’اب افغانستان سے مل کر دونوں طرف سے پاکستان کا پانی بند کردیں گے‘ بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور انتہائی خطرناک منصوبے پر کام شروع کردیا

’اب افغانستان سے مل کر دونوں طرف سے پاکستان کا پانی بند کردیں گے‘ بھارت نے ...
’اب افغانستان سے مل کر دونوں طرف سے پاکستان کا پانی بند کردیں گے‘ بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور انتہائی خطرناک منصوبے پر کام شروع کردیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے اور پانی بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے اور اب اس نے اپنے ان مذموم مقاصد میں افغانستان کو بھی ساتھ ملا لیا ہے اور مل کر پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ موجود ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاﺅں پر کوئی تعمیرات نہیں کر سکتا مگر پھر بھی وہ ہمارے دریاﺅں پر بند باندھ رہا ہے اور ڈیم بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے مابین ایسا کوئی معاہدہ موجودنہیں حالانکہ اس کے کئی دریا پاکستان میں آتے ہیں۔

”امریکی صدارتی انتخابات کے دوران یہ ملک ایٹمی میزائل چلا دے گا “انتہائی خطرناک دعویٰ منظر عام پرآ گیا،پوری امریکی حکومت ہل کر رہ گئی

اعلیٰ بھارتی حکومتی ذرائع کے حوالے سے ٹائمز آف انڈیا نے بتایا ہے کہ اب بھارت نے ان دریاﺅں پر بند باندھنے اور ڈیم بنانے میں افغانستان کی معاونت شروع کر دی ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان آنے والے پانی کو روکا جا سکے۔ اب تک افغانستان ان دریاﺅں سے بالکل استفادہ نہیں کر رہا تھا اور ان کا تمام پانی براہ راست پاکستان آ رہا تھا۔ افغانستان کے پاکستانی آنے والے ان مشرقی دریاﺅں میں دریائے کابل بالخصوص قابل ذکر ہے اور بھارت اس پرخصوصی طور پر بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگانے میں افغانستان کی معاونت کر رہا ہے۔

ذرائع نے ٹائمز آف انڈیا کو مزید بتایا کہ دریائے کابل اور دریائے چناب میں کافی مماثلت ہے۔ان دونوں میں پانی کی مقدار بھی لگ بھگ برابر ہے جو 2کروڑ30لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ افغانستان اس دریا پر بجلی کے پیداواری منصوبے لگانے کے لیے بے چین ہے۔ اس کے علاوہ وہ دریائے کنڑ اور دریائے چترال پر بھی ایسے منصوبے لگانا چاہتا ہے۔ یہ دریا بھی سیدھے پاکستان میں آتے ہیں۔ ان دریاﺅں پر تعمیراتی کام کرکے بھارت پاکستان کو ایک سخت پیغام دے سکتا ہے۔ افغان صدر محمد اشرف غنی جب گزشتہ ماہ بھارت آئے تھے تو انہوں نے یہ منصوبے خصوصی طور پر موضوع گفتگو بنائے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -