بھارتی گجرات میں کیجریوال، حافظ سعید اسامہ اور برہان وانی کے پوسٹر آویزاں

بھارتی گجرات میں کیجریوال، حافظ سعید اسامہ اور برہان وانی کے پوسٹر آویزاں
 بھارتی گجرات میں کیجریوال، حافظ سعید اسامہ اور برہان وانی کے پوسٹر آویزاں

  

احمد آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی حکومت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت مانگنے پر نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھارتیہ جنتا پارٹی کے تابڑ توڑ حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ،کیجریوال کے ہندوستانی ریاست گجرات کے 4روزہ دورے کے دوران پوری ریاست میں راتوں رات کیجریوال ،اسامہ بن لادن ،حافظ سعید اور مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی تصاویر پر مبنی بینر آویزاں کر دیئے گئے۔بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے (جمعہ)سے بھارتی گجرات کا 4روزہ دورہ شروع کیا ہوا ہے ،مودی حکومت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے دعویٰ کے بعد عام آدی پارٹی کے سربراہ نے حکومتی دعویٰ کے ثبوت مانگے تھے،جس پر انہیں مودی حکومت کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اب گجرات کے دورہ کے موقع پر کیجریوال کی مخالفت میں جگہ جگہ تصویری پوسٹرز اور بینرز آویزاں کئے گئے ہیں جن میں نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ کی تصویر کے ساتھ القائدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن ،جماعت الداعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی تصویریں آویزاں کی گئی ہیں۔ان پوسٹرز کے حوالے سے بی جے پی کے ترجمان بھرت پنڈیا کا کہنا تھا کہ عوام میں کیجریوال کے حوالے سے شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ،گجرات سرحدی ریاست ہے ، یہ پوسٹرز حکومتی جماعت نہیں بلکہ گجرات کے عوام لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب کیجریوال پاکستانی سوشل میڈیا میں ہیرو بننے کے لئے سرجیکل سٹرائیک اور فوج کی توہین کریں گے تو گجرات کی عوام انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گے۔دوسری طرف ان پوسٹرز کے حوالے سے ریاست میں سیاسی بازار گرم ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ اس سیاسی گرما گرمی کو قبل اَز وقت انتخابات کی دھمک کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی گجرات کے انچارج گلاب سنگھ یادیو کا کہنا ہے کہ ایسے پوسٹرز کا لگنا بی جے ہی کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے ،مودی حکومت جھوٹ بول کر اور بے بنیاد الزام تراشی کر کے اروند کیجریوال کی مقبولیت کو کم نہیں کر سکتی

مزید :

علاقائی -