حالات کو بدلنے کی ذمہ داری میری بھی ہے

حالات کو بدلنے کی ذمہ داری میری بھی ہے
 حالات کو بدلنے کی ذمہ داری میری بھی ہے

  

جس طرح مسلمانوں کا بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پیغمبر اعظمؐ پر ماہ رمضان میں قرآن مجید نازل فرمایا تھا۔ اسی طرح ہر پاکستانی کے علم میں ہے کہ اسلام کے نام پر طلب کیا گیا یہ ملک ہمیں رب کائنات نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں عطاکیا تھا۔ ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اگر حضور نبی کریمؐ کی توجہ اور دعائیں ہمیں میسر نہ ہوتیں تو ہم کبھی بھی قائد اعظمؒ کی قیادت میں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی اور نظریاتی مملکت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتے۔ میرے ایک دوست ملک سرفراز، جو ایک بینک منیجر ہیں، وہ پاکستان کے حال اور مستقبل کے حوالے سے اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والا یہ ملک کب ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور فلاحی پاکستان میں تبدیل ہوگا؟ وہ پاکستان جس کا عام شہری بھی اپنی معاشی زندگی سے مطمئن ہوگا، ترقی اور خوشخالی میں تمام پاکستانیوں کو شریک کیا جائے گا اور کوئی شہری بھی اپنی محرومیوں پر آنسو بہانے پر مجبور نظر نہیں آئے گا؟۔۔۔ میرا اس سوال پر مختصر جواب یہ ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت سے نوازا تھا، اُس نے ہمیں یہ توفیق بھی دے رکھی ہے کہ ہم اپنی تقدیر خود لکھیں۔ ہم میں سے ہر فرد اگر ملت کے مقدر کو بدلنے کے لئے اپنا اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنے کا فیصلہ کرلے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک دنیا کے عظیم ترین ممالک کی صف میں کھڑا ہوا دکھائی نہ دے۔

سیاست دانوں کا حال تو ہم سب کے علم میں ہے۔ ان سیاست دانوں نے اپنے ذاتی مفادات ، اغراض اور مصلحتوں ہی کو ہمیشہ عزیز رکھا ہے۔ قومی مفاد کبھی ان کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہ سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف ماضی اور حال میں بدعنوانیوں اور بداعمالیوں کے جتنے الزامات عائد کرچکے ہیں، اگر وہ الزامات درست ہیں تو پھر موجودہ سیاسی قیادت میں کوئی بھی دیانت دار باقی نہیں رہتا۔ اگر ان کے الزامات جھوٹے ہیں تو پھر وہ صادق نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ہم ان سارے سیاست دانوں کے بیانات ایک کتاب میں جمع کردیں تو پھر کوئی ایک بھی سیاست دان نہ صادق نظر آئے گا اور نہ ہی دیانت دار ۔۔۔ میں نے اپنے دوست ملک سرفراز سے کہا کہ تمام سیاست دانوں کو ایک طرف رکھ دیں اور ایک لمحے کے لئے یہ سوچیں کہ بطور مسلمان اور بطور پاکستانی بھی ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اگر ہم سب اپنی ذاتی ترقی، ذاتی جائیدادوں اور ذاتی خوشحالی کے تنگ دائروں سے باہر نکل آئیں اور یہ ٹھان لیں کہ ہم نے پاکستان کی مجموعی ترقی اور قوم کی اجتماعی خوشحالی کے لئے اپنا ہر قدم اٹھانا ہے تو اس کا نتیجہ سارے پاکستان کے لئے خوشیوں اور برکتوں کا باعث ہوگا اور ہم سب بھی خوشحال ہو جائیں گے۔ اگر ہم صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان کی خوشحالی اور اپنے بچوں کے لئے بہتر سے بہتر ملازمتوں کے لئے سوچیں گے اور اپنی ترقی کو پاکستان کی ترقی سے مربوط نہیں کریں گے تو پاکستان کبھی خوشحال نہیں ہوگا۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ معاشی حالات پاکستان کے حق میں جتنے زیادہ سازگار ہوں گے، اتنے ہی زیادہ ہم فائدے میں رہیں گے۔

ہمیں سیاست دانوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود پر انحصار کرنا ہوگا۔ جو سیاست دان پاکستان کے سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی معاملات کوبہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ان کو ہمیں آئندہ الیکشن میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ مسترد کردینا چاہیے۔ ہم میں سے سب کو، چاہے کوئی مزدور ہے، کسان ہے، کلرک ہے، وکیل ہے، استاد ہے، ڈاکٹر ہے، سپاہی ہے، جرنیل ہے، تانگہ بان ہے، رکشہ چلاتا ہے، سرکاری ملازم ہے یا کوئی پرائیویٹ نوکری کرتا ہے، ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان جو عطیہ خداوندی ہے، وہ پاکستان جو محمد مصطفی ؐ کے فیضان نظر سے ہمیں عطا ہوا ہے، وہ پاکستان جسے قائد اعظمؒ نے اسلام کا مضبوط ترین قلعہ قرار دیا تھا، اگر اس پاکستان کے قومی مفادات سے کوئی غداری کرتا ہے تو ہم سب کو اس کا احتساب کرنا چاہیے اور احتساب کا سب سے موثر راستہ انتخابات میں بددیانت اور نااہل سیاسی قیادت کے خلاف اپنا ووٹ دینا ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں بطور قوم اپنی طاقت کا شعور ہی نہیں۔ جس دن ہمیں یہ علم ہو جائے گا کہ پاکستان کو جتنے امراض اور جتنے دکھ لاحق ہیں، ان کے ذمہ دار کون لوگ ہیں اور کون سیاست دان ہیں جو پاکستان کی شب گزیدہ سحر کو حقیقی صبح میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ اور جس روز ہمیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ بدعنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا تمام تر اختیار بھی ہمارے ہاتھوں میں ہے اور جس دن ہمیں یہ بھی احساس ہو جائے گا کہ پاکستان کی قومی زندگی کو تباہ کُن حالات سے دو چار رکھنے میں ہم بھی ذمہ دار ہیں تو اُسی دن پاکستان میں مثبت تبدیلی کا اِمکان پیدا ہو جائے گا۔

جس طرح پاکستان کا وجود میں آنا ہندوستان کے مسلمانوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح پاکستان میں تبدیلی بھی پاکستانیوں کے اجتماعی احساس کے بیدار ہونے سے آئے گی۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو حصول پاکستان کے لئے ہر چھوٹے بڑے نے اپنا کردار ادا کیاتھا۔ اب بھی امیر، غریب، کلرک، وکیل، مزدور، کسان،طالب علم اور چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ افسر تک سب کو پہلے اپنی سوچ اور کردار بدلنا ہوگا،پھر ہمارے اجتماعی شعور کے نتیجے میں اس سیاسی قیادت کو ملکی سیاست سے با ہر نکالنا ہوگا جو پاکستان کے حالات بدلنے کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت ہم میں نہ کوئی فرقہ واریت کا تعصب تھا اور نہ ہی ہم صوبائی تعصبات میں گرفتار تھے۔ ہم سب مسلمان اور ایک قوم تھے۔ اب بھی ہمیں اپنی صفوں میں ویسا ہی اتحاد پیدا کرنا، اور اپنے اندر قومی وحدت پیدا کرنے کے لئے ہمیں نظریۂ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو مستحکم بنانا ہوگا۔ اپنے آپ کو ایک اچھا مسلمان بنائے بغیر ہم اچھے پاکستانی بھی ثابت نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اگر ہم انفرادی طور پر تبدیل نہیں ہوں گے تو ہماری قومی زندگی میں بھی تبدیلی نہیں آئے گا۔ نپو لین نے کہا تھا کہ افراد کو نہیں بلکہ فرد کو اصل اہمیت حاصل ہے۔ جب فرد تبدیل ہوگا تو معاشرہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اگر ہم کہیں ظلم اور نا انصافی دیکھتے ہیں یا ہم اپنے اوپر ظلم برداشت کرکے خاموش ہو جاتے ہیں تو ہم بھی منافقت کا شکار ہیں اور ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ جب تک ہمارے جسم زندہ ہیں اور جب تک ہماری زبان میں طاقت ہے، ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔ جب ہم خاموش رہتے ہیں تو ظالم اور زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ ہم حق و صداقت کی گواہی دیں گے تو سچائی کا پلڑا بھاری ہوگا اور ظلم و نا انصافی کرنے والا میدان سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ جس روز پاکستان کی ساری مظلوم مخلوق یہ فیصلہ کرلے گی کہ ہم نے ظلم، استحصال، نا انصافی اور معاشی عدم مساوات کو برداشت نہیں کرنا، اس وقت پاکستان کا بڑے سے بڑا ظالم اپنی ساری سرکشی بھول جائے گا۔۔۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ’’اگر کتوں میں بھی احساسِ ذلت بیدار ہو جائے تو وہ اپنے آقاؤں کی ہڈیاں تک چبالیں‘‘۔۔۔ ہم تو پھر انسان ہیں، شعور رکھنے والی مخلوق ہیں۔ ہم اپنے ذلت میں ڈوبے ہوئے حالات کو تبدیل کرنے کے لئے اپنا کردار کیوں ادا نہیں کرتے؟ وہ سیاست دان جن کے پاس کل تک سائیکلبھی نہیں تھا، آج ان کے پاس چار چار لینڈ کروزر ہیں۔

وہ سیاست دان جن کے پاس 5مرلے کا مکان بھی کسی شہر میں نہیں تھا، آج ان کی کوٹھیوں اور بنگلوں کا حساب لگانا ممکن نہیں۔ وہ سیاست دان جن کی بچت پورے سال کے بعد چند ہزار روپے بھی نہیں تھی، آج وہ کروڑوں اور اربوں روپے کے مالک کیسے بن گئے؟ جن لوگوں نے ملک کا قومی خزانہ لوٹ کر اربوں روپے کا سرمایہ بیرون پاکستان منتقل کردیا ہے۔ کبھی تو ان کا حساب لینے کے لئے قوم کو اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ساری سیاسی جماعتوں میں پاکستان کو اور ہمارے قومی سرمائے کو لوٹنے والے موجود ہیں۔ پاکستان کو برباد کرنے والے شخص کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اس کا احتساب ہونا چاہیے، اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے کسی لٹیرے سیاست دان کے احتساب کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے تو پھر اس سیاسی جماعت کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔ اگر ظلم کرنے والوں کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر اس کا عذاب پوری قوم پر مسلط ہو جاتا ہے۔ جن افرادنے بھی ہماری قومی زندگی کو بے ثمر بنا کر رکھ دیا ہے، ان کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے ملک میں وہ وقت کبھی نہ آئے اور وہ حالات کبھی پیدا نہ ہوں، جس صورت حال کے بعد ہماری پوری قوم ہی قابلِ علاج قرار پائے۔ اگر حالات کی خرابی وہاں تک چلی گئی تو پھر منیر نیازی نے اس کا ایک ہی حل بتایا ہے:

اِس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے

پھر اس کی خاک کو بھی اُڑا دینا چاہیے

حد سے گزر گئی ہے یہاں رسمِ قاہری

اس دہر کو اب اس کی سزا دینا چاہیے

مزید :

کالم -