ہنی مون پر گئی دلہن نے مچھلی کھائی اور کھاتے ہی دم توڑگئی، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ بھی جانئے اور اس ایک چیز سے ہمیشہ پرہیز کریں

ہنی مون پر گئی دلہن نے مچھلی کھائی اور کھاتے ہی دم توڑگئی، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ...
ہنی مون پر گئی دلہن نے مچھلی کھائی اور کھاتے ہی دم توڑگئی، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ بھی جانئے اور اس ایک چیز سے ہمیشہ پرہیز کریں

  

میکسیکو سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) میکسیکو میں ایک دلہن نے ہنی مون کے دوران مچھلی کھائی جس کے فوراً بعد اس کی موت واقع ہو گئی اور جب ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا تو ایسی وجہ سامنے آ گئی کہ آپ مچھلی کھانے سے تائب ہو جائیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق3بچوں کی ماں 54سالہ کرسٹین فینسوم اور 58سالہ اینڈی بینیٹس کی کچھ روز قبل شادی ہوئی تھی اور وہ ہنی مون پر میکسیکو میں موجود تھے۔ وہاں کرسٹین نے مچھلی کھائی جس کے فوراً بعد اسے ہارٹ اٹیک آیا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے ہارٹ اٹیک کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس نے جو مچھلی کھائی تھی اس میں خود رو زہریلی سمندری جڑی بوٹی ”الجی“ کے اثرات موجود تھے۔ یہ جڑی بوٹی انتہائی زہریلی ہوتی ہے۔ چنانچہ مچھلی کھانے سے وہ زہر کرسٹین کے جسم میں پھیل گیا اور ہارٹ اٹیک کا باعث بن گیا۔

آدمی تین سال تک اپنی مردہ بیوی اور بچے کی لاشوں کے ساتھ رہتا رہا ،کیا سمجھ کر ایسا کرتا رہا؟جان کر آپ کو بھی بے حد دکھ ہوگا

برطانوی دلہن کرسٹین کے بھائی جیمز بوائر کا کہنا تھا کہ ”میری بہن کی موت اس زہریلی مچھلی کے باعث ہوئی۔ اس سانحے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بیرون ملک جا کر کھانے پینے کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ عموماً لوگ اس طرح کی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوتے لیکن یہ بہت خطرناک ہو سکتی ہیں اوران کے باعث جان بھی جانے کا خدشہ ہوتا ہے جیسا کہ کرسٹین کے ساتھ ہوا۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے خلیج میکسیکو میں اس زہریلی جڑی بوٹی کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے جو سمندر میں موجود پتھروں پر اگتی ہے اور مچھلیاں اسے کھاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میکسیکو میں پائی جانے والی مچھلیوں میں اس زہر کی موجودگی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -