا اور اس کا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتاہے۔ جیسا کہ بعض اسلام مخالف پروپیگنڈا باز یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسلمان اتنے سو سال سے شیطان کو کنکریاں مارتے چلے آ رہے ہیں، پھر بھی شیطان زندہ رہ گیا ہے؟ حج کے موقع پر جمرات کو ماری جانے والی ننھی اور چھوٹی کنکریاں شیطان کو کیانقصان پہنچا سکتی ہیں؟ مسلمانوں کو بے نتیجہ کار گزاری میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ غیر مسلموں کے پراپیگنڈے کا مقصد مسلمانوں کو اسلامی شعائر سے متنفر اور مایوس کرنا ہے،جبکہ اپنے مخالف اور دشمن کو سنگسار کرنے اور اس کی قبر وغیرہ پر بھی پتھر پھینک کر اظہارِ نفرت کرنے کے واقعات قدیم زمانے سے چلے آ رہے ہیں ۔ دُنیا کے ہر مذہب اور قوم میں کسی نہ کسی صورت میں اس طرز عمل کا رواج رہا ہے ،جیسا کہ حضرت نوع علیہ اسلام کی قوم نے ان کی اصلاح کوشش اور احکام الٰہی کی تبلیغ کے جواب میں جو کہا تھا ، قرآن مجید کی سورہ شعراء116میں ان الفاظ کے ساتھ اس کا تذکرہ ہے: ’’اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں سے ہو گے جو سنگسار کئے گئے تھے‘‘۔

گویا مخالف کو سنگسار کر دینے اور اس پر پتھر پھینکنے کی رسم حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اسی طرح اہل مدین نے حضرت شعیب علیہ السلام کی تبلیغ و نصیحت کے جواب میں کہا تھا، قرآن کریم کی سورہ ہود 91میں اس کا ان الفاظ میں تذکرہ ہے۔۔۔ (آیت کا ترجمہ) ’’اے شعیب! جو باتیں آپ کر رہے ہیں ،ان میں سے بہت سی باتیں ہم نہیں سمجھتے اور ہم تجھے اپنے اندر کمزور اور ضعیف سمجھتے ہیں ، اگر تیرے ساتھ تیرا قبیلہ نہ ہوتا تو ’’لرجمناک‘‘(ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور تو کسی طور پر بھی ہم پر غلبہ پانے والا نہیں ہے‘‘)۔۔۔قرآن کریم میں بیان کردہ ان دو حوالوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مخالف اور دشمن کے خلاف غیظ و غضب اور نفرت کا اظہار اور سنگساری کا عمل زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔

عیسائیوں اورعربوں میں بھی سنگساری کا رواج:

مسیحی کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیر کا درخت دیکھ کر اس کا پھل کھانا چاہا، جب آپ درخت کے قریب گئے تو موسم نہ ہونے کے سبب وہاں پتوں اور شاخوں کے سوا کچھ نہیں تھا، اس پر آپ نے اظہار ناراضگی کی صورت میں فرمایا تو کبھی پھل دار نہیں ہو گا، چنانچہ انجیر کا وہ درخت خشک ہو گیا اور اس کا وجود ختم ہو گیا تھا، لیکن عیسائی اب تک مسلسل اس جگہ کو سنگسار کر رہے ہیں۔ یہ جگہ بیت المقدس سے جبل زیتون کو جاتے ہوئے بائیں جانب واقع ہے اور انجیل مقدس متّٰی کے اکیسویں باب آیت نمبر19میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔۔۔علاوہ ازیں زمانہ جاہلیت (قبل از اسلام) میں عرب کے لوگ جسے قابلِ نفرت سمجھتے، اُس کی قبر پر پتھر برساتے تھے، چنانچہ ’’ابو رغال‘‘ نامی شخص کی قبر پر اِس لئے سنگساری کرتے اور پتھر برساتے تھے کہ اس نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ معظمہ پر حملہ کر کے بیت اللہ کو گرا دینے کے مذموم ارادے سے آنے والے یمن کے حبشی گورنر ابرہہ کی مدد کی اور اس کا ساتھ دیا تھا، لیکن وہ حملہ آور کے ہمراہ مکہ معظمہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔

اہلِ مکہ اسلام سے پہلے کے دور میں ’’ابو رغال‘‘ کی قبر پر پتھر پھینک کر اس کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات کا اظہار کیا کرتے تھے، جبکہ ’’ابو رغال‘‘ کو تو کوئی بدنی تکلیف نہیں پہنچتی تھی۔ بہرنوع میدان مِنٰی میں بھی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل اظہارِ نفرت و حقارت کی علامت کے ساتھ ساتھ اُمت مسلمہ کو عملاً ترغیب اور تربیت دینا ہے کہ وہ زندگی میں شیطان اور اس کے چیلوں چانٹوں سے نفرت و حقارت کا مظاہرہ کرتے رہا کریں اور طاغوتی طاقتوں کے حربوں سے دامن بچانے کی جدوجہد کرتے رہیں، نیز ہر وقت یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران مشکل مرحلہ جمرات پر کنکریاں مارنے کا ہے اور انسانی زندگی میں بھی سب سے مشکل کام اپنے دامن کو شیطان کے شرور وفتن سے محفوظ رکھنے کا ہے۔ مِنٰی کے مقام پر رمی کرنا حضرت خلیل اللہ ؑ اور حضرت رسول اللہؐ کی سنت اور طریق کار بھی ہے اور اپنے ظاہر و باطن کو شیطنت سے محفوظ رہنے کی ریہرسل اور تربیت بھی۔ جس طرح جمرات پر باہر کے شیطان کو کنکریاں مار کر اظہارِ نفرت کیا جاتا ہے،اِسی طرح ہر شخص کو چاہئے کہ باطن کے شیطان کو بھی سنگسار کرنے کی راہ اختیارکرے، کیونکہ نفسِ امارہ کو مارنا بھی ایک جہاد ہے، ذوق نے کیا خوب کہا ہے:

ننگ و اژدھا و شیر نر مارا تو کیا مارا

بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا

رمی کا مقصد شیطانوں کو کنکریاں مارنا ہے، انسانوں کو نہیں

بہر نوع بات ہو رہی تھی رمی اور جمرات پر کنکریاں مارنے کی۔ اس کا مقصد زندگی کے تمام مراحل میں طاغوتی اثرات زائل کر کے صحیح ، غیر ضرر رساں اور سراپا امن و سلامتی مسلمان بنانا ہے، اِسی لئے مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی کو گالی گلوچ دینے، لڑائی جھگڑے، باہمدگر کشمکش حتیٰ کہ مکھی مچھر مارنے اور شکاری کے لئے شکار کی نشاندہی اور اشارہ کرنے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے، عازم حج وعمرہ کو اس حد تک احتیاط کی تعلیم دی گئی ہے، کیا وہ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی بے احتیاطی اختیار کر کے محض جلدی فارغ ہو جانے کی غرض سے کسی حاجی کو دھکا دے کر آگے بڑھ سکتا اور مجمع میں افراتفری پھیلا سکتا ہے؟ اور بھگدڑ مچا کر معصوم حاجیوں کو شہید کر سکتا ہے؟جہاں تک مِنٰی میں کنکریاں مارتے وقت بھگدڑ مچنے کے باعث سینکڑوں حجاج کرام کے شہید و زخمی اور لاپتہ ہو جانے کا تعلق ہے، اس سلسلے میں سعودی حکومت کے انتظامات اور حجاج کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے میں قطعاً کوئی کوتاہی نظر نہیں آتی۔ مِنٰی جمرات کے لئے چار منزلہ پل کشادہ راستے اور دیوار نما جمرے تعمیر کر کے یک طرفہ سڑکیں بنا دی گئی ہیں تاکہ کنکریاں مارنے کے بعد کوئی شخص مجمع کو چیرتا اور زورِ بازو کا مظاہرہ کرتا ہواواپس نہ آئے، بلکہ آگے جا کر حسبِ ہدایت اپنے خیموں میں چلا جائے، اِس طرح ہر حاجی خطرناک اور مہلک صورت حال سے محفوظ رہے گا

اس کے باوجود مجمع میں سے کوئی جلد بازی اور لاقانونیت کا مظاہرہ کر کے یا کوئی سیاسی اور مسلکی تنگ نظری سے یا کسی سازش کے تحت وہاں گڑ بڑ اور افراتفری پھیلانے کی مکروہ حرکت کرے تو اسے سعودی حکومت کی نااہلی یا بدانتظامی ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ بھگدڑ مچانے والے اور سیاسی گرگوں کی مکروہ اور مذموم کوشش قرار دی جا سکتی ہے:حکومت سعودی کو اس حادثے کے اسباب و محرکات معلوم کرنے کے لئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔۔۔نیز حرمین شریفین کے تقدس کا تقاضا بھی ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر اسلام دشمن طاقتوں اور ان کے آلۂ کار اور اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے خواہشمندانہ مذموم عزائم رکھنے والے بدفطرت افراد کی گرفت کریں اور وحدت اُمہ کے جذبات کے ساتھ سعودی حکومت کے ساتھ تعاون کر کے عازمین حج کو درپیش مسائل اور مشکلات حل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے اور ہر وقت اسلام دشمنوں کے شرور و فتن سے محفوظ رہنے کی اللہ سے دُعابھی کرتے رہنا چاہئے۔۔۔علاوہ ازیں حرم شریف کی طرف مناسک حج ادا کرتے وقت تمام اہم مراکز خصوصاً جمرات پر بڑے کیمرے نصب ہونے چاہئیں تاکہ سازشی عناصر کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جا سکے۔

مزید :

کالم -