80فیصد شیشہ کیفے بند کروا دیئے، خفیہ کیفے چلانے والے بھی نہیں بچیں گے، محسن ذوالفقار

80فیصد شیشہ کیفے بند کروا دیئے، خفیہ کیفے چلانے والے بھی نہیں بچیں گے، محسن ...

  

لاہور ( پ ر) لاہور شہر کے مختلف علاقوں میں80 فیصد شیشہ کیفے ضلعی حکومت کی مدد سے بند ہو چکے ہیں کیونکہ یہ منشیات کی محفوظ پناہ گاہیں بن چکی تھیں اب بھی خفیہ طور پر چلائے جانے والے شیشہ کیفوں کی لسٹ تیار کر لی گئی ہے اور جلدہی ان خفیہ کیفوں کو ضلعی حکومت کی مددسے بند کر دیا جائے گا۔ یہ بات انچارج سکول پروگرام یوتھ کونسل فار اینٹی نارکوٹکس محسن ذوالفقار نے گورنمنٹ اسلامیہ بوائیز ہائی سکول لاہور کینٹ میں شیشہ کیفوں کے ذریعے منشیات کے استعمال کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی صدارت پرنسپل قاضی سرفرازنے کی۔ اس موقعہ پرکونسلریو تھ کونسل فار اینٹی نارکوٹکس کبریٰ امتیاز نے بھی خطاب کیا۔ محسن ذوالفقار نے کہا کہ دکانوں پر کھلے عام شیشہ پینے کے لیے سامان کی فروخت جاری ہے اور جلدہی شیشہ کیفوں کے خلاف مسودہ قانون صوبے میں نافذ ہونے سے اسکی فروخت اور استعمال میں کمی واقع ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے دوران نوجوان فیشن اور دوستوں کی غلط دوستی کی وجہ سے سافٹ ڈرگ کا سہارا لیتے ہیں آہستہ آہستہ پھر نشہ پر انحصار شروع کر دیتے ہیں والدین اور گھر کے دیگر افراد کو کئی ماہ بعد بچے کے نشہ کے استعمال کا پتہ چلتا ہے۔ نشہ ایک عادت ہے جو بعد میں بیماری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔اس موقعہ پر لاہور میں جاری منشیات کے خلاف مہم کو تیز کرنے کیلیے مختلف اقدامات کے باے آگاہ کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -