مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے :آذر بائیجان

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے :آذر بائیجان

  

باکو (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے لیکن افسوس ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہیں کرتا اور اس سلسلہ میں پاکستان کے مشکور ہیں لہٰذا پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلقات اور رابطوں کو فروغ دیں گے،وزیراعظم نوازشریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ دعوت قبول کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کا شکر گزار ہوں ۔پاکستان ہمارا قریبی دوست ہے۔ پاکستان ان پہلے ملکوں میں شامل ہے جس نے آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کیا‘عالمی فورمز پر دونوں ملک ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ الہام علیوف نے کہا کہ پاک فوج کیساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہے تاہم آذربائیجان پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا اور پاک فوج کیساتھ بھی تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے اقتصادی شعبوں میں تعاون میں مزید اضافہ ہونا چاہئے۔ اقتصادی شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے طریقہ کار وضع کرسکتے ہیں ‘ ادویہ سازی کے شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر بات چیت بھی کی گئی ہے۔ مذاکرات میں دفاعی شعبے میں تعاون پر بات ہوئی اور مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان دفاع کے شعبہ میں بہت ترقی کرچکا ہے اور پا کستان سے دفاعی آلات کی خریداری میں د لچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات ہوئی ہے۔ پاکستان آذربائیجان کو عسکری تربیت فراہم کرسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں۔ علاقائی سلامتی کیلئے دونوں ملکوں کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ علاقائی روابط کے لئے دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم محمد نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بہتری دوستانہ تعلقات ہیں۔ آذربائیجان کے دورے کی دعوت دینے پر صدر الہام علیوف کا مشکور ہوں اور بہترین مہمان نوازی پر شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان سرائے دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات کا عکاس ہے۔ مستقبل ہمارا ہے‘ علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان ی سماجی اور اقتصادی ترقی قابل تعریف ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان کا عالمی فورم پر موقف یکساں ہے۔ دونوں ملکوں کا اتفاق ہے کہ علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ علاقے کے متنازع مسائل مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں تاہم امن کی خواہش کو کمزور ی نہ سمجھا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر اور نگوروکاراباخ پر دونوں ملکوں کی ایک دوسرے کی حمایت اچھے تعلقات کی مظہر ہے۔ نگورو کاراباخ کے مقبوضہ علاقے کی آذربائیجان کو واپسی چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،سی پیک علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گااس موقع پر مشترکہ تعلقات کی توثیق کے لئے مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی کئے ہیں۔ تجارت‘ معیشت‘ زراعت‘ دفاع‘ توانائی سمیت مختلف شعبوں پر تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان امن کیلئے کام کرتے رہیں گے ، آذر بائیجان کی سیاسی ، ثقافتی اور معاشی ترقی قابل تعریف ہے ، دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں قبل ازیں وزیراعظم محمد نوازشریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات،اقتصادی سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ہم علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،سی پیک علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔جمعہ کو وزیراعظم محمد نوازشریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا،اقتصادی،تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کیے گئے جس میں وزیراعظم محمد نوازشریف اورصدر الہام علیوف نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ملاقات کے دوران آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کا دورہ کرنے پر وزیراعظم کے مشکور ہیں۔الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مستحکم بنانے کا خواہاں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ہم ایک دوسرے کی باہمی مفاد کے تمام امور پر حمایت کرتے ہیں۔اسی دوران وزیراعظم محمد نوازشریف نے پرتباک استقبال پر آذربائیجان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان کا دورہ کرنے پرمجھے بہت خوشی ہوئی،باکوکی ایک جدید اور خوبصورت شہر میں تبدیلی پر خوشی ہوئی،آذربائیجان نے نصف صدی میں شاندار ترقی کی ہے اور اس کی خوشحالی قابل تعریف ہے،آذربائیجان مسلم امہ کیلئے ایک ماڈل رول کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان اور آذربائیجان دو برادر ملک ہیں،دونوں ملکوں کو باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ سی پیک علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا،ہمیں خطے کی استعداد سے استفادہ کرنا ہے۔وزیراعظم نے سی پیک کے تحت توانائی،بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے آگاہ کیا،ہم علاقائی رابطوں کو مربوط بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔دریں اثنا وزیراعظم محمد نواز شریف نے آذر بائیجان کے ہم منصب سے ملاقات کی ہے،انہوں نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے آذر بائیجان کے ہم منصب سے ملاقات کی ہے،انہوں نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے آذر بائیجان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے،وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آذر بائیجان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -