سندھ میں میرج ہال رات 10بجے بند کرنے کا فیصلہ مسترد

سندھ میں میرج ہال رات 10بجے بند کرنے کا فیصلہ مسترد

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میرج ہال رات دس بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ شادی کی تقریبات میں ون ڈش کی پابندی بھی عائد کردی گئی ہے اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ بازار اور دکانیں سات بجے شام بند ہو جایا کریں گی۔ یہ تینوں فیصلے اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت دور رس ہیں، لیکن ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا ان پر عملدرآمد بھی ممکن ہوسکے گا یا نہیں؟ ابھی ان فیصلوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہونا ہے اور وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق عملدرآمد سے پہلے تمام سٹیک ہولڈروں کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے گی گویا فیصلہ تو ہوگیا ہے، اب ظاہر ہے مشاورت اس بات پر ہوگی کہ اس پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟ میرج ہال والوں نے تو یہ فیصلہ مسترد کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت اس پر عملدرآمد نہیں کریں گے کیوں نہیں کریں گے؟ اس کا جواز بلکہ بہت سے جواز ان کے پاس ہوں گے لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے مشاورت کرلی جاتی، اگرچہ میرج ہالوں کے مالکان اور تاجروں نے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے تاہم اگر عملدرآمد ہوسکے تو اس کے کئی مثبت پہلو بھی سامنے آسکیں گے۔ اگرچہ دنیا بھر میں دکانیں ایک مقرہ وقت پر کھلتی اور بند ہوتی ہیں اور اس بات کو کبھی متنازعہ نہیں بنایا گیا لیکن پاکستان میں چونکہ بازاروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کبھی اس طرح مقرر ہی نہیں ہوئے اس لئے تاجر حضرات کے نزدیک یہ نئی بات ہے اور وہ اس حکم کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ پنجاب میں شادی ہال رات دس بجے بند ہو جاتے ہیں اور اس پر بڑی حد تک عملدرآمد ہوتا ہے، اسی طرح ون ڈش کی پابندی بھی کی جاتی ہے، دس بجے کے بعد کھلنے والے شادی ہالوں کو جرمانے وغیرہ بھی ہوتے ہیں تاہم فارم ہاؤسز پر نہ تو ایسی کسی پابندی کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ وہاں ون ڈش کی پابندی ہے۔ فارم ہاؤسز میں رات گئے تک فنکشن جاری رہ سکتے ہیں اور ایک سے زیادہ ڈشیں بھی مہمانوں کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ کراچی کے کلچر میں غالباً دس بجے کا وقت بہت جلدی ہے اور اگر اس پر بات چیت کرکے وقت تھوڑا بہت آگے پیچھے کرنا ممکن ہو تو کیا جاسکتا ہے لیکن میرج ہالوں کی جانب سے یہ سرکاری اعلان یکسر مسترد کردیا گیا ہے اس لئے دیکھنا ہوگا کہ سندھ حکومت اپنے فیصلے پر کس طرح عملدرآمد کراتی ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ حکومت کا بہت بڑا کریڈٹ ہوگا۔ سات بجے دکانیں اور بازار بند کرانے کے فیصلے کو بھی تاجروں کی تنظیموں نے مسترد کردیا ہے۔ یہ فیصلہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا پہلے بھی ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے بجلی کی بچت کیلئے دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا، چنانچہ چند دن اسکا تذکرہ رہا اور پھر سب کچھ پہلے کی طرح ہوگیا، یعنی جس کا جب جی چاہے دکان کھولے اور جب چاہے بند کردے۔ اب کی بار بھی لگتا ہے یہی ہوگا۔ کراچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ روشنیوں کا شہر ہے اور اس کی راتیں جاگتی ہیں لیکن بدامنی کے کئی برس ایسے گزرے ہیں جب روشنیوں کا یہ شہر غروب آفتاب سے بھی پہلے بند ہو جاتا تھا‘ ایسا ہوتا کہ کہیں سے گولیاں چلتیں دوچار لوگ قتل ہوتے اور مسلح افراد کا کوئی جتھا یہ اعلان کردیتا دکانیں بند کرکے گھروں کو لوٹ جائیں تو شہر آناً فاناً بند ہو جاتا۔ سوگ اور احتجاج کے نام پر ہڑتالیں عام تھیں لیکن اب دو برسوں سے ان عناصر کی نہیں سنی جا رہی جو اچانک دکانیں بند کرانے کیلئے آ دھمکتے تھے، اب ان کے ہڑتال کے اعلان بھی صدا بصحرا ثابت ہو رہے ہیں، اب اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر زبردستی عملدرآمد کرانے کی کوشش کی تو کیا احتجاج ہوگا؟ اس سوال پر تو وزیراعلیٰ کو پہلے غور کرلینا چاہئے تھا، لیکن انہوں نے اعلان پہلے کردیا ہے اور دکانداروں اور تاجروں کے نمائندوں سے مشورہ بعد میں کرنے کا اعلان کیا ہے اب دیکھیں انہیں اس میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا ناکامی؟ یکم نومبر کوئی زیادہ دور نہیں ہے۔

مزید :

تجزیہ -