دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے عملی تعاون کی ضرورت

دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے عملی تعاون کی ضرورت

  

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لئے پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی کارروائیوں اور کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اپنی بریفنگ کے دوران بتایا کہ ممبئی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بارے میں ٹھوس شواہد نہیں تاہم امریکہ ممبئی حملے کے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی رسائی روکنے کے لئے پاکستان مزید اقدامات کرے۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ لڑتا رہے گا پاکستان کو دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دینا چاہئے۔ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دہشت گرد ریاست قرار دینے کے مطالبے کا مقصد ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعاون کے تمام راستے بند کر رہا ہے، بھارت کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے کوئی شواہد اور ثبوت نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان فوراً اِس کا جواب دیتا،ممبئی حملے کی تحقیقات بھارتی عدمِ تعاون کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ اُڑی حملے کے شواہد کا بھی بھارت نے تبادلہ نہیں کیا،ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ اُڑی حملے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بھارت اِس طرف بھی نہیں آتا، ہم الزام تراشی کے اِس کھیل سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اس کے خاتمے کے لئے پاکستان سے زیادہ قربانیاں کسی مُلک نے نہیں دیں۔

دہشت گردی کی جنگ امریکہ نے جب سے شروع کی ہے اِس میں اُسے جزوی کامیابیاں ہی حاصل ہوئی ہیں تو کیا اِس سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خاتمے میں دلچسپی نہیں رکھتا؟ اِس لئے امریکہ اور بھارت سمیت ہر کسی کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستان نے اپنی بساط سے بڑھ کر کوششیں کی ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے اور ابھی تک یہ سلسلہ رُکا نہیں، بلکہ جاری ہے تاہم یہ تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستان کوبھی اُسی طرح سو فیصد کامیابیاں نہیں مل سکیں، جس طرح امریکہ کو تمام تر کوششوں کے باوجود دہشت گردی کے خاتمے میں کلی کامیابی نہیں ہوئی، امریکی کوششوں کو البتہ اِس حد تک کامیاب ضرور قرار دیا جا سکتا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ کے اندر اِس طرح کا کوئی حملہ نہیں ہوا،البتہ جہاں جہاں امریکی اور نیٹو افواج لڑ رہی ہیں وہاں اُنہیں کامیابیاں بھی ہوئی ہیں اور ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

کابل میں ہر جگہ امریکی اور نیٹو کی فوج موجود ہے،لیکن اس کے باوجود وہاں دہشت گردی ہو جاتی ہے،ایسے واقعات کے بعد اگر کوئی یہ کہے چونکہ امریکی اور نیٹو فوجی کابل میں دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے، اِس لئے امریکہ یہ چاہتا ہی نہیں ہے تو یہ معاملے کی درست تصویر کشی نہیں ہو گی، اِسی طرح پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اگر دہشت گردی کی وارداتیں پوری طرح نہیں رُک سکیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پاکستان کی کوششوں کو شکوک و شبہات کی عینک لگا کر دیکھا جائے، امریکی حکومت چونکہ خود اِس صورتِ حال سے گزر رہی ہے اِس لئے اس راستے کی مشکلات کا اندازہ اُسے بہت اچھی طرح ہونا چاہئے۔

بھارت میں حالیہ دِنوں میں جس علاقے(اُڑی)میں دہشت گردی ہوئی ہے وہ علاقہ سیکیورٹی کے لحاظ سے اتنا زیادہ محفوظ ہے کہ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، بھارت نے چار کلو میٹر کے علاقے میں تین تہوں والا سیکیورٹی حصار قائم کیا ہوا ہے اِس کے باوجود اگر وہاں دہشت گردی کی واردات ہو گئی ہے تو بھارت کو اپنے سارے سیکیورٹی نظام کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے۔پاکستان پر الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اس سے زیادہ اور کیا ہو گا کہ پاکستان بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے، بھارت کو چاہئے کہ اِس سلسلے میں امریکہ سے باقاعدہ درخواست کر دے۔ امریکی فوجی آ کر جائزہ لے لیں گے اور اپنی تحقیقات سے بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیں گے۔بھارت اگر اِس جانب نہیںآتا تو اُسے لازماً اندازہ ہو گا کہ پاکستان پر الزام تراشی کا بھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوٹ جائے گا دہشت گردی تو رہی ایک طرف، بھارت کے پاس تو اس سرجیکل سٹرائیک کے بھی کوئی ثبوت نہیں، جس کا ڈھول وہ پیٹ رہا ہے، پاکستان نے بین الاقوامی صحافیوں کو اس علاقے کا دروہ کرایا تھا، جس کے متعلق کہا گیا کہ وہاں سرجیکل سٹرائیک ہوئی تھی وہاں تو ایسے کوئی آثار نہیں ملے جہاں بمباری ہوتی ہے وہاں دور دور تک ایسے شواہد بکھر جاتے ہیں،جو اپنا ثبوت آپ ہوتے ہیں۔ یہ عجیب سرجیکل سٹرائیک تھی جس نے زمین پر تو کوئی نام و نشان نہیں چھوڑا،لیکن بھارت پروپیگنڈے کے ذریعے اسے درست ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے، حالانکہ بھارت کے اندر اس پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں، البتہ جب کوئی ثبوت مانگتا ہے تو اسے ’’غدار‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اُڑی حملے کی بین الاقوامی تحقیقات پر بھارت اگر راضی ہو جائے تو اس پر بہت سی حقیقتیں آشکار ہو جائیں گی۔

امریکی دفتر خارجہ نے تو یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے، بھارت نے اِس واقعے کے بعد بھی پاکستان پر بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی شروع کر دی تھی اور آج تک کرتا چلا آ رہا ہے جب شواہد کی بات آتی ہے تو وہ مہیا نہیں کئے جاتے۔ پاکستان کی عدالتوں میں جن لوگوں کے خلاف مقدمات دائر ہوئے وہ عدم ثبوت کی بنیاد پر خارج ہو گئے،اب امریکہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بھارت کی اِس الزام تراشی کا نہ صرف باریک بینی سے جائزہ لے بلکہ اُسے یہ بھی باور کرائے کہ محض الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ بھارت کو دہشت گردی پر واقعتاً قابو پانے میں اگر دلچسپی ہے تو وہ پاکستان کے ساتھ تعاون کرے اس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، عملی اقدامات کے بغیر زبانی جمع خرچ اور لفظی جنگ سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

مزید :

اداریہ -